مسئلہ ہے کمیشن اور کریڈٹ کا۔ شمس جیلانی

0
118

ہم ان لوگوں میں سے ہیں جویہ سوچ کر پاکستان آئے تھے کہ اس نوزائیدہ اسلامی ملک کی خد مت کریں گے اور اسوقت سب بلا امتیاز اسی خیال کے حامی بھی تھے۔ حتیٰ کہ وہ غریب قلی جنکی ا جرت ہر پھیرے کی آٹھ آنے تھی مگر انہوں نے پاکستان سے جانے والے تارکین وطن سے ٹرین میں جگہ گھیر نے کے سو ڈیر ھ سو روپیہ تک وصول کر نا شروع کردیئے تھے کہ 1951 میں نہرو لیاقت پیکٹ ہوگیا اور اس کےا حترام میں واپس ا سی آٹھ آنے پر آگئے کہ ہمارے لیڈر نے معاہدہ کر لیا ہے اب ہم زیادہ پیسے نہیں لیں گے کیونکہ مسلمان وعدہ خلافی نہیں کرتا ؟ اور کم و بیش یہ ہی حال ہر محکمہ تھا ۔ مگر ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمیں جو پہلا محکمہ ملا وہ ایسا تھا کہ وہاں آج جیسی تو نہیں، مگر لوٹ مار مچی ہوئی ضرور تھی لہذا ہم با الکل وہاں جاکر ان فٹ ہوگئے۔ اس زمانے میں نوکریا ں بہت اور کرنے والے کم تھے لہذا باازار میں بکتی بھی نہیں تھیں ۔ہم نے دوبارہ بہت ہی غور وخوص کے بعدجو دوسرا محکمہ منتخب کیا وہ ایساتھا جس کی پاکدامنی پر کسی کو شبہ تک بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہاں بھی ہیر پھیر چلتی ہوگی ؟ مگر جب داخل ہوئے تو یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ وہاں یہ عالم تھا کہ 55 فیصد آفیسروں کا کمیشن اور45 فصد میں ٹھیکدارا ور مٹیریل ۔ جبکہ اس وقت اس کا انچارج انگریز تھاا ور اس کے بھی 15 فیصد مقررتھے۔ ہم وہاں بھی ان فٹ رہے ہمارا جو “بوس “تھا ووہ کہتا کہ تم بڑے اچھے آدمی ہو ؟بس تم میں ایک خرابی ہے کہ تم اپنے آپ کو ہم سے بہتر سمجھتے ہو!بس ہمارے جیسے بن جا ؤ تو اچھا کوئی آدمی نہیں ہے؟ مگر ہم نے اپنی برائی چھوڑی نہیں ا ورا ن جیسے بنے نہیں، جب وہ سالانہ رخصت پر جاتے تواس دوران امن رہتا اور باقی ٹائم میں ہمارے اور ان کے در میان جنگ جاری رہتی۔ چونکہ وہاں استعفیٰ دینا آسان نہ تھا لہذا ہم نے وہاں دو سال کچھ مہینے اور سات دن اسی طرح گزارے ، مگر ہم نے یہ عجیب بات دیکھی کہ جب ہمارے سنیر آفیسر سالانہ چھٹیوں پر جاتے۔ تو وہ چارج جونیر ہونے کے با وجود ہمیں دے کر جاتے تھے کہ اس کو ہماری برائی کا احساس تھا اور وہ مطمعن ہوکر جاتاتھا کہ اس کا کمیشن محفوظ رہے گا ؟
یہاں ہماری اپنی بپتا سنانے کا مقصد یہ تھاکہ ہم احساس دلائیں کہ کمیشن وہ بلا ہے کہ برائی اچھا ئی ور اچھائی برائی بن جاتی ہے۔ مگر اس وقت صرف کمیشن مد نظر رہتا تھایہ مسئلہ نہیں تھا کریڈٹ کسے جائیگا کہ ملک میں جمہوریت اسوقت تک آئی نہیں تھی دستور اسمبلی سے پارلیمان کا کام لیا جاتا تھا کیونکہ اسے دستور بنانے میں دلچسپی نہیں تھی؟ لہذا اس مسئلہ نے بعد میں شدت اختیار کی کہ کریڈٹ کسے جا ئے گا؟ کیونکہ یہ جمہورت کے ساتھ آیا ؟ کہ فنڈ ز پڑے رہ جا ئیں سال گزر جائے، مگر جب تک یہ نہ طے نہ ہو جا ئے کہ اس کاکریڈٹ کسے جا ئے گا اور کمیشن کیسے ٹھکانے لگے؟ عوام پیاسے مریں، سڑکیں “موئن جو دڑو“ بن جا ئیں، مگر کریڈٹ کوئی غیر نہ لے جائے؟
یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ بھٹو صاحب ملک کو آئین دے گئے ۔ اور ان کے جانشین زرداری صاحب نے ا پنے دور صدارت میں اپنے سارے اختیارات وزیر اعظم کودیدئیے اور خود بے ختیار ہوگئے جس طرح گاندھی جی کانگریس میں تھے ؟ مگر سب کو شکایت یہ ہی رہی کہ سارے اختیارابھی تک انہیں کے پاس ہیں؟ دوسر ان کا اہم کارنامہ یہ تھا کہ صوبوں کو خود مختاری دیدی مگر انہیں بھی آج تک شکایت یہ ہی ہے کہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ کیونکہ اس پیسے کے ساتھ مرکز کے منظورِ نظر جو کچھ کرتے رہے اس میں فنڈ س ملے کام بھی ہوئے مگر ان کے اثرات کہیں دکھا ئی نہیں دیئے۔ عوام جہاں سن 47 میں تھے وہیں کے و ہیں رہے؟ البتہ پہلے سب مل جھل کر رہتے تھے۔ اب بڑوں کے علاقہ ا لگ ہیں جیسے کہ کلفٹن ، یاڈیفینس کالونی ۔ ایک صاحب نے ہمیں حال میں ایک واقعہ سنا یا کہ ایک اجنبی سے ان کی ملا قات ہوئی تو ا نہوں نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہو ئے اپنا تعارف کرا یا کہ فلاں۔۔۔ فر ام ڈیفنس تو انہوں نے بھی اپنا تعارف کرایا کہ فلان۔۔۔ فرام لالو کھیت؟ یہ آپ کو تعارف عجیب سا لگے گا کہ پرانے زمانے کی بات ہے کہ انگریز یہاں ہوا کرتے تھے۔ لاکھوں کے حساب سے والیانِ ریاست تھے، جن میں 613 پرنسلی ا سٹیٹ کہلاتی تھیں اور بقیہ نان پرنسلی ، جوکہ E سے لکھی جاتی تھیں۔ ان کے والی جب اپنا تعارف کراتے تھے۔ تو وہ خود ہی بتاتے فلاں۔۔۔ فرام فلااں۔ اس وقت بھی پاکستان میں یہ عالم ہے کہ پتہ چلتا ہے کہ اصل حکمراں کون ہے جس کا حکم چلتا ہے۔ عوام جس کا حکم چلتا دیکھتے ہیں سب اسی کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ آجکل بھی حال یہ ہے کہ جس کی دم پر پیر پڑتا ہے وہ اچھل پڑتا ہے۔ جبکہ عوام یہ سوچ کر ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں کہ یہ ہمیں کچھ دیگا؟ وہ یہ نہیں جانتے کہ جو جتنا ایماندار ہے وہ اتنی ہی جلدی ناکام ہو جاتا ہے؟ کہ وہ موجوودہ نظام فٹ نہیں ہوتا؟ ایک صاحب کا یہ جملہ اسلامی تاریخ میں بڑا مشہور ہے کہ جوکہ انتہائی معتبر مورخ ابن کثیر(رح) نے لکھا ہے کہ“ اب حکومت وہ کریگا جس کی دو داڑھیں ہونگی ایک کھانے کی اور دوسری کھلاانے کی۔ جب سے حکومت اسی اصول پر چل رہی ہے۔کیونکہ وہ حکمراں جو ملک کے بیت المال کو اپنا بیت المال نہیں سمجھتا ہے وہ اس نظام میں ناکام رہتا ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY