ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی بات بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے ۔جب کسی پر تیزاب پھینک دیا جائے تو عالمی سطح پر بھی دھواں دھارفلمیں مقالے کالم سب ہی پڑھتے اور سنتے ہیں اور ایوارڈ بھی وصول کئے جاتے ہیں ۔اسی طرح کے واقعات جو دنیا بھر میں ہوتے ہیں کہ ظلم بھی شرما جائے لیکن ہمارا ملک فورا` شکنجے میں آجاتا ہے ۔ہم خدانخواستہ یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ باتیں انسانی حقوق کی نہیں ہیں بالکل ہیں بلکہ خواتین کے لئے اور بچوں کے لئے تو بہت ہی شدت سے آواز اُٹھائی جانی چاہئے جہاں درندے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتے ۔مگر ان کا سدِ باب بھی پھر اسی شدت کے ساتھ کرنے کی کوشش ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو بھی سمجھ میں آئے کہ اگر کوئی کسی قسم کی حیوانیت میں ملوث ہوگا تو اُسے سزائے موت ملے گی ۔لیکن سزائیں دینے میں ہم نہ جانے کیوں کنجوسی بھی کرتے ہیں اور شاید دیر بھی اتنی لگاتے ہیں کہ انصاف کے حصول میں لوگ دارِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں یا اُن کے مرنے کے بعد یہ خوشخبری سننے کو ملتی ہے کہ وہ بے گناہ تھا ۔
بات تھی انسانی حقوق کی جس پر ہمارے ملک کو تو انتہائی انصاف اور یک رنگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ یہ ہماری اسلامی اقدار کا حصہ ہے ،ہمارے ایمان کا جزو ہے ہماری پہچان ہے ہماری اساس ہے ۔لیکن ہمارے یہاں ابھی دو رنگی قائم ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ کاش ہم سب یک رنگ ہو جائیں ۔ہم جن انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں اُس پر آج کل ہمارے ملک کے بڑے جو تین تین سال ہم پر حکمران رہے جس طرح بھی ۔۔ جنہوں نے گیارہ گیارہ سال صوبے سنبھالے یہ الگ بات ہے کہ وہاں انسان نہیں شاید کوئی اور چیز بستی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔جس طرح صوبوں کے حقوق کو روندا گیا وہ بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔لیکن صوبہ کہیں بھی جائے اٹھارویں ترمیم پر بلاول صاحب آنچ نہیں آنے دینگے ۔چاہے مارچ کرنا پڑے چاہے جلوس نکالنا پڑے چاہے پیدل پورا صوبہ گھومنا پڑے وہ اس ترمیم کو ترمیم نہیں ہونے دینگے ہم بہت حٰیران ہیں کہ انسان کا بنایا ہوا قانون اس قدر مقدس ۔اور جن مقدس باتوں پر عمل کرنا چاہئے وہاں یہ بڑا صفر ؟؟؟؟
خیر انسانی حقوق صرف ہمارے بڑوں کے ہیں چاہے اُن پر کرپشن کا الزام ہو ۔چاہے بھتوں کا ،چاہے ٹیکس کی چوری ہو ،چاہے جعلی اکاؤنٹ جعلی دستاویزات ،جعلی دستخط ،وہ سب انسانی حقوق میں نہیں آتے اس لئے ہمارے بڑے ،عیش سے نیب کے شکار ہونے کے باوجود جس کَرَو فَرکے ساتھ اسمبلی میں تشریف لاتے ہیں جس طرح اُن کی فیزیو تھیریپی کی جاتی ہے جس طرح انہیں آسائشوں میں رکھا جاتا ہے ہمیں تو کہیں کوئی قید نظر آتی ہے نہ ریمانڈ ۔بلکہ سارے انسانی حقوق اُن ہی کی طرف جاتے نظر آتے ہیں یہ بھی ہمارے ملک کا ہی خاصہ ہے کہ جو جتنا بے ایمانی کرے جتنا ملک کو لوٹے پتہ بھی ہو تب بھی انسانی حقوق بس اُس کے لئے ہیں ۔اسی طرح آج کل اسپتال بھی سزا یافتہ لوگوں کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی ایسی بیماری نکال لائیں جو کسی نے دیکھی ہو نہ سُنی ہو تاکہ ایک بڑا جہاز ان بو جھوں کو اُٹھائے اور انسانی حقوق کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں دساور کو چھوڑ آئے ،کہ انسان بس یہ ہی ہیں پورے ملک کے غریب نہ انسان ہیں نہ انسانیت کے حق دار کیوں کہ وہ بنے ہیں ان کے ہاتھوں لُٹنے کے لئے ۔کیونکہ ٹھیکئہ انسانیت تو صرف اور صرف میرے ملک کے لُٹیروں اور دھوکہ دینے والوں کے لئے دیا گیا ہے ۔
