جھیل پانی کا وہ بڑا ذخیرہ جو تالاب سے بہت بڑا اور گہرا ہوتا ہے، جھیل کہلاتا ہے۔ یہ جھیل نمکین پانی یا میٹھے پانی کے ہوتے ہیں
ناسا نے مریخ پر موجود چٹان پر کی جانے والی تحقیق میں ایک قدیم جھیل کے آثار پائے ہیں، یہ آثار پتھروں کی شکل میں بننے والی لہروں کے نشان سے ملے ہیں۔ ناسا کی روبوٹک گاڑی کو یہ آثار مریخ میں ایک ایسے مقام سے گزرتے ہوئے ملے ہیں جسے تحقیقی زبان میں ’’سلفیٹ بیرنگ یونٹ‘‘ کہا جاتا ہے جس کے بارے میں ماضی میں محققین کا خیال تھا کہ یہاں پر پانی کے معمولی سے آثار ملنے کے شواہد ہی مل پائیں گے،
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہاں موجود چٹانیں اس وقت بنیں جب مریخ کی سطح خشک ہوتی چلی گئی۔ اس کے برعکس اس بار ناسا کی خلائی گاڑی کو مریخ پر قدیم پانیوں کے واضح شواہد ملے ہیں۔ کیلیفورنیا کے علاقے پاسادینا میں ناسا کی جیٹ پرپلزن لیبارٹری کے پراجیکٹ سائنٹسٹ اشون واسوادا نے ایک اعلامیہ میں بتایا کہ یہ اب تک کہ مشن میں پانی اور لہروں کے واضح شواہد ہیں جو ہمیں ملے ہیں۔












