معلوم تھا کہ سامنے انجام آئے گا
جو بھی جواب آئے گا ناکام آئے گا
اس دل کی دھڑکنوں کو یہ پُختہ یقین ہے
وہ لوٹ کر جو آیا سرعام آئے گا
اس پیار میں ہے جیت کا صدیوں سے یہ اصول
ہم جانتے ہیں ہم پہ ہی الزام آئے گا
یہ اور بات تم نے بھلایا ہمیں مگر
او بے وفا تو یاد بہ ہر گام آئے گا
وہ خود پرست اورنزاکت انا پسند
دیکھیں گے کون پہلے تہہ دام آئے گا
نزاکت شکیلہ













