چھ برس پہلے یہ دوہزار انیس میں یہ مختصر کالم لکھا تھا کہ دہشت گرد کون؟ لیکن آج چھ برس بعد کچھ بھی تو نہیں بدلا سوائے سال کے اعداد کے،دوہزار انیس کی جگہ دوہزار پچیس، آج گیارہ نومبر دوہزار پچیس کو پاکستان میں اسلام آباد میں خود کُش حملہ ہوا ہے اور وانا میں خوارج دہشت گردوں نے تا دم تحریر کیڈٹ کالج میں ایک حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور فوج آپریشن کلین اپ کرنے والی ہے،،،،سوال آج بھی وہیں ہے کہ دہشت گرد کون؟
Published on: 16 Mar 2019
دہشت گرد ہے کون ۔۔۔۔ ؟
پندرہ مارچ 2015 بروز اتوار لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ کو دو خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے۔۔۔
ٹھیک 4 سال بعد ۔۔۔
15 مارچ 2019 بروز جمعہ نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر دہشت گردوں نے 49 نمازیوں کو شہید کر دیا اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے ۔۔
ایک تاثراتی نظم ۔۔۔۔ ان بے گناہوں کے نام جو ان دونوں سانحات میں بربریت کا شکار ہوئے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں چرچ کے سامنے زندہ جلادیا گیا ۔۔
دوستو دہشت گرد کہیں سے بھی کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ یکطرفہ محبت کی طرح یکطرفہ نفرت بھی نہیں پنپ سکتی ۔
دہشت گرد ہے کون ؟
میری جنت مکانی ماں
تجھے کبھی اچھا نہیں لگا تھا
اپنے دیس کو چھوڑکر بدیس میں بسنا
مجھے یاد ہے تیرا چھپ چھپ کر رونا
غیروں کو ہنستا دیکھ کر اپنوں کو رونا
اپنا من پسند کھانا یہ سوچ کر ایک طرف رکھ دینا
کہ ۔۔ تیرے دیس میں
بھوک سے مائیں بچے بیچ رہی تھیں
کمسن گڑیاوں کو کئی گدھ نوچ رہے تھے
جس دن لہو سڑکوں پر بکھرا تھا
آگ گھروں ،محلوں میں لگی تھی
اس دن
تو نے آنکھیں آسمان سے نہ ہٹائیں تھیں
جانے کس کس کو مدد مدد کا کہہ رہیں تھیں
پھر تو ہار گئی ۔۔ سارے دیس چھوڑ گئی
ہائے ۔۔ ہائے ۔۔ کی صدا خاموش ہو گئی
میری ماں ۔۔
تو نہیں ہے اب زمین پر
دیکھتی تو ہوگی اپنے دیس پردیس کو
دیکھ کچھ بھی تو نہیں بدلا
وہی خون ، آگ ، وہی سڑکیں اور محلے
جس میں اپنے پرائے سب جل رہے ہیں
مسلم ، عیسائی ، ہندو سب مر رہے ہیں
تو نہیں ہے تو
مدد ۔۔ مدد کی صدا بھی نہیں
ظلم ۔۔ وحشت ۔۔ بربریت ۔۔
دہائی ہے ماں
تو بھی سوچتی تھی
میں بھی سوچ رہی ہوں
محبت کی سلطنت کو نفرت کی دیمک چاٹ رہی ہے
نفرت ہی دہشت گردی ہے
خود سے ہی پوچھو دہشت گرد ہے کون ۔۔ ؟
ڈاکٹر نگہت نسیم













