سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کو ہر صورت تحفظ فراہم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس کے اختتام سے قبل ہی فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔

عدالتِ عظمیٰ میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں لارجر بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس شیخ عظمت سیعد نے ریمارکس دیے کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے تعاون نہ کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ نیب نے طلبی کے نوٹسز جاری کیے تھے کوئی شادی کے دعوت نامے نہیں دیے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کس طرح بندے کو بلانا ہے۔

عدالت نے سندھ حکومت کو نیب کے ساتھ تعاون کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نیب سے تعاون کرے جبکہ نیب کو بھی اپنے اختیارات کا علم ہونا چاہیے۔

عدالتِ عظمیٰ نے نیب کو حکم جاری کیا کہ ادارے کے ساتھ تعاون نہ کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے جب بحریہ ٹاؤن کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو ہدایت دی کہ وہ بحریہ ٹاؤن کیس سے متعلق عدالت فیصلہ پڑھیں تاہم جب سینئر وکیل نے عدالتی فیصلہ پڑھنا شروع کیا۔

جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیے کہ درخواستوں سے لگ رہا ہے کہ نکاح ہوگیا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کون سا ریفرنس دائر کرنا ہے اور کون سا نہیں کرنا وہ نیب کا کام ہے، عدالت کا کام صرف فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ نظر ثانی درخواست خارج کرتے ہوئے عدالت نے ایک حکم جاری کیا تھا اور نیب کو آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے نیب عدالتی مشاہدات سے متاثر ہوگی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ عدالت آج پھر نیب کو آزادانہ تحقیقات کا ہی حکم دے دیتی ہے۔

عدالت نے نیب کو عدالتی آبزرویشنز سے بالا تر ہو کر تحقیقات کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کے خلاف درخواست کو بھی نمٹا دیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ نیب کی پیش رفت دیکھ لی ہے، اس نے معاملہ خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ انہیں نیب کی درخواست منظر عام پر آنے پر اعتراض نہیں ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے یاد دہانی کروائی کہ عدالتی فیصلے میں از سر نو زمین کے تبادلے کا حکم دیا گیا، معلوم نہیں سندھ حکومت زمین کا تبادلہ چاہتی ہے یا نہیں جس پر بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ فیصلے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ قیمت کیا ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY