اگر شو باز نے جگت ماردی تو پنجابیوں کو نہ مورد الزام ٹھہراو بلکہ اس انگریز کی ٹوپی کے شوقین کو علم کے مطابق تہذیب و اخلاق سے مارو ۔ کرانچی یا پان گندگی سے منسلک نہی یہ اس شو بازکی قوم پرست سوچ ہے۔ اسکی رعونت اور اپنی کرپشن پر کرانچی کی اتنی پیکیں ماریں جائیں کہ یہ اوقات میں آجائے ۔
یہ پنجاب کے عوام کا خون چوس کر آج کراچی کے عوام کو جو کبھی تہذیب و اخلاق کا نمونہ تھے آج غربت میں گٹکے اور پان کے نشہ اور اس کے نتیجے میں کینسر و بیماریوں میں جکڑے ہوئے ہیں اگر شو بازیہ وفاق کا بجٹ اپنے قرضے اور کرپشن پر لگانے کی بجائے اور ایم کیو ایم جیسی قاتل تنظیموں کو جلا بخشنے اور تعلیم کی زبوں حالی پر آنکھیں بند کرنے کے عوام اور پاکستان کا سوچتا تو آج کا کراچی ایسا نہ ہوتا ۔ نہ نفسیاتی مسائل نہ خوف نہ ڈر ۔
کراچی کی موجودہ حالت اور گندگی گھٹن اور قتل و غارت کے کئ دھائیوں سے جاری افسوسناک عمل کا نتیجہ ہے اور اب کراچی میں صرف اردو بولنے والے گٹکےکا شکار نہی سندھی پنجابی اور دیگر بھی ہیں یہ اس شہر کا خاصہ نہی تھا مگر جب بھی کسی ملک کے شہر یا علاقہ میں جرائم اور نفرت بڑھتی ہہے تو دیواریں اور سڑکیں اور لوگوں کے رویے اسی طرح ہوتے ہیں۔
امریکہ کے کتنے شہر اور یورپ میں غریب علاقے کراچی والوں سے نہی مقامی بد انتظامی اور نسل پرستی و بے روزگاری سے اس کا شکار ہیں
شاہد خان













