’’اقبال کے شاہین‘‘ اقبال شناسی اور نسل نو کے لیے گرانقدر اضافہ اور ہمت،جرآت اور محنت کی عظمت کا تزکرہ ہے۔
انور عباس انور نے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے باہمت افراد سے نوجوانوں کو متعارف کروایا ہے۔ قائم نقوی
’’اقبال کے شاہین‘‘ آسمان علم و شعور پر چکمتے دمکتے ستاروں پر مشتمل کتاب ہے۔ محمد نواز طاہر،قمرالزماں بھٹی
معاشرے سے کتاب کی طرف رغبت ختم ہوتی جارہی ہے ایسے میں ’’اقبال کے شاہین‘‘ شائع کرنا کارنامہ سے کم نہیں۔ انوار قمر
انور عباس انور کی کتاب ’’اقبال کے شاہین ‘‘ کی تقریب رونمائی سے صحافی قمرالزماں بھٹی، محمد نواز طاہر،انوار قمر، شہزادہ کبیر احمد،
پروفیسر انوار الحق، زاہد چاند ،پروفیسر روبیہ جیلانی، صفیہ صابری، مقصود احمد چغتائی، نسیم شہزاد اور مرزا مبشر بیگ کا خطاب
لاہور( رپورٹ مہوش ا انور) ’’’اقبال کے شاہین ‘‘ اپنی ہمت ، جرات اور محنت سے اعلی مقام حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہے اور ہمارے محنت سے دور بھاگنے ،غیر مواقف معاشی حالات کے باعث حصول علم کے راستے سے ہٹ جانے والے طلباء و طالبات کے لیے ایک امید ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ،ادیب ،دانشور ،صحافی اور سابق مدیر ’’ماہ نو‘‘ سید قائم، نقوی نے سینئر صحافی و کالم نگار انور عباس انور کی نئی کتاب ’’اقبال کے شاہین‘‘ کی تقریب پذیرائی میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں آگے بڑھنے کی لگن اور جستجو رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بہت اسباق موجود ہیں۔ انور عباس انور بہت سمجھدار،باشعور بندہ ہے بس ایک کمی اس میں ہے کہ یہ مشورہ کسی سے نہیں کرتا۔ سینئر صحافی ،شاعر جناب انوار قمر نے اپنی تقریر میں کہا نسل نو کو علم اور کتاب دوستی کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کے ہاتھوں میں کتاب تھما کر ہم اسے گمراہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ مجموعی لحاظ سے اقبال کے شاہین بہت اچھی کتاب ہے گو کہ اس میں پروف کی کچھ غلطیاں موجود ہیں۔ ’ پی ایف یو جے اورلاہور پریس کلب کے جرنلسٹ گروپ کے سینئر راہنما جناب قمرزماں بھٹی نے کہا کہ انور عباس انور بے خوف لکھنے والا، نڈر صحافی اور کالم نگار ہے۔ بنا کسی لگی لپٹی اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔ قمرزماں بھٹی نے کہا کہ’ ’کتاب ’’اقبال کے شاہین‘‘ ایسے باہمت لوگوں کا تذکرہ پر مشتمل ہے جنہوں نے معاشرے میں قائم اقتصادی ،معاشی اور دوہری نظام تعلیم کے ذریعے بنائے گئے سپیڈ بریکرز کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے روندا اور ترقی کی منازل طے کیں۔ ۔سینئر صحافی اور بلاگر محمد نواز طاہر نے اپنے مقالہ میں کہا کہ اقبال کے شاہین کے مصنف انور عباس انور ایک نئے روپ کے ساتھ سامنے آئے ہیں ، اقبال شاہین میں شامل بہت سے افراد آسمان علم و شعورکے ستارے ہیں جن میں پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی، پروفیسر مرزا اطہر بیگ اور عارف وقار شامل ہیں، اورکچھ ایسے بھی ہیں جن پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے، برحال کون اقبال کا شاہین ہے کون نہیں ،یہ مصنف کا اپنا خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مصنف آئندہ بھی لکھتے رہیں گے اور ہماری راہنمائی کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔ ان کی کتب نسل نو کی راہنمائی کرتی ہیں۔ پروفیسر نذر عباس بھنڈر نے مصنف کو ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔ انگلش لٹریری سوسائٹی کے سکریٹری نے کہا کہ ’’ اقبال کے شاہین‘‘تحریر کرکے مصنف نے اقبال شناسی اور اقبال کی تعلیمات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ دیگر مقررین نے اپنی تقاریر میں مصنف کی کاوش کو سراہتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور خطرات اور بحران خصوصا گستاخانہ خاکوں کے معاملات سے نبٹنے کے لیے حکومت کو ان ایکشن ہونے کا کہا گیا۔ پروفیسر انوار الحق نے چھ ستمبر کے حوالے سے پاک فوج کے غازیوں اور شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور اس موقعہ پر اپنی نظم پیش کی۔ تقریب میں اقبال کے شاہین کے حوالے سے شعرا کرام، سید شفقت علی شرفی، صفیہ صابری، شفق جعفری اور روبیہ جیلانی نے اپنا اپنا کلام سنایا۔ تقریب کی صدر جناب قائم نقوی نے کی۔تقریب سے مرزا مبشر بیگ ( برادر اصغر مرزا اطہر بیگ) اور نسیم شہزاد ،حافظ نور المصطفی، زاہد چاند، پروفیسر روبیہ جیلانی ، مقصود احمد چغتائی اور جمیل رضا نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کا انعقاد بزم وارث شاہ پاکستان کی جانب سے پاکستان رائٹر گلڈز پنجاب میں گیا۔ تقریب کی۔تقریب میں علامہ مفتی شاعراور ادیب امیر علی صابری کے سانحہ ارتحال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اور نواب برکات محمود خان کی جانب سے شرکاء تقریب کو مختلف تحائف پیش کیے گئے۔اور بزم وارث شاہ پاکستان کی جانب سے مصبف کتاب کو ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف ،جناب انوار قمر کی صاحبزادی منزہ قمر کو ماس کمیونیکیشن میں پنجاب یونیورسٹی میں گولڈ میڈل حاصل کرنے اور دیگر مہمانان گرامی کی خدمات پر وارث شاہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY