المناک سانحہ جعفرِ طیّار سوساٸٹی کراچی
آج ةصیس فرشری کی صبح ساتھ بجے جو تین منزلہ عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے ـ
اس کی بنیاد کچھ ماہ پہلے محمود اختر نقوی نے ڈالی تھی تجاوزات کے نام پر جو گھر ٹوڑے گئے تھے اس میں ان کے گھر کے پلرر کو شدید نقصان پہنچا تھا ـ
مالک مکان کی جانب سے گزشتہ دنوں پلر کی مرمت کا کام جاری تھا جس کی وجہ سے پلر کی کھدائی ہوئی تھی جو کہ حادثے کا سبب بنی ـ
صبح ساتھ بجے کا وقت تھا
گھر کے سبھی افراد اپنی اپنی جاب اسکول یونیورسٹی کی تیاریاں کر رہے تھے ـ
گھر کے سربراہ سید حسن عباس زیدی ابن سید رضی حسین زیدی جو کہ سندھ سیکٹرٹ میں اٹھارہ گریٹ کے ملازم تھے ـ
اہل علاقہ جمی بھائی کے نام سے پکارتے تھے ـ
وہ بھی اس حادثہ میں جاں بحق ہوگئے ہیں ان کی عمر 52 سال تھی ـ ان کی نعش نکال لی گئی ہے ـ
دوسری سربراہ مرحوم کی زوجہ سیدہ زہرا عباس جو کہ گورمینٹ اسکول لانڈھی میں بطور استاد ملامت کرتیں تھیں ـ
جنکی عمر 42 سال تھی اس بد قسمت حادثہ میں ان کی بھی نعش نکال لی گئی ہے ـ
ایک بڑا فرزند 19 سالہ سید صادق عباس زیدی جو کہ اقرا یونیورسٹی کا طالب علم ہے جس کا تاحال معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ وہ عمارت کے ملبے میں موجود کس حال میں ہے ـ
تیسرا فرزند 14 سالہ سید صادق
عباس زیدی جو بھی تاحال عمارت میں لاپتہ ہے ـ
اس وقت ایک ہی فرزند مرحوم کا شاہان عباس زیدی صحت مند انداز میں جناح ہسپتال موجود ہے ـ
پروردیگار مزید لوگوں کو بخیر عافیت رکھے اور اپنے حفظ و آمان میں رکھے ـ
بحق محمد وآل محمد کے صدقے میں مصیبت زدہ خاندان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ـ
الہی آمین












