چینی حکومت نے سال رواں کے لیے ملکی دفاعی بجٹ میں ساڑھے سات فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال اس بجٹ ک
چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں 7.2 فی صد اضافے کا اعلان کر دیا۔
چین 2015ء کے بعد سے مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور ایک دہائی سے بھی کم وقت میں اس کا دفاعی بجٹ دگنا ہو چکا ہے۔
چینی نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کے آغاز پر دفاعی بجٹ کے ان نئے اعداد و شمار کا اعلان کیا گیا ہے۔
2013ء میں شی جن پنگ کے چین کے صدر بننے کے وقت دفاعی بجٹ 720 ارب یوآن تھا جو اب بڑھ کر 1670 ارب یو آن ہو چکا ہے۔
چین کے امریکا، تائیوان، جاپان کے علاوہ دیگر پڑوسی ممالک سے تعلقات میں کشیدگی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بحیرۂ جنوبی چین پر دعوے کے سبب خطے میں انتہائی جدید عسکری ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ بھی بڑھ گئی ہے۔
ی مالیت تقریباﹰ ایک اعشاریہ دو ٹریلین یوآن ہو گی، جو تقریباﹰ 178 بلین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ یہ رقوم زیادہ تر پیپلز لبریشن آرمی کو جدید تر بنانے، اسٹَیلتھ جنگی طیاروں اور طیارہ بردار بحری بیڑوں کے حصول اور دیگر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کی جائیں گی۔ سن دو ہزار اٹھارہ میں بیجنگ حکومت نے ملکی دفاعی بجٹ میں آٹھ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ کر کے یہ رقوم ایک اعشاریہ ایک ٹریلین یوآن کر دی تھیں۔ چینی فوج دو ملین فوجیوں پر مشتمل ہے۔












