بے سمت کا سفر۔صفدر ھمدانی

0
1336

تم بہت ہشاش بشاش ہو
لیکن میں شاید بہت تھک گیا ہوں

اپنے سے لڑنا اور لڑتے رہنا
بے سمت کا سفر
ہوا کے پیچھے بھاگنا
خوشبو کا تعاقب
واہموں کی تلاش
یہ سب زہریلی ہوا میں سانس لینا ہے
جو آپ کا نہیں اسکو اپنا بنانے میں جسم ادھڑ جاتا ہے
مجھے بھی اپنا ہی تعاقب کرنا پڑ رہا ہے
خوابوں پر پابندی کا قانون وقت کی ضرورت ہے
ہوا تیز ہے اور بادل سیاہ ہیں
بارش چیختی ہےاور روشنی اندھی ہو رہی ہے

مجھے مبارک دو کہ اب صرف جنگ ہارنے کا اعلان ہونا باقی ہے

بے سمت کا سفر ثمر بار ہو چُکا ہے

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY