متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کارکنان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ میں تمام دوستوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں، اُمید ہے نئے شامل ہونے والے لوگ اسی جذبے سے کام کریں گے۔

ایم کیو ایم کے سابق کارکن شکیل احمد نے کہا کہ ہم نے پینتیس سال ایم کیو ایم پاکستان کو دیے، آج لگتا ہے ایم کیو ایم کو ہماری ضرورت نہیں ہے، پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا مقصد شہر کو ترقی دینا ہے، ہم نے پیپلز پارٹی سے کراچی کے مسائل پر بات کی ہے۔

شکیل احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان شہریوں کی خدمت نہیں کر پا رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر کی وجہ سے ہماری سوچ تبدیل ہوئی، میئر کراچی بھی کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں، بلاول بھٹو کا یہ کہنا وزیرِ اعلیٰ کراچی سے بھی ہوسکتا ہے خوش آئند ہے۔

پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو اپنی ہار نظر آرہی ہے، گزشتہ رات ایم کیو ایم پاکستان کے ورکرز نے ہمارے دفتر پر حملہ کیا، ہم نے ایف آئی آر کے لیے پولیس کو ویڈیوز دے دی ہیں۔

سعید غنی کا کہنا ہے کہ سیاسی دفاتر پر اگر حملہ ہوگا تو ماحول پُرامن نہیں رہے گا، ایم کیو ایم آج بھی یہ سوچ رہی ہے کوئی دوسری جماعت ضلع وسطی میں نہیں آسکتی، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس میں دھمکیاں ہیں، ہم سیاسی طرح سے ماحول کو چلانا چاہتے ہیں، ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ہر حلقے اور یوسی میں پیپلز پارٹی کے دفاتر موجود ہے، ہم اپنے ورکرز کو روک رہے ہیں لیکن صبر کا امتحان نہ لیا جائے، بینرز کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر حیرانگی ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے جس کی تصویر لگی ہو ایف آئی آر درج کی جائے، اگر کوئی مخالف ہماری تصویر لگائے گا تو کیا ایف آئی آر ہو جائے گی؟

SHARE

LEAVE A REPLY