خوش گمانی تھی کہ عمران پِچھلوں سے مختلف ہونگے،حنیف سمانا

0
845

ہم نے عمران خان کے لئے بڑی گالیاں کھائیں۔ بڑے لوگوں کی مخالفت مول لی۔ نون لیگ ، پیپلز پارٹی ، جمیعت، جماعت، ایم کیو ایم ۔۔۔ غرض ہر پارٹی کے ہمدردوں کو ناراض کیا۔ نا صرف فیس بک پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی اپنی ذاتی دوستیاں خراب کیں۔ کچھ تو رشتے داروں کو بھی خود سے دور کیا۔
اور یہ سب کچھ کسی ذاتی غرض یا مالی مفاد کے لئے نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف ملک و ملّت کے فائدے کے لئے کیا۔ ہمیں یہ خوش گمانی تھی کہ عمران پِچھلوں سے مختلف ہونگے۔ وہ اس قوم کے حقیقی مسیحا ثابت ہونگے۔ وہ لُوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ وہ مراعات یافتہ طبقے سے لے کر عام آدمی کو دیں گے۔
مگر۔۔۔
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک ہماری توقعات پوری نہیں ہو پائیں۔ بہرحال ہم نے اب بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

مجھے آج اُس وقت بڑی تکلیف ہوئی جب میں نے روف کلاسرہ اور عامر متین کے پروگرام “مقابل” میں یہ خبر سنی کہ پنجاب اسمبلی کے ممبران اور سابق وزرائے اعلی کی مراعات میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔ وزرائے اعلی منظور وٹو، پرویز الہی، نواز شریف ، شہباز شریف اور دیگر کو دو دو گاڑیاں دی گئیں ہیں اور دس دس گارڈ بھی ۔۔ اُس کی دیگر تفصیلات تو بڑی ہوشرُبا ہیں اور اس ملک کے غریب آدمی کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ بھی ۔
یہ کام اگر زرداری یا نواز کے دور میں ہوتا تو اتنی تکلیف نہ ہوتی چونکہ وہ تو عادی تھے اس غریب قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے اور لُٹانے کے ۔۔۔
مگر عمران خان!!!
عمران خان کے دور میں یہ سب کچھ؟

میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ
“تُو خدا ہے نا میرا عشق فرشتوں جیسا”
کے مصداق ہم نا شخصیت پرست ہیں اور نا ہی ذہنی غلام ۔۔۔ عمران خان ہمارا روحانی پیشوا نہیں ۔
ناقابلِ تنقید بھی نہیں۔
اور پھر عدم نے کہا ہے۔

“ہم وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے
تو میری جان کس گمان میں ہے “

اگر عمران نے وہی سب کچھ کرنا ہے جو پچھلے کرتے تھے تو پھر پچھلے ہی بھلے۔
کم از کم اُن کو کُھل کر چور ڈاکو تو کہا جاسکتا تھا۔

میں وزیرِ اعظم پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ پنجاب اسمبلی ممبران کی تنخواہوں میں اور وزرائے اعلی کی مراعات میں اضافے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ اس وقت ملک تکلیف میں ہے۔ ہم یہ عیاشی افورڈ نہیں کرسکتے۔
حنیف سمانا

SHARE

LEAVE A REPLY