قرآن حکیم خالق کائنات اﷲ رب العزت کی آخری الہامی کتاب ہے جو عربی زبان میں سرور کائینات حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہوئی جس کا موضوع انسان ہے۔ گویا ا س میں کائنات کے ہر موضوع پر انتہائی اختصار مگر کامل جامعیت سے نہایت سادہ ترین الفاظ، اصطلاحات اور مثالوں سے کی گئی راہنمائی پورے اصول و ضوابط کے ساتھ ملتی رہے کہ اللہ پاک نے فرمایا ” قران پاک کی ایک آیت زمانوں کے لئے ہے ” ۔

میرے لئے ہمیشہ سے یہ معمہ رہا کہ اللہ پاک نے قران مجید آخر عربی زبان میں ہی کیوں نازل فرمایا ؟ ۔۔ جتنا سوچوں اتنی ہی گرہیں کھلتی جاتی ہیں ۔ آج قرآن پاک کے نزول پر پندرہ صدیاں گزرچکی ہیں لیکن اس میں استعمال ہونے والی عربی زبان اپنے نزول کے وقت بھی عربی ادب کا شاہکار تھی اور آج بھی ہے ۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جو پندرہ صدیوں تک املاء، انشاء، محاورے قواعدِ زبان اور استعمال الفاظ میں ایک شان پر باقی رہ گئی ہو۔ آج بھی عربی کا کوئی لفظ متروک نہیں اور اس کا ایک قاعدہ بھی ایسا نہیں جو ناقابل استعمال ہوورنہ عمومی زبانیں ہر دو سو سال کے بعد بدلتی جاتی ہے یا استعمال (بولی اور لکھی ) نا ہونے پر متروک ہو جاتی ہے ۔

پندرہ صدیاں گزرجانے پر بھی عربی زبان کا معیار فصاحت وہی ہے جو قرآن پاک کے نزول کے وقت تھا۔ عربی زبان کی فصاحت اور بلاغت دیکھئے ایک اونٹنی کے بچے کی پیدایئش سے لے کر بڑے ہونے تک کے مراحل کو سمجھانے کے لئے اس کے ایک سو بتیس نام ہیں ۔ اس لیئے قران پاک کو عربای زبان میں شرف نزول بخشا گیا کہ وہی واحد ایسی زبان تھی جس میں اتنی وسعت تھی جو اپنے اندر ہر زمانے کو سمیٹ سکتی تھی ۔

مثال کے طور پر اللہ پاک نے قران پاک میں فرمایا ” میں نے تمام حیات کو پانی سے پیدا کیا ” ۔۔۔ ایک اور جگہ پر فرمایا ” ہر چیز چل رہی ہے وقت مقررہ تک ” ۔۔ سوچیئے ان حقیقتوں کو کونسی سایئنس کونسا عالم دین یا دانشور بدل سکتا ہے یا اس سے بہتر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی عربی کوعجمی پر فوقیت کی نوید نہیں دی ۔۔۔ بلکہ ہم عجمیوں کو ایک بڑی برکت اور فضیلت عطا فرمائی اور فرمایا ” اگر علم اوج ثریا پر بھی ہوگا تو کوئی عجمی اتار لے گا “

اللہ پاک ہمیں ان عجمیوں میں شمار فرمائے جو شوق علم رکھنے والے اور توجہ کرنے والے ہیں ۔۔۔ الہی آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY