نعت خواں علی رضا خان سے عالمی اخبار کے واسطے روما رضوی کی گفتگو

0
3248

دل آویز لحن میں ثناۓ پیغمبرِ آخر الزماںﷺ ایسی معتبرعبادت ہے جو نہ صرف اس کائنات کی محترم ترین ہستی کے حضور مؤدت و عقیدت کا اظہار ہے بلکہ یہ سیرتِ پاک کی روشنی اور خوشبو کو عام کرنے کا فر ض ادا کررہی ہے – یہی وجہ ہے کہ اس مقدس عبادت میں مصروف اور مگن لوگوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں عاشقانِ رسولﷺسر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں- ملکِ عزیز پاکستان میں نعت خوانی کے حوالے سے جن لوگوں نے اپنی شناخت قائم کی ہے ان میں جناب علی رضاخان ایک منفرد مقام رکھتے ہیں – اگر یہ کہا جاۓ کہ انہوں نے نعت کو تخلیقی صراط اور اندازِ حیات بنا لیا ہے تو غلط نہ ہو گا – زمانۂ طالبِ علمی ہی سے وہ اپنی نعت خوانی سے ایک زمانے کو گرویدہ بنا چکے ہیں-ان کی نعت خوانی کا اہم وصف یہ ہے کہ دھیان صرف اور صرف صاحبِ نعت یعنی رسول اللہ ﷺکی طرف ہی رہتا ہے باقی تمام سوچیں محو ہو جاتی ہیں – جناب علی رضاخان قومی و بین الاقوامی سطح پر نعت خوانی کے حوالے سے پہچان رکھتے ہیں-وہ اسلام آباد میں منعقدہ قومی اور بین الاقوامی سیرت کانفرنسوں کے مواقع پر کئی مرتبہ نذرانۂ نعت پیش کرنے کا شرف حاصل کر چکے ہیں-2007میں اسلام آباد میں ہونے والی قومی سیرت کانفرنس میں نعت خوانی کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کی روشنی میں انہیں سرکاری طور پر عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی – وہ بحرین، مسقط، اور دوحہ قطر میں بھی اپنے ملک کی بطور نعت خواں نمائندگی کر چکے ہیں-انہیں بحرین اور دوحہ قطر میں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا – جناب علی رضا خان آج کل پی ٹی وی سے بطور پروڈیوسر حالات ِ حاضرہ منسلک ہیں – نعت گوئی میں بھی اپنا اہم مقام رکھتے ہیں اورنعت گوئی کے حوالے سے بھی صوبائی اور قومی سیرت ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں – وہ اپنی تمام کامیابیوں پر اپنی نعت خوانی کو مقدم جانتے ہیں اور اس پہچان پر مفتخر ہیں ۔اس حوالے سے اُن سے کیا گیا مکالمہ نذرِ قارئین ہے۔۔۔۔

س۔آپ نے تعلیم کہاں تک حاصل کی اور آپ کا آبائی شہر کہاں ہے ؟

ج۔میں نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے اردو کیا ۔میراتعلق پنجاب کےضلع ساہیوال سے ہے۔

س۔ پیشہ وارانہ حثیت سے کس ادارے اور فرائض سے منسلک ہیں ؟
ج۔میں پاکستان ٹیلی وژن ملتان سینٹر کے شعبہ حالاتِ حاضرہ میں پروڈیوسر کے طورپر اپنے فرائضِ منصبی ادا کر رہا ہوں۔

س_ آپ کی دانست میں نعت خوانی کیا ہے؟

ج۔ نعت خوانی ایک ایسا متبرک اور مقدس عمل ہے جو اللہ تعالی’ کو بہت محبوب ہے۔اُس ذاتِ گرامی نے بذاتِ خود حضورِ کائناتؐ کی تعریف کی ہے اوربصورتِ درودِ پاک آپؐ کی توصیف بیان کی ہے۔ نعت خوانی کاپاکیزہ عمل اگر اخلاص پر مبنی ہو تو انسان فیوض و برکات کے بحرِ بیکراں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔حضورِ دوعالم فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و توصیف احاطہء تحریر میں نہیں لائی جا سکتی۔ایسی فضیلت مآب ہستی کے فضائل اور اوصاف زیادہ اور لا محدود ہیں جبکہ ایک عام انسانی عقل کا دائرہء اختیار محدود تر۔۔۔۔۔جہاں نعت پڑھنا ایک متبرک عمل ہے وہاں سنُنا بھی ایک خوبصورت اور احسن کام ہے۔

س۔ماشا اللہ آپ بہت جذبے سے نعت پڑھتے ہیں ویسے نعت خواں کے پیشِ نظر کیا ہونا چاہیے؟

ج۔اخلاص کا تقاضا ہے کہ نعت پڑھتے ہوئے کوئی دنیاوی منفعت یا ذاتی غرض انسان کے سامنے نہیں ہونی چاہیے۔تصورِ گنبدِ خضراء اور خوشنودی خدا و رسول کریمؐ کاحصول انسان کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے اس طرح انسان نہ صرف اُخروی نعمتوں سے مالا مال ہو سکتا ہےبلکہ دنیاوی معاملات میں بھی اُسے سرخروئی حاصل ہو سکتی ہے ۔
س۔نعت خواں کو کن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے ؟
ج۔نعت خواں کو اعلی’انسانی اوصاف کا حامل ہونا چاہیے اس کے کردار و عمل اور شخصیت سے اس کے باطن کی مہک کا پتہ چلنا چاہیے اور اس کے قول و عمل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے رویوں سےتعلیماتِ سیرت کی جھلک نظر آنی چاہیے۔

س۔کیا نعت خوانی کی موجودہ روش سے آپ مطمئن ہیں؟
ج۔چونکہ نعت خوانی ایک نہایت پاکیزہ عمل ہے۔اس کے تقدس اور حُرمت کا تقاضا ہے کہ اس کی ادائیگی نہایت عمدہ انداز میں ہو۔نعت خوانی کے اس اعلی’ ترین عمل نے موجودہ دور میں جو روش اختیار کر لی ہے اس کے پیچھے زیادہ تر وہی دنیاوی کامیابیوں،حصول ِ مال و زر کی خواہش اور نمود ونمائش کی طلب کار فرما نظر آتی ہے۔اس صورتحال میں دنیاداری اور دنیاوی معاملات میں سرخروئی انسان کی اولین ترجیح قرار پا گئی ہے۔باقی سب کچھ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے جو کہ ہمارےلئے لمحہء فکریہ ہے۔نجاتِ اُخروی کے لئے ہمیں نہ صرف اپنی اس روش کو بدلنا ہوگا بلکہ اس عمل اور رویے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔اس معاملے میں پڑھنے والا جتنا ذمہ دار ٹھہرتا ہے اُتنا ہی سامع یا سنُنے والا بھی۔

س۔آج جو نعتیہ شاعری لکھی جا رہی ہے اس کے حوالے سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟

ج۔عوامی محافلِ نعت میں پڑھی جانے والی نعتیہ شاعری کا رنگ اور ہے جب کہ علمی،ادبی محافل اور مشاعروں میں پڑھی جانے والی اور جرائد و رسائل میں شائع ہونے والی نعتیہ شاعری اور انداز رکھتی ہے یہی وہ شاعری ہے جو فنی اورتخلیقی معیارات پر پورا اُترتی ہے۔ثانی الذکر شاعری کا انتخاب عام طورپر ہمارے نعت خواں نہیں کرتے چونکہ یہاں اُنہیں عام فہم بات کرناہوتی ہے اس لئےاُنہیں عوام کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلام پیش کرنا پڑتاہے چونکہ اُن کا مطمع نظر عوامی پزیرائی کاحصول ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں جامع اور معیارکلام پیش کرنے سے وہ حتی المقدور اجتناب برتتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اُن کے لئے عوامی پزیرائی سے محرومی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہےاوراُن پر شہرت اور دولت کے دروازے بھی بندہو سکتے ہیں۔جن کا مطمع ءنظر تصورِ گنبدِ خضرا اور خوشنودیء حضورِ اکرم ؐ کا حصول ہوتا ہے اُن پہ اس بات کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابرہیں۔آج کے دور میں بھی بہت عمدہ اورجدید نعتیہ شاعری لکھی جا رہی ہے اور معیاری نعتوں پر مشتمل بہت سی کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں اُن سے استفادے کی بھر پور ضرورت ہے۔

س۔کیا نعت خوانی کے وقت کوئی خاص کیفیت طاری ہوتی ہے؟؟

ج۔نعت پڑھتے ہوئے چونکہ میرے پیش ِنظر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس اور گنبد خضرا کا تصور ہوتاہے اس لئے دوسرا کوئی بھی دنیاوی معاملہ مجھ پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور اس صورتحال میں جو روحانی تسکین اور قلبی راحت مجھے محسوس ہوتی ہے کاش سبھی نعت پڑھنے والے فیوض و برکات کی اس روحانیت سے فیض یاب ہوں۔

س۔کیا گیتوں کی دُھنوں پرنعت خوانی جائز ہے ؟
ج۔ نغموں کی دھن پر نعت خوانی کا مقدس کام اس لئے مناسب نہیں لگتا کہ اس کی ادائیگی کے دوران ذہن میں فوری طور پر اُس گانے کا تصور آ جاتا ہے جس کی دھن پر نعت کی ادائیگی کا عمل جاری ہوتا ہے اور پھر سننے والا اُس گانے کی مکمل کاروائی کو سامنے رکھتے ہوئے جذباتی ہوکر یا آواز کے ایک خاص ردھم کے ماحول میں رہتے ہوئے نعت خوا ں کی پذیرائی کرتا ہے فلمی دھنوں پر نعت خوانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور اس متبرک کام کے تقدس کا خیال رکھا جانا چاہئے ۔

