خون کو رنگین رھنا چاہئیے،شاہین اشرف علی

0
743

ایک تجرباتی نظم
مجھے بھنے ھوئے چنے بہت پسند ہیں
یہ کبھی کبھار جب ڈائٹنگ کا فرضی خیال آتا ھے
تو اوٹس میل اور سلاد کے ساتھ ساتھ بھنے ھوئے چنے کھانے سے بھی شکم سیری ھو جاتی ھے
کل بھنے ھوئے چنے اور خشک میوہ جات کھاتے ھوئے
اچانک ایک باقی ماندہ دانتوں میں سے دانت ٹوٹ گیا

اور بھنے چنے میرے لیے لوھے کے چنے ثابت ھوئے
کویت میں دنیا کے دیگر ممالک کی اور دانت لگوانا
دانت بنوانا
قصائی ڈینٹیسٹ کے پاس جانا
یہ سارے مراحل بہت تکلیف دہ ھیں

اور بہت پیسے بھی لگ جاتے ھیں
تو میں ایک ڈاکٹر کے پاس گئی تو ایک ھفتے بعد کا ڈاکٹر نے وقت دیا ھے
میں نے فوری اپنے درد شناس بھائے صفدر رضا سے پوچھا
کہ
بھیا بتاؤ اتنی کم عمری میں میرے دانت کیوں ٹوٹ گئے ھیں
بھایئی نے جواب دیا کہ جیسے اتنی کم عمری یعنی صرف 43 سال کی عمر میں انکے سیاہ بالوں کی کثرت بھی سفیدی کی طرف مایل ھے

پھر بولے
کہ دعا کریں کہ کبھی ھمارے خون سفید نہ ھوں
باقی تو ھر چیز کی خیر ھے
مجھے بھی یہ چشم کشا بات اچھی لگی اور سوچا
بس خون کو سفید نہیں رنگین ھونا چاھیے
شاہین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY