آج جس طرف بھی میں نے نظر دوڑائی توہر طرف ہی امت بے چین نظرآئی۔ کیوں؟ محض اس وجہ سے یہ تو نہیں ہے کہ ہم نے حضور ﷺ کا اتباع چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں یہاں اپنی جنت بنا کر ساتھ لے جانے کے لئے بھیجا تھا اگر آپ کو قرآن پر یقین ہے تو؟ مگر ہم اس دنیا سے ہی دل لگا کر بیٹھ گئے، جو کہ بری بات نہیں ہے۔ اگر دل لگا کر کہیں کام کریں گے تب ہی کچھ کما ئیں گے اور جب کما ئیں گے نہیں تو پھر کیا خود کھا ئیں گے اورکیا بیوی بچوں کو کھلائیں گے اور پھر کیا وہاں بھیجیں گے، جس مشن پر یہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا تھا۔ جبکہ حضورﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ “تیرا صرف وہ ہے جو تونے وہاں بھیج دیا“ پھر اس صورت میں تو وہاں کچھ بھیجنا ہی ممکن نہیں ہے۔ اصل میں لوگ اس کامطلب سمجھ نہیں پائے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم جیسے تیسے یہاں کمالیں اور فقیروں کو دیتے ہوئے تصویریں بنوالیں بس یہ کافی ہے جبکہ وہاں ریاکاری مقبول بارگاہ ہی نہیں ہے؟ یہ سوچ غلط ہے کہ وہاں پر بھی ہر طرح کا مال کام آئے گا مال حلال ہو یا حرام ہو۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہاں جو آپ حلال ذرائع سے کما ئیں گے اس کی تصویر آپ بنوائیں یا نہ بنوا ئیں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر وہا ں فرشتوں کے علم کے علاوہ وہ فوراً اللہ سبحانہ تعالیٰ کےعلم میں آجا ئے گا۔ اور ثواب کی حالت یہ ہو گی کہ اگر حلال ہے۔ تو جو آپ خود کھا ئیں گے، بیوی بچوں کھلا ئیں گے وہ ثواب، اپنے والدین کو کھلا ئیں گے وہ ثواب، اپنے قریبی رشتے داروں اور فقیروں کو کھلا ئیں گے وہ ثواب ہمسائیوں اور مسافروں کو کھلا ئیں گے وہ بھی ثواب کا باعث ہوگا۔ پھر ہم پر کوئی جبر نہیں ہے کہ تمہیں یہ سب کچھ کرنا ہی کرنا ہے۔ اگر آپ کے اخراجات سے بچتا ہے تو پھر زکات، قربانی بھی ہے اور حج بھی فرض ہے اگر نہیں بچتا تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر ایمانداری شرط ہے اگر ایمانداری نہیں ہے تو وہ ساری کمائی حرام ہے جہاں بھی آپ خرچ کریں گے گناہ تو لکھا جاسکتا ہے مگر ثواب نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ کبھی نہ ہونے دو کہ تمہارے یہاں بھیجنے کا مقصد ہی فوت ہوجا ئے اوروہاں جاکر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے پہنچ کر شرمندگی اٹھا نا پڑے۔ نیکیاں کم اور مانگنے والے بے تحاشا ہوں اور سب نیکیا ں وہی لے جائیں۔ تو عقلمندی کا اس سلسلہ میں تقاضہ یہ ہی کے یہاں محنت سے کماؤ اور زیادہ سے زیادہ بچاؤ اور اس وقت کے لئے وہاں بھیجوتاکہ اس صورت حال سے نہ گزرنا پڑے اگر گناہ کا ایک پہاڑ کے برابر ہو تو نیکیوں کے دس پہاڑ کے ہونا ہونا بہت ہی آسان ہے۔ اس لیے کے وہ بہت ہی مہربان ہے۔ اس نے ہر نیکی کے صرف ارادے پرایک نیکی لکھنے کا حکم دیا ہوا ہے اور اگر نیکی وہ نہ کرسکے تو گناہ نہیں ہے؟ اس کی نیکی بر قرار رہے گی۔ جبکہ برا ئی کرنے کا کوئی ارادہ کرے اور خوف ِ خدا کی وجہ نہ کرے رک جا ئے تو بھی ایک نیکی کاثواب ہے۔ اور اگر اس گناہ کے بجا ئے اس کی تلافی میں ایک نیکی کرلے تو دس گناہ ثواب ہے۔اور دس گناہی ہی نہیں وہ بے حساب بھی ہوسکتا؟ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصرہے صرف خلوص شرط ہےکہ وہ خالص رب کے لیئے ہو اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول سامنے رکھیں تو بات اور آسانی سے سمجھ میں آجا ئے گی۔ فرمایا کہ“ یہ خیال رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا جس کو قیامت کےدن تمہارا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسا کاروبار دنیا میں کوئی کم ہی ملے گا کہ جس میں فا ئدہ ہی فائدہ ہے نقصان کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر سب کچھ ان کے لیئے ہے جو ایمان رکھتے ہوں جو نہ رکھتے ہیں تو ان کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ حضورﷺ کا صدقہ ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے رحمت اللعا لمین بنا کر بھیجا ہے۔ اور انہوں نے سوائے دعا کے امت کے لئیے کبھی بد دعا نہیں فرمائی۔ ہمیشہ دعا فرما تے رہے اس کی بہت سی مثالیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ سے اور امتوں کی طرح عذاب کے بجا ئے وہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ مراعات امت کے لئے حاصل کرتے رہے۔ مگر ہمارے نا شکرے پن کا عالم یہ ہے۔ کہ ہم اللہ کا ہی شکر ادا نہیں کرتے تو بندوں کا کیا کریں گے۔ اللہ نے تو یہ فرما کر بات ختم کردی کہ“ حضور ﷺ کی اطا عت کی میری اطا عت ہے۔ اور ان کے اسوہ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے“ ہم نے ان کے نقش قدم پر چلنے کے بجا ئے۔ صرف ان سے محبت کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ زبانی جمع خرچ کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ جبکہ ابھی حضور ﷺ کے پاس آخری بھلائ باقی ہےیعنی اس دن انہیں (ص) شفا عت کی اجازت ملنا ہے اس لیئے کہ حضورﷺ نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ لیا ہواہے۔ کم از کم اسی کالحاظ کرلیں اور اپنےعمل سے شفاعت پکی کرلیں۔ اورا بھی بھی لائبریری چلے جا ئیں، سیرت کی کتابوں میں حضور ﷺ کاایک ایک فعل موجود ہے۔ پڑھیں اور اس پرعمل کریں۔ اور اس طرح وہاں کا بھی سامان جمع کرلیں جو اس روزکام آئے۔ یہ مہینہ بھی ربیع اول کا ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہدایت اور توفیق عطا فرمائے آمین













