ہادی عالم”مصنف:ولی محمدزاری۔۔۔ نصرت نسیم

1
4802

” ہادی عالم”
مصنف:ولی محمدزاری
جس وقت سے یہ خوبصورت شاہکار کتاب میرے زیرِ مطالعہ ہے،میں حیرت و استعجاب کی کیفیت میں ہوں اور وجہ اس حےرت و استعجاب کی یہ ہے کہ اکبر کے نو رتنوں میں اےک فیضی کے بارے میں پڑھا تھا کہ انہوں نے غیر منقوط الفاظ میں قران پاک کی تفسیرلکھی یعنی تمام تفسیر میں کوئی نقطے والا لفظ استعمال نہیں کیا گیا لیکن فیضی کی یہ تفسیر چیدہ چیدہ واقعات پرمشتمل ہے جبکہ ولی محمد زاری کی سیرت ایوارڈ یافتہ کتاب”ہادیِ عالم”سیرتِ طیبہ پر پہلی غیر منقوط کتاب ہے۔
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اوۤل وہی آخر
وہی قراں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
سیرتِ طیبہ کے موضوع پر آغازِ اسلام سے ہی بے شمار کتابیں یر زاویہ نگاہ سے لکھی گئیں یہ موضوع جتنا اہم ہے اتنا نازک ہے ۔ زبان و بیان کی زراسی لغرش آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ولی محمد رازی نے سیرتِ طیبہ جیسے نازک و حساس موضوع پر سوا چار سوصفحات اور پونے دو سو عنوانات پر مشتمل غیر منقوط کتاب لکھی جو نہ صرف منفرد ہے بلکہ شاہکار بھی ہے۔ انہوں نے نا قابلِ یقین و محیر العقول کارنامہ سرانجام دیا ہے اور کیوں نہ ہوکہ فاضل مصنف بزرگ حضرت مولانہ محمد شفیع صاحب، مفتی اعظم پاکستان کے صاحب ذادے ہیں۔جنہوان نے اپنے والدِ بزرگوار سے علم کی میراث پائی ہے۔وہی عشقِ نبیﷺکا جذبہ ودیعت ہوا ہے۔ایسے کارنامے عشقِ رسولﷺ کے بغیر نہیں انجام پاتے جس کی وجہ یہ کتاب ہے۔
اردو میں نقط دار حروف ذیادہ ہیں اس لیے رازی کی مشکل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں فیضی کی” سوانح الالہام”جو کوئی باقائدہ کتاب نہیں ، دوسری ابوالقاسم حریری کی مقامات جو درسِ نظامی میں شامل ہے، ایک ایسا خطبہ جس میں کسی حرف پر نقطہ نہیں لیکن یہ تحریریں چند صفحات پر مشتمل ہیں، مزید یہ کہ عربی زبان میں ہے جو ایک وسیع زبان ہے۔ اس کے بر عکس اردو کا دامن عربی کے مقابلے میں تنگ ہے اس لیے غیر منقوط الفاظ میں لکھنا کارِ دارد۔
مصنف اپنی مشکلات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ”اول اول اس محال کام کی رکاوٹوں اور اس راہ کے کوہ ہائے گراں کا احساس آڑے ہوا، حوصلوں کو سردی سی لگی،دل سے کہا کہ اس امرِ حال سے دور ہی رہو۔اس وادی کی لامحدودصلاحیتوں کو کس طرح طے کرو گے، مگر اس احساس سے ڈھارس سی بندھ گئی کہ اگر اللہ کاارادہ ہوا ہے اس کم علم وکم عمل سے کوئی کام لے تو لا محالہ اس کام کا حوصلہ دے گااور اس راہ کے تمام مراحل طے کروائے گا۔”
