نہ جانے کیوں آج بے حد خوشی کے ساتھ ساتھ ہمیں دُکھ بھی ہوا ۔ہم کہاں پہنچادئے گئے ہیں ۔آج عوام کے لئے خوشی کا دن ہے کہ ایک ایساشخص وزیرِ اعظم منتخب ہوا ہے جو بائیس سال سے جد وجہد کر رہا تھا اپنے نظرئے کے حامی لوگوں کے ساتھ ۔جو عوام کو اچھی زندگی دینا چاہتا ہے ۔جو ملک کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہے ۔لیکن وہ لوگ جو ایسا کچھ کرنے نہیں دینا چاہتے کھُل کر سامنے آئے ۔وہ خود تو کچھ نہ کر سکے سوائے کمیشن کھانے اور کمیشن بنانے کے اور آج بھی انہوں نے ایک کمیشن کا ہی مطالبہ کردیا جب کہ ایلیکشن کرانے والے انہوں نے ہی مُنتخب کئے تھے پی پی پی کے ساتھ مل کر ۔شکوہ کس سے ہے پتہ نہیں ۔افسوس یہ ہوا کہ مُنتخب وزیرِ اعظم کو بات نہیں کرنے دی گئی لیکن جتنا وہ بول سکے انہوں نے انکی نیندیں ضرور اُڑادیں ۔ بس اللہ کرے زنجیرِ عدل بھاری نہ ہو گزشتہ ادوار کی طرح کہ عام آدمی ہلا ہی نہ سکے ۔
ہم تو چاہیں گے کہ آئندہ کے لئے خواتین کی منتخب سیٹیں ختم کر دی جائیں جو بھی خاتون ملک اور قوم کے لئے کام کرنا چاہتی ہے یاسمین راشد اور باقی دوسری خواتین کی طرح مُنتخب ہو کر آئین اسِمبلی میں کیونکہ آج جس طرح بغیر محنت کے چاپلوسی سے حاصل کی گئی سیٹوں پر بیٹھنے والیوں نے ھنگامہ کیا ہمیں ایک خاتون ہوتے ہوئے بالکل بھی اچھا نہیں لگا یہ جس بھی حکومت کے لئے ہوتا ہماری سوچ یہ ہی ہوتی ۔کیونکہ جو چیز بغیر محنت ملتی ہے اُس پر براجمان ہونے کے لئے انسان کو بہت سارے احداف قربان کرنے پڑتے ہیں سب سے پہلے تو وہ آزاد ہی نہیں رہتا غلام بن جاتا ہے اُن لوگوں کا جن کی نوازشات سے وہ ان کرسیوں پر بیٹھتا ہے ۔ساری خواتین شاید ایسی نہ ہوں مگر ہم نے ہر اسمبلی میں ان خواتین کو کچھ کرتے نہیں دیکھا سوائے میک اپ اور اپنے بڑوں کے لئے احتجاج کے ۔اس لئے یہ روایت بھی ٹوٹنی چاہئے ۔
ہمیں امید تھی کہ نون لیگ کچھ اپنا بھرم رکھے گی احتجاج کرے گی لیکن تہزیب کے ساتھ تحمل کے ساتھ مگر افسوس کہ ساری دنیا میں آپ نے ایک بار پھر خود کو ایکسپوز کر دیا کہ آپ کتنے پانی میں ہیں ۔کوئی بھی پارٹی ہو ہمیں کسی سے نہ اختلاف ہے نہ اتفاق مگر غلط بات جو بھی کرے نشاندہی ہمارا فرض ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ تھوڑی دیر احتجاج کیا جاتا اور پھر نئی حکومت کی ترجیہات کو سُن لیا جاتا۔ کیونکہ جس قسم کا ماحول بنایا گیا اُس میں کتنے ہی مظبوط قویٰ کا مالک ہو اُسے بکھر جانا تھا مگر ہمیں خوشی ہے کہ عمران خان نے خود کو کافی حد تک سنبھالے رکھا ۔اگر حکومتی پارٹی کے لوگ اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہتے تو شاید ایک وقار کی بات ہوتی مگر سنا ہے کہ جب مخالف عمران خان کی طرف بڑھے تو وہ لوگ گھیرا بنا کر اُنہیں اس بات سے بچانے کے لئے اُٹھے کہ کوئی غلط حرکت نہ ہو۔
ہمیں افسوس ہوا کہ کیا ہم اتنے ہی بے ضمیر اور بے حس ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے طریقے کس طرح ہمارے ملک کو بدنام کرتے ہیں ۔ عمران خان وزیرِ اعظم بنے یا کوئی بھی اور، کم از کم اخلاق کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے ۔پی پی پی نے اپنی روایت برقرار رکھی جو بہت خوش آئیند بات ہے کہ اُن کا جوان لیڈر بھی اُن کے درمیان موجود تھا جس نے پوری برد باری سے اپنی ٹیم کو متحد رکھا ۔
نون لیگ نے اگر اب بھی سبق نہ سیکھا تو شاید اگلے ایلیکشن میں یہ اتنی سیٹیں بھی نہ لے سکینگے جتنی اس دفعہ ان کے حصے میں آگئی ہیں ۔بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ جو پارٹی بھی کام نہ کر سکے گی وہ اسی طرح نکال باہر کر دی جائیگی جیسے کچھ پارٹیوں کا حشر اس ایلیکشن میں ہو اہے ۔اس لئے حکومت پی ٹی آئی کے لئے پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ خرابیوں کا انبار ہے جو ٹھیک کرنا ہے ۔
ابھی ابھی ہمیں جو خوشی وزیرِ اعلی پنجاب کا نام سُن کر ہوئی وہ شاید پچھلے دس سالوں میں کسی نام پر نہیں ہوئی ہمیں نہیں پتہ وہ کون ہے بس ہمارے لئے یہ بات بہت خوشی کا باعث ہے کہ وہ ایک پس ماندہ صوبے کا ہے ایسے صوبے کا جس میں بنیادی ضرورتیں بھی نہیں ہیں نہ پانی ہے نہ بجلی ہے اور اُس کے گھر میں بھی بجلی نہیں ہے ایسے لوگ وہ ہیں جو غریبون کی صحیح نمائیندگی کرینگے انشاء اللہ ۔ہم تو عادی ہیں سیٹوں پر بیویاں ،بیٹے، بیٹیاں ،بھانجے ،بھانجیاں ،بھائی اور بھتیجے دیکھنے کے ۔ہمیں نہیں پتہ ہمارے خاندانی حاکم یہ سب کیسے برداشت کر پائینگے ہمیں تو لگتا ہے کہ نئی حکومت کو سب سے پہلا قدم اسپتالوں کے ڈائیریا وارڈ میں ایمرجنسی نافظ کرنا پڑے گی اور وہاں ان ناموں کو سُن کر وہ وہ صورتیں نظر آئینگی کہ آپ اور میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے ہونگے کیونکہ ان سب نے ہمیں رُلایا بہت ہے ۔لیکن اب بھی اپنے کو ٹھیک کرنے کا کوئی عندیہ یہ نہیں دے رہے ۔
ہمارا موقف ہے کہ عمران خان صآحب نے اگر احتساب میں آنا کانی کی یا کوئی بھی کمزوری دکھائی تو قوم اُنہیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی اس لئے ہماری استدعا ہے کہ زنجیر عدل کو اتنا بھاری نہ رکھنا کہ عام آدمی ہلا نہ سکے اُسے اتنا ہلکا رکھنا کہ مظلوم پِس نہ سکے اور ظالم بچ نہ سکے ۔جس دن ظالم بچ گئے وہ دن ہم سب کے لئے سیاہ دن ہوگا ۔اس لئے اپنے وعدوں پر قائم رہنا یہ اپوزیشن اُبال ہے جو کچھ دیر میں خود ہی دیگچی سے باہر گر کر ڈھیر ہو جائیگا بس آپ ثابت قدم رہیں ساری قوم انصاف کے ساتھ ہے ۔ احتساب کے ساتھ ہے ۔پچھلے ادوار میں بھی یہ لالی پاپ دی گئی جس پر عمل نہ ہوا اس لئے اب کوئی بھی تیار نہیں دھوکہ کھانے کو پیچھے ہٹنے کو ۔
ہماری دعا پاکستان کے ساتھ ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو ہر آفت اور ہر خباثت سے بچائے اور نئی کابینہ کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کام کرنے کا موقعہ ملے ۔
ہمیں بلاول زرداری کی تقریر سے بہت ہمت بھی بڑھی اور ایک جوان سوچ نے ہمیں امید بھی بندھائی ہمیں اُمید ہے کہ یہ جوان اپنے نانا اور ماں کی اچھائیوں کو اُجاگر کرے گا اور ایک نئی روایت ڈالے گا ایک اچھی اور سُلجھی ہوئی حزبِ اختلاف کی ۔کہ ملک ہم سب کا ہے کسی مخالف یا موافق کا نہیں بلکہ ہم سب ہی اس کے پاسبان ہیں اب سب کو مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ آنے والے وقتوں میں اچھے اور سچے لیڈر برد بار اور کام کرنے والے ارکان ہمیں نصیب ہو سکیں ۔ہماری دعائیں اسمبلی میں بیٹھے تمام منتخب ارکان کے ساتھ ہیں چاہے وہ کسی بھی طرف کی کرسی پر بیٹھے ہوں ۔بس تبدیلی لائیے اپنے کردار میں اپنے افکار میں ۔سب سے پہلے پاکستان
اللہ میرے ملک کو ترقی اور کامرانی عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY