ایک اور امریکی حملے کی دھمکی کے بعد وینزویلا کی عبوری صدر نے ہتھیار ڈال دیے

0
664

وینزویلا پر ایک اور امریکی حملے کی دھمکی کے بعد عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکا کو تعاون کی پیشکش کردی۔

دارالحکومت کراکس سے خبر ایجنسی کے مطابق عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے ایک بیان میں مفاہمتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے غیر متوقع طور پر امریکا کو مشترکہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والے ایک ایجنڈے پر تعاون کرنے کی پیشکش کی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ باعزت تعلقات کی جانب پیش قدمی کو ترجیح دے رہی ہے۔

اس سے قبل انہوں نے امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکا منتقل کیے جانے اور امریکی فوجی کارروائی کو تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے وسائل پر غیر قانونی قبضہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔

ڈیلسی روڈریگز کو صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے امریکا لیجائے جانے کے بعد وینزویلا کی سپریم کورٹ نے عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے یورپی ممالک کی جانب سے آٹھ روز میں الیکشن کرانے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ ایک انٹرویو میں مادورو کا کہنا تھا کہ ملک میں آئندہ انتخابات دو ہزار پچیس میں منعقد ہونگے۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر نکولس مادورو کا کہنا تھا کہ یورپ کو ایسے مطالبات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وینزویلا یورپ کا حصہ نہیں، ان کا مطالبہ بے کار ہے۔

فرانس کے صدر میکرون نے بیان دیا تھا کہ وینزویلا میں آٹھ روز کے اندر نئے انتخابات نہ کرائے گئے تووہ اپوزیشن رہنما گوائیڈو کو صدر تسلیم کر لیں گے۔ جرمنی اور اسپین نے بھی فرانسیسی صدر کی حمایت کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY