پیارے نبی ﷺ کی پیاری باتیں (3) شمس جیلانی

0
2426

ایمان دین کے تمام تقاضے پورے کرنے کانام ہے۔ابن ؓعمر سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ دین پانچ چیزوں کا مجموعہ ہے(جو سب کی سب ضروری ہیں اور کوئی چیز ایک دوسرے کے بغیر ناقابل ِ قبول ہے(کہ دوزخ سے نجات دلاسکے)، اس بات کی شہادت کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور شہادت دے کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسولﷺ ہیں،اور اللہ سبحانہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کے تمام نبیوں ؑ پراور اس پر کے مرنے کے بعد جی اٹھنا ہے (حساب کتاب کے لیئے)یہ ایک بات ہوئی، اور پانچ نمازیں اسلام کا ستون ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کے بغیر وہ ایمان بھی قبول نہیں کریگ۔اپھر جس نے یہ ارکان ادا کر لیئے اور رمضان شریف آئے! بغیر کسی شرعی مجبوری کے روزے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نہ ایمان قبول کرے گا نہ نمازیں، نہ زکاۃ قبول کریگااور جس نے چار رکن ادا کر لیئے اس کے بعد حج کرنے کی وسعت ہوئی اور وہ اس نے خود یا بطور حج ِ بدل کسی سے ادا نہیں کیا تو ان میں سے کوئی بھی فوری طور پر جہنم سے نجات کا باعث نہیں نہیں ہوگا(الحلیہ۔ترجمان السنہ)
جبکہ ایمان کامل یہ ہے کہ؟
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اسکے ساتھ کسی کوشریک مت ٹھیراؤ۔ با ضابطہ نماز پڑھو،زکواۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، بھلی بات بتایا کرو، بری بات سے روکا کرو، گھر میں آؤ توگھر والوں کو سلام کیا کرو۔ جو ان باتوں میں سے کوئی جز ترک کرتا ہے وہ اپنے اسلام کو ناقص کرتا ہے، جو ان سب ہی کو چھوڑ دے تو اسلام سے اس نے پشت پھیر لی (حاکم۔ ترجمان السنہ)
جبکہ حضرت۔طلحہ ؓ بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا جو کہ علاقہ نجد کا رہنے والا تھا۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے کچھ کہتا ہوارسولﷺ اللہ کی طرف آیا لیکن ہم شاید فاصلے کی وجہ اس کی گننا ہٹ توسن رہے تھے مگر بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آگیا اب وہ سوال کرتا ہے کہ مجھے وہ اسلام کے خاص احکامات بتا ئیے جن پر عمل کرنا باحیثیت مسلمان میرے لیئے اور ہر مسلمان پر فرض کی گئیں ہیں؟حضور ﷺ نے فرمایا پانچ تو نماز یں ہیں دن اور رات میں جو فرض کی گئیں، ہیں اور اسلام میں یہ سب سے اہم فریضہ ہے اس نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور نماز میرے لیئے لازم تو نہیں ہوگی آ پﷺ نے فرمایا نہیں، فرض صرف یہ ہی پانچ نمازیں ہیں) لیکن تمہیں حق ہے کہ اور بھی نمازیں پڑھو اور ثواب حاصل کرو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایااور سال میں پورے ماہ رمضان کے روزے رکھو(اسلام کا دوسراعمومی فریضہ ہے)اس نے عرض کیا کہ رمضان کے علاوہ کوئی دوسرے رو زے تو لازم نہیں ہو نگے، حضورﷺ نے فرمایا نہیں، مگر تمہیں حق ہے کہ اپنے دل کی خوشی کے لئیے جتنے چاہو اور رکھو، اللہ کا مزید قرب اور ثواب حاصل کرو)راوی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے پھر اس سے زکات کا ذکر کیااور جواب میں نفلی صدقوں کا ذکرکیا۔راوی حدیث حضرت طلحہ بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ وہ سوال کر نے والا شخص واپس لوٹ گیااور کہتا جا رہاتھا(مجھے رسول اللہ ﷺ نے جو بتلایا ہے اس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی نہیں کرونگا، رسول ﷺاللہ نے اس کی بات سن کر فرمایا فلاح پالی اس نے، اگر یہ سچا ہے (بخاری اورمعارف الحدیث)
علامت ایمان
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ہے، جس کو اپنے ماں باپ اولاد سب سے زیادمجھ سے محبت نہ ہو(معارف الحدیث بخاری و مسلم)
حضرت ابوؓ امامہ سے روایت ہے۔ ایک شخص نے رسولﷺ اللہ سے پوچھاکہ ایمان کیا ہے آپﷺ نے فرمایا جب تم کو اپنے اچھے عمل سے مسرت اور برے عمل سے رنج وقلق ہوتومومن ہو۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو پورا کا پورااسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے جو کہ قرآن کی ایک آیت کا تقاضہ ہے کہ “پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ”

SHARE

LEAVE A REPLY