الجھن میں الجھنا، مزید الجن کو جنم دیتا ہے… کبھی کبھی حالت اضطراب میں، بہت تھکن اور تکلیف دہ اعصاب میں…. بس، پرسکون ہو جانا چاہییے….
کیونکہ مشکل ترین لمحوں میں…. سکون سے رہنا ایک سبق دیتا ہے…. اکثر یہ پل تربییت کےہوتے ہیں… مگر انسان اضطراب، تھکن اور تکلیف کے باعث…. ان کو گنوا دیتا ہے… جتنا بھی برا ہو جائے اتنا ہی پرسکون اور پر امید، ہنستے مسکراتے رہنے کی حکمت کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے …
کبھی کبھی اپنے عام موڈ کے بالکل بر عکس بھی کر کے دیکھنا چاہییے…..
جیسے بہت روتے لمحوں میں سکون سے مسکرانے کی کوشش…
جیسے طوفانی بارش کے موسم میں طوفان سے نہ بچنے کی کوشش….
کبھی سخت لہجوں کے دامن میں، محبت بھی پرونا چاہییے…
کبھی ٹوٹتے ہوئے پل کو ٹوٹ لینے دینا چاہییے…
کبھی بے نیازی، بے فکری، اور بنا ڈر کے… سب کھو لینا چاہیے…
کبھی سب کچھ گنوا کر بھی…. ہنستے، مسکراتے، سکون سے جینا چاہییے….
کہ زندگی کے اس سفر میں کچھ بھی ہمارا نہیں ہوتا…
کوئ بھی زندگی کی نوید، زندگی کا مکمل سہارا نہیں ہوتا…
کبھی اہنے بل بوتے پر، اپنے ہی وجود آنگن میں بس اطمکننان سے جینا چاہییے…
کبھی سب بکھرے ہوئے کو… مکمل ہی بکھیر دینا چاہییے…
زندگی کے ہر سبق کو بس…. فقط سبق کیطرح ہی لینا چاہییے…
بس اپنے احساس کے آنچل کو اوڑھے، اپنے دل آنگن میں بیٹھ کر خوب رونا چاہییے….
لیکن کسی کی زات سے، کسی شخص، کسی کی بات پہ…
بس مطمئن و پرسکون، رہنا چاہییے، اپنے خوابوں کی راہوں پر خود ہی چلنا چاہییے… اور پھر اکیلے میں، اپنے گلستاں کی تتلیوں سے سب اپنی مہک اور رنگوں سے ضرور کہنا چاہییے…
اپنے ستاروں اور جگنوؤں کی محفل جمانی چاہییے…. اور اہنی محفل میں جنون ہونا چاہییے… اور اس جنون کی ہر جھلک میں، سکون ہونا چاہییے، درد کی امیزش سے، خون ہونا چاہییے….
اپنے وجود آنگن کی خاموشیوں کے گیت سے بھرپور ہونا چاہییے
اور ہر ایک گیت کا اپنے دھنوں اور رقص کو روح کی سب دڑاروں کو محبت کی پھوار کی مانند چھو لینا چاہییے…
اپنے وجود آنگن میں بس سکون ہونا چاہییے……
فائزہ عباس...













