ایک تجرباتی نظم
مجھے بھنے ھوئے چنے بہت پسند ہیں
یہ کبھی کبھار جب ڈائٹنگ کا فرضی خیال آتا ھے
تو اوٹس میل اور سلاد کے ساتھ ساتھ بھنے ھوئے چنے کھانے سے بھی شکم سیری ھو جاتی ھے
کل بھنے ھوئے چنے اور خشک میوہ جات کھاتے ھوئے
اچانک ایک باقی ماندہ دانتوں میں سے دانت ٹوٹ گیا
اور بھنے چنے میرے لیے لوھے کے چنے ثابت ھوئے
کویت میں دنیا کے دیگر ممالک کی اور دانت لگوانا
دانت بنوانا
قصائی ڈینٹیسٹ کے پاس جانا
یہ سارے مراحل بہت تکلیف دہ ھیں
اور بہت پیسے بھی لگ جاتے ھیں
تو میں ایک ڈاکٹر کے پاس گئی تو ایک ھفتے بعد کا ڈاکٹر نے وقت دیا ھے
میں نے فوری اپنے درد شناس بھائے صفدر رضا سے پوچھا
کہ
بھیا بتاؤ اتنی کم عمری میں میرے دانت کیوں ٹوٹ گئے ھیں
بھایئی نے جواب دیا کہ جیسے اتنی کم عمری یعنی صرف 43 سال کی عمر میں انکے سیاہ بالوں کی کثرت بھی سفیدی کی طرف مایل ھے
پھر بولے
کہ دعا کریں کہ کبھی ھمارے خون سفید نہ ھوں
باقی تو ھر چیز کی خیر ھے
مجھے بھی یہ چشم کشا بات اچھی لگی اور سوچا
بس خون کو سفید نہیں رنگین ھونا چاھیے
شاہین اشرف علی