“مآل کار اللہ کے کرم کےسہارے اردو مصر کی اس گھاٹی کے لئےرواں ہوا کہ اس کا ہر ہر گام ٹھوکروں سے معمور اور رکاوٹوں سے مسدود اہل علم کو معلوم ہے ادھر اس کام کے لئے ایک گام اٹھااُدھر رکاوٹوں کے کوہِ گراں آگے کھڑے ہوئے ہر گام ٹھوکر لگی، مگر یہ ٹھوکر اللہ کی مدد لے کر آئی اللہ کی مدد سے راہ یہ رکاوٹ دھول ہو کر اڑ گئی،اللہ کے کرم کا سہارا ملے اگر کہسارہو دھول ہواکی طرح اُڑے ،واقعی جذبے کی کدال اور عشق کی تلوار سے ہر میدان جیتا جا سکتا ہے۔”عشقِ نبویﷺکی مظہر اس کتاب کے بارے میں ان کے بھائی جن کا نام علمی و ادبی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں۔
مولانہ جسٹس تقی عثمانی صاحب( جو مصنف کے بڑے بھائی ہیں)،”ہمہ خانہ چراغ”لکھتے ہیں”غیر منقوط کتاب لکھنے کا شوق یہ بھی کر اسکتا ہےکہ جو سیرتِ طیبہ کے خاص خاص واقعات کو اختصار کے ساتھ بیان کر کے باقی کتاب کو لفاظی سے بھر دیا جاتا لیکن الحمداللہ برادر معظم اس طریقہِ کار سے محفوظ رہے۔ یہ کتاب سیرتِ طیبہ کی باقاعدہ کتاب جس میں واقعات کی بعض ایسی چیزوں کی جزوی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں جن سے عام طور پر سیرت کی مختصر بلکہ متوسط کتابیں بھی خالی ہیں۔ اردو ادب میں ایسے نادر نمونے خال خال ہی وجود میں آتے ہیں اور صدیوں تک یادگار رہتے ہیں۔”حضرت مولانی ڈاکٹر عبدالحی صاحب فرماتے ہیں” ماہرین علم و ادب و نکتہ و سنجان فکر و نظر جب اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو ان کو جس قدر ادرو ادب کی وسعت و جامعت پر تعجب ہو گا اس طرح ادبِ اردو پر مصنف کے عبورِ کامل اوراسلوبِ نگارش کی جدت پر حیرت ہو گی۔”ڈاکٹر سید عبداللہ ،شعبہ اردو،پنجاب یورنیورسٹی جو بہت بڑے نقاد ہیں اس فن کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں”ولی محمد زاری جو ولمی حاندان کے چشم و چراغ ہیں، ایک ایسا کارنامہ کر گئے جن کی مثال اردو زبان میں موجود نہیں، انہوں نے حضورﷺ کی مکمل زندگی پر غیر منقوط حروف ک ترتیب و ترکیب سے اردو مین لکھ کر اپنی ذہانت و فتانت کا کمال کر دکھایا اور اس اہتمام کے ساتھ کے معمولی جز کی بھی تحقیق و صداقت واقعہ کے خلاف نہ ہو۔اس گارِ خانہ عجائب پر مبارکبادکے مستحق،رواں دواں اور عام فہم زبان، اس کو اردو زبان میں بیش بہا اضافہ کہا جا سکتا ہے”رئیس امروہوی جیسا بڑا شاعر ،ادیب اور کالم نگار بیان کرتے ہیں کہ ” خدا شاہد ہے جو شعر و ادب کے اس نادر شاہکار سے متاثر نہیں ہوا،جتنی حیرت ہادی عالم کے مطالعے پر ہوئی ۔اردوِ معلیٰ میں لکھی گئی یہ کتاب غیر منقوط ہے،وہ مقام ہے جہاں فضاحت کی زبان گنگ اور بلاغت کے ہواس ضبط ہو جاتے ہیں۔فیضی کی سانح الہام کے چرچے ہیں،لیکن وہ کوئی مسلسل عبارت نہیں معجزہ نہیں تو ادبی شاہکار ضرور ہے۔دورِ اول سے لے کر آنحضرت ﷺ کے وصال سے تک تمام واقعات صحتِ علمی کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔”مندجہ بالا توصیفی کلمات کے بعد ضروری ہے کہ اس کتاب کے چیدہ چیدہ اقتسابات قارئین کے لئے لکھوں تاکہ ان پر کتاب کی خوبیاں واضح ہوں اوران کے اندر خود کتاب پڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔”اللہ کے اسم سے رحم والا کمالِ رحم والا ہے،سرکارِ دو عالم محمدﷺ پر لاکھوں درودوسلام۔”اقتباس”سرکارِ دو عالم محمد ﷺ کے لئے لاکھوں درودو سلام اس کا ہر عمل اس کی ہر ادا وحی الٰہی کے اسرار لئے ہوئے،لاکھوں سلام اس علم و عمل کو،کہ اس کے طلوع سے صدہا سال کی گمراہی سے لوگوں کو رہائی ملی ،وہ رسولِ امی کہ اللہ تعالیٰ اس کا معلمِ وحی اس کا مدرسہ علم اس کی کملی ہے اور عدل اس کی کرسی ،رحم و کرم اس کا علم ہے اور صلہ رحمی اس کا درس وہ ہادی و کامل اس کا گھر علومِ وحی کی درسگاہ اول وہ علم و عمل کا کوہِ گراں کہ کلامِ الٰہی اس کے لئے گواہی دے کہ اس کا پر عمل سارے عالم کے لئے اسوہِ کاملہ ہے”ایک اور اقتباس مسعود کے بارے میں ملاحظہ ہو۔
“وہ رسولِ امم کے اس کے لئے صدہاں لوگ دعا گو رہے ،اہلِ عالم کی مرادوں کی سحر ہوئی ہے ، دلوں کی کلی کھلی ، گمراہوں کو ہادی ملا ، گلے کو راہی ملا،دلوں کو سہارا ملا ،اہلِ درد کو درماں ملا، گمراہ حاکموں کے محل گرے ،سالہاں سال کی دہکی آگ مٹ کے رہی۔”
اس کے بعد معراجِ نبوی کے اہم ترین واقعات کو یوں بیان کرتے ہیں۔”ہادیٓ کرام کوئی آدھی صدی عالمِ ملائک کا ہر اکرام اورہر عہدہ اس سے کم ہے دوسرے رسول اس اکرام سے محروم رہے ۔”اسی حوالے سے ایک اور خوبصورت اقتباس”سردارِ ملائک وہاں سے رسول کو لے کر سمائےاول رواں ہوئے،درِ سماوی کھلااور وہاں رسول اکرم اللہ سے ملےاور حمد کی۔سماءِ دوم آکر رسول اللہ ﷺ روح اللہ سے ملے اس طرح اک سما سے دوسرے سما ءکو رواں ہوئے اور اللہ کے رسولوں اور ملائک سے مل کر وہاں سے ہادی کرام سوئے ملاءِ اعلیٰ رواں ہوئے دارالسلام دارآلام کے احوال مطالعہ ہوئے۔”یہ تو چند اقتباسات تھے پوری کتاب اپنے اندر سیرتِ طیبہ کے تمام واقعات وجذبات کے ساتھ اردو مصر آ میں لکھی گئی اور بقول رئیس امروہوی کہ جہان ِ فضاحت کی زبان گنگ اوربلاغت کے حواس ضبط ہو جاتے ہیں ۔لہٰذا ضروری ہے کا قارئین خود اس کا مطالعہ کریں۔

نصرت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. ولی محمد زاری …. مصنف کا نام نہیں ہے. بلکہ محمد ولی رازی ہے. زاری کی بجائے رازی. کچھ عقل کو بھی ہاتھ مار لیا کریں.

LEAVE A REPLY