اس کی مثال ہے کہ نواز صاحب کو لئے لئے پھر رہے ہیں کہ انسانیت کا تقاضہ ہے شھباز کو ہر طرح کی سہولت دی جا رہی ہے کہ انسانیت کا تقاضہ ہے ،زرداری کو بھی کچھ دنوں میں پرانی بیماریاں لا حق ہو جائینگی جن میں دماغی خرابی بھی شامل ہے کہ وہ سب کچھ بھول جائینگے جو کچھ کیا ،ویسے آج کل بھی وہ ایسی ہی شکل بنائے پھر رہے ہیں ،جیسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا لیکن پریشانی کی چنداں ضرورت نہیں ہے کسی بھی اربوں کھربوں کی کرپشن اور ھیرا پھیری کرنے والوں کو، کیونکہ ہمارے یہاں انسانی حقوق اُن کے ہی لئے ہیں ۔اور انہیں ہی کُھل کر دئے بھی جاتے ہیں ۔ہم انتہائی دکھ اور تکلیف سے لکھ رہے ہیں کہ زرا اُن قیدیوں کا بھی معائنہ کرا لیا جائے جو سالوں سے مقدمے بھگت رہے ہیں اور انصاف کے لئے در بہ در ہیں ۔اُن میں وہ وہ بیماریاں اور دل کے روگ ملینگے جو میاں صاحب اور ان بڑوں کے قریب سے بھی نہیں گزرے ۔ زرا ہمت تو کریں انصاف دینے کی انسانی حقوق ادا کرنے کی آپ کے پاس کسی کام کا وقت نہیں بچے گا کیونکہ آپ سب نے ملک اور اس کے عوام کے ساتھ وہ ظلم کیا ہے جو سُن سُن کر بھی حیرت چھوٹا لفظ رہ جاتا ہے ۔
سُننے میں آڑہا ہے کہ سب چھوٹ جائینگے بہت اچھی بات ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اس سے زیادہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔جب زَنگ لگ جاتا ہے سوچوں کو اور مفاد سامنے رکھا جاتا ہے تو بڑے سے بڑے وعدے کرنے والے بھی شاید مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور عوام صبر شکر کر کے پھر کسی نئے مسیحاکی طرف دیکھنے لگتے ہیں ۔کیونکہ ہمیں اتنا توڑا گیا ہے ۔کہ ہماری آس بھی دم توڑ جاتی ہے لیکن نہ جانے کیوں پھر لگتا ہے کہ نہیں ایسا انہیں ہوگا ۔عوام کو انصاف ضرور ملے گا ان بڑوں کو شکست دے کر انہیں سزائیں دے کر کیا جینا صرف ان کا حق ہے اُن کا نہیں جو ان سے کم دھوکے دے کر ان سے کم چوری کر کے ان سے کم ڈاکے ڈال کر جیلوں میں ہیں انہیں بھی تو انسانیت کے دائرے میں لائیں پھر ۔تاکہ انصاف ہو یا پھر اِنہیں اُن سے بھی بد تر سزائیں دیں کہ اِنہوں نے نہ صرف بیس کروڑ عوام کو دھوکہ دیا بلکہ اُن کے پیسوں پر ہر طرح کا عیش کیا اور انہیں خوار کر دیا ۔
زرداری نے میڈیا سے حکومت کو گرانے کے لئے مدد مانگی ہے ۔شاید انہیں معلوم نہیں یا پھر وہ اپنی بیماری کی وجہ سے بھول گئے ہیں کہ بلاول زرداری نے کہا تھا کہ اگر زرداری حکم دیں تو ہم حکومت کو ایک دن میں گرا دینگے ۔ شاید بھول کچھ زیادہ ہو گئی ہے ۔
ہماری گزارش ہے تمام انسانی حقوق کے علمبرداروں سے کہ اگر نوازشریف کو علاج کے لئے باہر بھیجا جائے تو جتنے قیدی دل کے مریض ہیں ،گردوں کے مریض ہیں ۔انہیں بھی باہر ممالک میں علاج کے لئے بھیجا جائے ۔ کہ یہ ہی انصاف ہے اور یہ ہی انسانی حقوق کی پاسداری ہے ۔ویسے سنا ہے کہ ایک پتھری بھی نکل آئی ہے ہمیں اُمید ہی نہیں پورا پورا یقین ہے کہ اگر پاکستان کے ١٠٠ لوگوں کا پتھری کے لئے ٹیسٹ کرایا جائے تو ستر ،اسی کے گردوں میں یہ پتھری نکلے گی کیونکہ آپ صاف پینے کا پانی تک نہیں دے سکے عوام کو ۔۔۔۔پتھری نکلی ہے گردوں میں اور احسن صاحب دُہائی دے رہے ہیں کہ میاں صاحب کو دل کے ڈاکٹر کو نہیں دکھایا جا رہا ۔کِس کی عقل پر ماتم کریں سمجھ میں نہیں آرہا ۔اصل میں بات یہ ہے احسن صاحب کہ جو ماحول آج کل ہے وہ شاید آپ نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا ہوگا ۔اس لئے آپ کی عقل کام نہیں کر رہی ۔آپ نے کب سوچا ہوگا کہ فلیٹ مصیبت بن جائینگے جمع کی گئی دولت جس کا شاید آپ کو بھی علم نہ ہوگا باہر آجائیگی ۔جعلی دستخطیں پکڑی جائینگی ،جائیداد جو نہ باہر تھی نہ ملک میں وہ نکل آئیگی ۔جعلی اکاؤنٹ پکڑے جائینگے اور کوئی فون کرنے کو نصیب ہوگا نہ بات کرنے کو ۔
ہماری تو صرف اتنی سوچ ہے کہ جب تک انصاف کُھل کر نہیں ہوگا کسی کو کسی بھی انسانیت کے ضمرے میں لاکر چھوڑا نہیں جائیگا جب تک سخت سے سخت سزائیں نہیں دی جائینگی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ۔بہت ہو چکا کھیل اب عوام کے ٹیکس کے پیسے کو ان بڑوں کے جیل سے لانے لے جانے اور انہیں آسائشیں دینے پر خرچ کر کے آپ بھی ملزم بنیں گے عوام کے ۔آپ نے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا ہے ۔اس لئے ان روایات کو بھی ختم کریں جو ڈاکو ہے وہ ڈاکو ہے جو چور ہے وہ چور ہے اُسے سزا لازمی ملنی چاہئے ۔
خوش آمدید مسٹر بلاول اُس گندگی میں جس کی ہمیں آپ سے امید نہیں تھی جب ہم نے آپ کی تقریر میں آکسفورڈ کو بھی نیچے گرتے دیکھا ،بی بی کی تربیت کو بھی ختم دیکھا اور آپ پر بھی اُس زردارانہ تربیت کا رنگ چڑھتے دیکھا جو آپ کی تقریریں لکھنے والے زہنوں میں ہے تو ہم آس توڑ بیٹھے کہ یہ وہ دلدل ہے جس سے شاید اب کوئی بھی بچ نہ سکے گا ۔افسوس کہ ہم نے مخلافت میں جس طرح بد زبانی کو فروغ دیا ہے وہ بھی ایک طُرفہ تماشہ ہے جو دیکھا جاتا ہے نہ سُنا جاتا ہے۔ اور جب جوان بھی اس رنگ میں رنگ جائیں تو کوئی امید نہیں رہتی ،نہ بڑوں کا لحاظ رہا نہ چھوٹوں کی تمیز لیکن جب باہر کے پڑھے لکھے بھی اس قدر گر جائیں تو ۔۔۔۔۔۔۔تعلیم اور تربیت ضروری ہے ۔لیکن تعلیم تعلیم ہونی چاہئے باہر کی ڈگریاں بھی جب آپ کو ٹھیک نہ کر سکیں تو پھر کسے دوش دیں ۔
سورہ تین میں پیارے اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ،زیتون کی انجیر کی طور کی اور امن کے شہر کی اور فرماتا ہے مفہوم بنایا ہم نے آدمی کو خوب سے خوب انداز پر ۔پھر پھینک دیا اُس کو نیچے سے نیچے (یعنی اخلاقی گراوٹ میں ) مگر جو یقین لائے اور عمل کئے اچھے تو اُن کے لئے ثواب ہے بے انتہاء
ساری دنیا کی کھیتی عمل پر مبنی ہے جو وہاں کام آئیگی جہاں دنیا کی دولت رشتے دوستی سب ساتھ چھوڑ جائینگے ۔جہاں سب کچھ اکیلے بھگتنا ہے ،اس لئے ہماری استدعا ہے کہ خدارا اپنے اعمال پر توجہ دیں ہم مسلمان ہیں ہر قوم کے لئے مثال اخلاق، کردار ،اسوئہ حسنہ اور محبت اور خلوص کی
اللہ میرے ملک کے جوانوں کو عقل اور خرد عطا فرمائے آمین
انسانی حقوق صرف بڑوں کے , عالم آرا
778
0