س۔ نعت خوانی کے لئے کن شعراء کے کلام کا انتخاب کیا جانا چاہیے؟

ج۔اساتذہ فن نے بہت عمدہ نعتیں لکھی ہیں بالخصوص عہدِ موجودکے ان شعراءمیں احمد ندیم قاسمی ، پیر سید نصیرالدین نصیر، عاصی کرنالی، سید وحید الحسن ہاشمی، حفیظ تائب ،مظفر وارثی ،حافظ لدھیانوی،خورشید بیگ میلسوی، سیدشوکت ہاشمی ریاض حسین چودھری، اکرم باجوہ،شیر افگن جوہر، مرتضی اشعر اور دیگرکے اسمائے گرامی شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف غزل کہی ہے بلکہ ان کے نعتیہ مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں اس طرح حافظ مظہر الدین ، الحاج محمد اعظم چشتی، الحاج محمد علی ظہوری کا نعتیہ کلام بھی گراں قدر تخلیقی سرمایہ ہے نعت خواں حضرات کو چاہیے کہ وہ پڑھنے کے لئے ان شعرا کےکلام کا انتخاب کریں کیوں کہ ان کے ہاں تقدس کی پاسداری کا رجحان بھی نظر آتا ہے ،معیار اور جامعیت بھی ۔ نعت خوانی کیونکہ حسینوں کے حسین کا تذکرہ ہے، اس لیے اس سلسلے میں کلام کا انتخاب بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جس میں محبت ِرسول ؐکی جھلک بھی واضح انداز میں موجود ہو اور ادب و احترام کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چُھوٹے اور ایسےشعراء کا کلام منتخب کیا جاناچاہئے ان کے ہاں تخلیقی اعتبار سے عامیانہ پن نظر نہ آئے بلکہ نہایت خوبصورت خیالات، اعلی ‘ ترین لفظوں کے دروبست کے ساتھ اس خوبصورت عمل کی تکمیل کریں ۔اس سلسلے میں اساتذہ ءفن کا کلام معمد و معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔

س۔کن نعت خوانوں سےمتاثرہیں؟

ج۔ویسے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و توصیف کرنے والا ہر شخص مجھے پسند ہے اور میرے لئے محترم ہے لیکن کچھ لوگ اپنی فنی انفرادیت اور امتیازی حیثیت کی وجہ سے میرے حافظے میں خصوصی طور پر موجود رہے ہیں ان میں اعظم چشتی مرحوم، نذیر حسین نظامی مرحوم، الحاج محمد علی ظہوری قصوری مرحوم ،سید منظورالکونین مرحوم، قاری زبید رسول مرحوم ،خورشید احمد رحمانی مرحوم،قاری محمد سلیم صابری مرحوم۔ ان شخصیات نے بہت خوبصورت انداز میں فنِ نعت خوانی کی خدمت کی ہے گو یہ شخصیات اب اس عارضی دنیاکا حصہ نہیں رہیں لیکن ان کا چھوڑا ہوا فنی ورثہ آج بھی بعد میں آنے والوکے لئے مشعل راہ کا کام دے رہا ہے۔ ان کے بعد آنے والوں میں بھی بہت سے نام ہیں جو اس سلسلہء خیر و برکت کو آگے بڑھا رہے ہیں خدا سب کو ان کے نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے ۔

س۔کیا آپ خود بھی شاعر ہیں اور کیا آپ نے نعتیں بھی لکھی ہیں ؟
ج۔میری نظم و نثر پر مشتمل سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں تین کتابیں نعت کے حوالے سے ہیں ۔میرا مرتب کیا ہوا نعتیہ شعری انتخاب “درود اُنؐ پر سلام اُن ؐپر” شائع ہوا جس کے اب تک دو ایڈیشن چھپ چکے ہیں اس کے علاوہ میری اردو شاعری کے دونعتیہ مجموعے “ثنائے سرورؐ” اور “توصیفِ پیمبؐر”چھپ چکے ہیں جن کو گورنمنٹ کی طرف سےقومی اور صوبائی سیرت ایوارڈ زبھی مل چکے ہیں ۔پنجابی نعتیہ شعری مجموعہ” پھُلاّں دی مہکار مدینے” کے نام سے آئندہ چند روز میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو جائے گا۔

