منگل کو جی الیون کچہری میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق تمام افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔
پمز انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ شہدا کی شناخت ہوچکی ہے، اب 13 زخمی زیرعلاج ہیں،ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
ریڈ زون میں سکیورٹی سخت
دوسری جانب اسلام آباد کچہری میں دھماکے کے بعد ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مرکزی گیٹ پر رک کر سکیورٹی کا جائزہ لیا جہاں انہوں نے ہائیکورٹ کے دوسرے گیٹ پر بھی پولیس کی گاڑی کھڑی کرنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کےباہر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر جہاز میں لگی آگ کو تیسرے روز بھی نہ بجھایا جاسکا، تحقیقات کے لیے 20 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے جہاز کے خریدار چودھری عبدالحفیظ کو گرفتارکرلیا گیا ہے، ٹھیکیدار پہلے ہی زیرحراست ہے ۔
جہاز میں موجود کروڈآئل اور گیس سیلنڈر کے دھماکےوقفے وقفے سے جاری ہیں جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے ۔
تحقیقات کے لیےبلائے گئے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کوبتایا گیا ہے کہ جہازتوڑنے کےلئے محکمہ ماحولیات اور بی ڈے اے سے این اور سی نہیں لیا گیا تھا۔
متاثرہ جہاز ایم ٹی ایس ایس کو 19 رکنی بھارتی عملہ 22 اکتوبر کو شپ بریکنگ یارڈ گڈانی لایا اور اسی دن واپس چلاگیاتھا ۔وزیراعظم کی ہدایت پر وزیربرائےدفاعی پیداوار کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں













