جس طرح میرے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ فرق نہیں پڑتا بالکل ویسے ہی آپ کے بھی تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ چودھری نثار علی خان ملکی سطح کے مانے ہوئے سیاسی لیڈر تھے اور رہیں گے ۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے اپنے آپ کو مقامی سیاست کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے مگر اس سے ان کی آن بان اور شان میں کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ ان کا ماضی گواہ ہے کہ مسئلہ چاہے ملکی ہو یا بین الاقوامی پاکستان بھر سے سب سے پہلی بلند ہونے والی آواز چودھری نثار علی خان کی ہوتی ہے کشمیر میں معصوم کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم ہوں یا مظلوم فلسطینی عوام پر روا رکھے جانے والا اسرائیلی جورو ستم ، بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کی پھانسیوں کا سلسلہ ہو یا امریکہ کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ، ان تمام مظالم کے خلاف چودھری نثار علی خان نے اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور آواز بلند کی اس طرح انہوں نے پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہمیشہ ڈٹ کر کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہم سب کے پسندیدہ رہنما ہیں ۔

مجھے یقین ہے کہ میری طرح آپ کی بھی خواہش ہو گی کہ چودھری نثار علی خان جیسا سمجھدار اور زیرک سیاستدان اپنے آپ کو مقامی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے بلکہ ملکی سطح کی سیاست کرے انہیں چاہیے کہ وہ چاروں صوبوں سے قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر الیکشن میں حصہ لیں اس طرح راولپنڈی سے ہٹ کر باقی صوبوں کے عوام کو بھی اپنے مقبول رہنما سے اپنی محبت کا ثبوت دینے کا موقع میسر آ جائے گا اور چودھری صاحب کو بھی اپنی مقبولیت کا پتا چل جائے گا ۔ ویسے بھی چودھری نثار علی خان، جاوید ہاشمی سے تو بہت بڑے لیڈر ہیں اسی وجہ سے تو نواز شریف نے اپنی جلاوطنی سے وطن واپسی پر جاوید ہاشمی کو نظر انداز کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان کو قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز کر دیا تھا جبکہ جلاوطنی کے دوران دھکے ، ماریں اور مقدمات بھگتنے کے لئے جاوید ہاشمی کو آگے رکھا ہوا تھا یہ وہی جاوید ہاشمی ہے جو چودھری صاحب کو ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر اس نے اپنے آپ کو چودھری نثار علی خان سے بڑا لیڈر ظاہر کرنے کے لئے صرف پنجاب کے چار قومی حلقوں سے انتخاب میں حصہ لے کر ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد کی تین نشستیں جیت لیں تھیں اگر جاوید ہاشمی چار میں سے تین نشستیں جیت سکتے ہیں تو چودھری نثار علی خان کو تو چاروں صوبوں سے ایک ایک نشست جیت ہی لینی چاہیے ۔

چودھری صاحب موصوف نے ہمیشہ اصولوں پر مبنی سیاست کی ہے یا یوں کہہ لیں کہ کم از کم وہ کہتے تو یہی ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ یہ اصول کوئی باقاعدہ سیاسی اصول نہیں بلکہ ان کے اپنے وضع کردہ ہیں جو ہمیشہ انہوں نے اپنے مفاد کے لئے استعمال کئے ہیں جب چاہا قیادت سے وزارت لے لی نہ صرف وزارت بلکہ راولپنڈی کی پوری بیوروکریسی اپنی مرضی کی تعینات کروا لی مرکز اور پنجاب سے اپنے انتخابی حلقے کے لئے من چاہے فنڈز حاصل کر لئے حتی کہ اپنے ایم پی اے کے فنڈز بھی خود استعمال کئے اور جب چاہا قیادت سے منہ موڑ کر ناراضی کا اظہار کر دیا ۔ یہ سلسلہ چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا کہ بڑے لوگوں کی ناراضی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہوتی ہے جو بالآخر ختم ہو ہی جاتی ہے مگر دکھ اس وقت ہوتا ہے جب چودھری نثار علی خان جیسے بہت بڑے لیڈر قمرالاسلام راجہ جیسے چھوٹے کارکنوں کے حلقہ انتخاب میں مداخلت کرتے ہیں ۔ ایک قومی سطح کے لیڈر کو کہاں یہ زیب دیتا ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کی ایک چھوٹی سی نشست سے انتخاب میں حصہ لیتا رہے ۔

چودھری صاحب نے نشست بھی ایسی کا انتخاب کیا جہاں ایک کارکن نے نہ صرف مشکل وقت میں اپنی بنیادی جماعت کو الوداع کہہ کر چودھری صاحب کی جماعت کا ساتھ دیا تھا بلکہ گذشتہ تقریبا دس سالوں سے مسلسل ہر اتوار اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے مسائل سننے کے لئے اپنی دیگر تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو اپنے حلقے کے عوام کے سامنے پیش کرتا چلا آ رہا ہے اب اچانک جماعت کا ایک بڑا لیڈر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ نہیں قمرالاسلام راجہ نہیں اس حلقے سے مابدولت الیکشن میں حصہ لیں گے خواہ آزاد ہی کیوں نہ حصہ لینا پڑے۔ یہ سب کچھ عجیب سا بلکہ بچگانہ سا عمل لگتا ہے جس کی چودھری صاحب جیسی شخصیت سے توقع نہیں کی جا سکتی مگر اس کا کیا کریں کہ چودھری صاحب ایک بار پہلے بھی اپنے صاحبزادے تیمور علی خان کے تقریبا ہم عمر چودھری سرفراز افضل کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اس کی صوبائی اسمبلی کی نشست سے گائے کے نشان پر حصہ لے چکے ہیں اور اپنے برخوردار کی عمر کے بیرسٹر واثق سے صرف دو ہزار ووٹوں سے بمشکل فتح یاب ہوئے اور جب چودھری صاحب نے یہ نشست خالی کی تو ضمنی الیکشن میں چودھری سرفراز افضل نے اپنے مد مقابل کو دس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی ۔

چودھری نثار علی خان کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے اور نئی اور نوجوان لیڈر شپ کا گلا دبانے کی بجائے ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لئے ان کی سرپرستی کریں تاکہ جماعت کو فائدہ پہنچ سکے بعض حلقے تو یہ بھی کہتے پائے گئے کہ چودھری نثار علی خان کو بھروسہ نہیں کہ وہ غلام سرور خان کے مقابلے میں جیت پائیں گے اس لئے وہ ادھر ادھر ہاتھ پاوں مار رہے ہیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اگر چودھری صاحب ایک سیٹ بغل میں اور تین نظر میں رکھیں گے تو اس بڑ کے سائے میں چھوٹے چھوٹے پودے کیسے پروان چڑھیں گے۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY