کچھ لوگ مختلف شہروں میں قوم یوتھ کے مظاہروں کو بنیاد بنا کر مہاتما کو ایک ناگزیر مسیحا ثابت کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
میں مظاہرین کی تعداد میں جائے بغیر صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان مظاہرین میں مزدور کتنے تھے، کسانوں کی تعداد کیا تھی؟ وہ کتنی تعداد میں تھے جن کے ہاتھوں کی لکیریں تک مٹ چکی ہیں؟ ان کی تعداد کیا تھی جو یوٹیلٹی سٹورز پر قطاروں میں کھڑے ہوکر شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانے کے بعد قلیل سی رعایت کے بدلے ایک کلو گھی، ایک کلو چینی اور کالے آٹے کا ایک تھیلا لے کر امران کان کو واپس لاؤ کے نعرے لگا رہے تھے۔
ان میں جھگی نشین کتنے تھے؟ وہ کتنے تھے جو اپنے مکانوں کا کرایہ دینے کی سکت سے محروم ہوچکے ہیں؟ وہ کتنے ہیں جن کے بچے اس وجہ سے سکول نہیں جاسکتے کہ وہ روٹی پوری کریں یا بچوں کو تعلیم دلوائیں؟ اور پھر وہ کتنی بڑی تعداد میں تھے جو ان تین ساڑھے تین سالوں میں بے روزگار کردیے گئے؟ ان میں ان کی تعداد کتنی تھی جن کے حق انتخاب پر ڈاکہ مار کر امرانی حکومت کو برسراقتدار لایا گیا تھا۔ اور پھر وہ کتنے تھے جن کے عزیزوں کو ان کی نگاہوں کے سامنے اٹھا لیا گیا اور وہ آج بھی ان کی بازیابی کے لیے دربدر ہیں، ان میں شیعہ کلنگ کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین کی تعداد کتنی تھی؟ ان اقلیتوں کی تعداد کتنی تھی جن پر اس دوران عرصہ حیات تنگ کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔
رہے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں فیشن پریڈ کرنے والے یوتھیے تو وہ بہرحال کسی
کچھ لوگ مختلف شہروں میں قوم یوتھ کے مظاہروں کو بنیاد بنا کر مہاتما کو ایک ناگزیر مسیحا ثابت کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
میں مظاہرین کی تعداد میں جائے بغیر صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان مظاہرین میں مزدور کتنے تھے، کسانوں کی تعداد کیا تھی؟ وہ کتنی تعداد میں تھے جن کے ہاتھوں کی لکیریں تک مٹ چکی ہیں؟ ان کی تعداد کیا تھی جو یوٹیلٹی سٹورز پر قطاروں میں کھڑے ہوکر شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانے کے بعد قلیل سی رعایت کے بدلے ایک کلو گھی، ایک کلو چینی اور کالے آٹے کا ایک تھیلا لے کر امران کان کو واپس لاؤ کے نعرے لگا رہے تھے۔ان میں جھگی نشین کتنے تھے؟ وہ کتنے تھے جو اپنے مکانوں کا کرایہ دینے کی سکت سے محروم ہوچکے ہیں؟ وہ کتنے ہیں جن کے بچے اس وجہ سے سکول نہیں جاسکتے کہ وہ روٹی پوری کریں یا بچوں کو تعلیم دلوائیں؟ اور پھر وہ کتنی بڑی تعداد میں تھے جو ان تین ساڑھے تین سالوں میں بے روزگار کردیے گئے؟ ان میں ان کی تعداد کتنی تھی جن کے حق انتخاب پر ڈاکہ مار کر امرانی حکومت کو برسراقتدار لایا گیا تھا۔ اور پھر وہ کتنے تھے جن کے عزیزوں کو ان کی نگاہوں کے سامنے اٹھا لیا گیا اور وہ آج بھی ان کی بازیابی کے لیے دربدر ہیں، ان میں شیعہ کلنگ کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین کی تعداد کتنی تھی؟ ان اقلیتوں کی تعداد کتنی تھی جن پر اس دوران عرصہ حیات تنگ کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔
رہے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں فیشن پریڈ کرنے والے یوتھیے تو وہ بہرحال کسی شمار قطار میں نہیں ہیں کیونکہ یہ وہ بدبخت ہیں جو اپنے ملک کو جہنم قرار دے کر یہاں سے فرار ہوگئے تھے اور اب وہاں بیٹھ کر تمام میونسپل سہولیات کو انجوائے کرنے، مغرب کی بخشی ہوئی آزادیوں اور مغرب کی بخشی ہوئی دولت سے دل کھول کر استفادہ کرنے کے باوجود مغرب کی دشمنی میں پاگل ہورہے ہیں لیکن اتنی سی غیرت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ مغرب پر اور اس کی شہریت پر تین حرف بھیج کر اس جہنم میں واپس آجائیں جہاں سے یہ جائز ناجائز طریقے سے فرار ہوئے تھے۔
شاکر حسین شاکر
—
شمار قطار میں نہیں ہیں کیونکہ یہ وہ بدبخت ہیں جو اپنے ملک کو جہنم قرار دے کر یہاں سے فرار ہوگئے تھے اور اب وہاں بیٹھ کر تمام میونسپل سہولیات کو انجوائے کرنے، مغرب کی بخشی ہوئی آزادیوں اور مغرب کی بخشی ہوئی دولت سے دل کھول کر استفادہ کرنے کے باوجود مغرب کی دشمنی میں پاگل ہورہے ہیں لیکن اتنی سی غیرت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ مغرب پر اور اس کی شہریت پر تین حرف بھیج کر اس جہنم میں واپس آجائیں جہاں سے یہ جائز ناجائز طریقے سے فرار ہوئے تھے۔













