سجنا سنورنا اور صاف ستھرا رہنا ہر انسان کا فطری حق ہے جو اسے کسی بھی دوسری مخلوق سے ممتاز کرتا ہے ۔۔۔۔ مگر سجنے سنورنے کے عمل کو خواتین سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے اگر عورت اپنے لیئے پرکشش رہنا چاہے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ اگر مقصد صنف مخالف کی دل پر دستکیں موصول کرنا ہو تو شدید ترین کراہیت کا عمل ہے سجنا سنورنا ۔۔۔
ایسے میں اگر کوئی خاتون دعویٰ کر دے برابری کا ۔۔یا عزم ظاہر کرے جہاں بانی کا یا یا لگن ہو فاتحِ عالم کہلانے کی ۔۔۔ جو خواتین کہتی ہیں نسوانیت نہیں ہماری ذہانت دیکھو بدن نہیں زندگی کا بوجھ اٹھانے کی لگن دیکھو ۔۔۔ کیا غلط کہتی ہیں ۔۔۔ ایک عورت کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی کہ اسے صرف دل بستگی کی چیز سمجھا جائے یا جنسی گرسنگی کا ذریعہ سمجھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر پاکستان کی ترقی خواتین کے بے پردہ ہونے اور بلا تفریق جنس ۔۔۔۔ اختلاط میں مضمر ہے تو بھلے پاکستان تاقیامت ترقی پذیر ہی رہے ۔۔۔ نفس کے اوپر فتح پانا ہی فلسفۂ حیات و اشرف المخلوقیت ہے اور معاشرے کی بقا کا ضامن ۔۔۔ کہا گیا کہ مرد اپنی فریسٹریشن ایگزاسٹ کرتا ہے بس ۔۔۔ کیا گھٹن صرف مرد حضرات کو ہوتی ہے ۔۔۔ خواتین اپنی گھٹن پہ قابو رکھتی ہیں تو معاشرہ مہذب ہے اگر خواتین اتنی مدافعت نا کر رہی ہوتیں تو مرد کی آ زادی اور دلیری سڑکوں پہ جا بجا جنسی عمل کو جائز اور گھٹن دور کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ۔۔۔۔ نفس کے گھوڑے ۔۔۔۔ نہیں کتے کو بے لگام کر دینے سے ہی انسان انسانیت کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے ۔
زارا مظہر