س۔نعت خوانی سے کیا حاصل ہوا ؟
ج۔احمد ندیم قاسمی مرحوم کا ایک نعتیہ شعر ہے
تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ہے
قدم اُٹھیں تو زمانہ مجھے رستہ دےدے
اُن سے نسبت کا حوالہ میرے لئے کیاکم ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں پھر آپؐ کا ثناخواں ہوں۔آپ ؐ کی مدحت سرائی کے صدقے میں قدرت نے کیا کچھ عطا نہیں کیا میرے لئےیہ اعزاز کیا کم ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہ 12 ربیع الاول 2007 کے دن قومی سیرت کانفرنس میں مجھے نعت پڑھنے کے لئے مدعو کیا گیا اس سے قبل بھی میں دو تین مرتبہ اس سالانہ کانفرنس میں نعت خوانی کا شرف حاصل کرچکاتھا اس کانفرنس میں ہر بار صدر اور وزیراعظم پاکستان صدر اور مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوتےوزارت مذہبی امور پاکستان کے تحت 2007میں ہونے والی اس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز مہمان خصوصی تھے اس تقریب میں مجھے نعت خوانی کا شرف حاصل ہوا میں نے اس کانفرنس میں مظفر وارثی کی نعت پڑھی
مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشق ِنبی ؐاس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ دروں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا

اس موقع پر وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے اپنی تقریر میں میری نعت خوانی کی تعریف کرتے ہوئے سرکاری طور پر عمرے پر بھیجنے کا اعلان کیا میں 7 اگست 2007 کو عمرہ کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس پہنچا تھا ۔اس نعت خوانی کے طفیل دو مرتبہ بحرین ایک مرتبہ مسقط ایک دفعہ قطر محافلِ نعت میں شرکت کر کے بیرونِ ملک بھی پاکستان کانام روشن کر چکا ہوں۔ علاوہ ازیں ریڈیو اور ٹی وی کے متعدد پروگرامز میں(کل پاکستان محافلِ نعت) سمیت اب تک ہزاروں سرکاری اور عوامی اجتماعات میں نعت خوانی کی سعادت حاصل کر چکا ہوں۔ پاکستان کے موجودہ صدر سمیت بہت سے سابقہ صدور ، وزرائے اعظم اور دیگر اعلی’ حکام کی موجودگی میں کئی مرتبہ تقاریب میں نعت رسولِ مقبول پیش کرنا بھی میرے اعزازات میں شامل ہے۔ پُر خلوص نعت خوانی کے سبب عزت ہی عزت اور کامیابیاں ہی کامیابیاں ملیں کیا یہ کم اعزاز ہے کہ ایک تقریب میں پڑی ہوئی نعت خانہءخدا اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کا سبب بن گئی۔” یہ کرم نہیں تو کیا ہے “

س۔کیانعت خوانی کو بطور پیشہ اختیار کرنا جائز ہے ؟

ج۔نعت خوانی جیسے مقدس اور بابرکت کام کو حصول بخشش کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے اور کسی بھی طور پر اسے پیشے کے طور پر نہیں اپنانا چاہیے روزی رو ٹی کمانے کے لئے علیحدہ سے دوڑ دھوپ کی جانی چاہیے۔

س۔آخرمیں اُن چند نعتوں کا تزکرہ ہو جائے جو آپ کی شناخت کا حوالہ بنیں؟

ج۔میرا نعت خوانی کا سفر چالیس برسوں سے زائد مدت پر محیط ہے۔اس طویل عرصے کے دوران اساتذہء فن سمیت دورِ حاضر کے متعدد شعراء کاکلام پڑھنے کا موقع میسر آیا لیکن چند کلام جو ریڈیو،ٹی وی سمیت سرکاری ،نجی ،دینی تقریبات اور بیرون ِملک میری پہچان اور پزیرائی کا سبب بنے وہ درج ذیل ہیں۔۔۔

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمہارا کرم ہے آقاؐ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
(خالد محمود)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفلسِ زندگی اب نہ سمجھےکوئی مجھ کو عشقِ نبیؐ اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں میراعکسِ دروں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا
(مظفر وارثی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرا پیمبر عظیم تر ہے۔مرا پیمبر عظیم تر ہے
(مظفر وارثی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں
کیا بزم میں طیبہ کے گدا آئے ہوئے ہیں

(پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشبو ہےدوعالم میں تری اے گلِ چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں ترے اوصافِ حمیدہ

(حفیظ تائب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قطرہ مانگے جو کوئی تو اُسے دریا دے دے
مجھ کو کچھ اور نہ دے اپنی تمنا دے دے

(احمد ندیم قاسمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عطا کریں مرے آقاؐ کبھی خدا کے لئے
ترس گیا ہوں مدینے کی جس فضا کے لئے

(جعفر شیرازی)

عالمی اخبار کے واسطے اس نشست کے آخر میں ہم بھی دعاگو ہیں کہ جناب علی رضا خان صاحب خدا آپ کی اس خدمت میں خیر وبرکت عطا فرمائے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہے ۔۔
آمین

SHARE

LEAVE A REPLY