مردہ ہے اور جہالت میں لتھڑی ہے وہ عوام جو سیکھنے کے راستوں پر انا کے اور خواہشات کے پتھر رکھ لیتی ہے اور انسان بد ترین مخلوق بنتا چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ کسی حیوان سے مماثلت بھی اس حیوان کی توہین ہو گی ۔ ۔ مگر افسوس کہ ہم
اول تو اپنا مکروہ چہرہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ ۔
اور دیکھ بھی لیں تو قبول نہیں کرنا چاہتے۔ ۔
اور قبول بھی کر لیں تو درست کرنے کی سکت سے محروم ہیں کیونکہ ہماری رایوں میں بزدلی، خوف، کم ظرفی ، بے عملی کے سانپ ناچتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ ۔جو ہمیں اپنے حساب سے چلاتے ہیں اور ہم کٹھ ہتلیاں بنے ایک عجیب و غریب سی کشمکش میں مبتلا۔ ۔ ۔!
اخلاقیات سیکھے بنا دین سیکھنا اہسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم ۔ ۔ ۔
دوسرا یہ کہ جب میں نے یہ سوچا کہ میرا بچہ اپنوں میں آس پاس کے لوگوں میں محفوظ رہے تو سوچا کہ اتنا بھی بے اعتبار ہونا درست نہیں اعر در حقیقت یہ ےکلیف دہ ہے کہ ہم اہبوں پر ارد گرد کے لوگوں پر ارتبار ہی نہ کر سکتے ہوں مگر مسئلہ یہ ہے
کہ جب میں ایک انسان کی حیثیت سے ٹھیک ہی نہ ہونا چاہتاہوں۔ ۔ ۔
جب میں اپنی بد کرداریوں کا الزام دوسروں کے سر ڈالکر خود کو کمزور ظاہر کر کے ان سے مبرا ہو جانا چاہتا ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ ایسے معاشرے میں موجود لوگوں پر میں اعتبار کر پاوں۔ ۔ ۔
جہاں کے بت جہالت ، مفادات، عیش پرستی، زنا، کرپشن ، سودے بازی ،ملاوٹ ،گھٹن اور ظلم، ہوں جنکو سارا دن اور رات ہم پوجتے رہتے ہوں اور خود کو بہترین مسلمان
اور مومن کہلانے کا عجب شوق رکھتے ہوں تو یہ بات کچھ سمجھ میں نہین آتی ۔ ۔ ۔کہ منافقت اور ریا کاری ہماری عبادتیں ہوں اور اجر میں ہم جنت چاہییں کیا یہ ممکن ہو پا ئیگا۔ ۔ ۔؟
کیا یہ سوچ درست ہو گی؟
جب ہم مردوں کو بھی قبر سے نکال کر بد کرداری کر سکتے ہیں تجارت کر سکتے ہیں اور
زندوں کو بھی اپنی جہالتوں ، ہوس، تجارت، مفادات، جنونی روایات کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں تو پھر خود سے پوچھ لیں کہ انجام کار کیا ہے۔ ۔
خود سے سوال کیا کبھی کہ کیا میری زات۔ ۔
سے دوسرے امن میں ہیں۔ ۔ ؟
کیا میں ماں بہن کی اور دوسری گالیاں نہیں بکتا؟
کیا جب میڈیا نہیں تھا تب یہ سب نہیں ہوتا تھا؟
کیا آج کے ماڈرن کوٹھوں پر جسم بیچنے والی بچیاں ہمارے معاشرے کے وہ گناہ نہیں جو سیاہ راتوں اور روشن دنوں میں ہمارے بڑے بڑے شرفا کرتے ہیں اور پھر انکو گندگی ہی میں پلتا چھوڑ کر اگے بڑھ جاتے ہیں ۔ ۔
کیا یہ سب رویے نئے ہیں ؟
جب یہ سب صدیوں سے چلا آرہا ہے تو اس میں قصور ہماری حیوانییت کے اس جانور کا ہے جو ہماری عقلوں، قلبوں روحوں پر رقصاں ہے اور ہمیں اپنے ہاتھوں نچاتا پھرتا ہے ۔ ۔ اور ہم اسکے غلام جبکہ ہونا تو ہمیں حکمران چاہییے تھا اپنی کمزوریوں کو سدھارنے کی بجائے
ہمارے پاس تاویکیں ہیں کہ میڈیا نے یہ کر دیا، انڈین فلموں نے وہ کر دیا ،پاکستانی ڈرامے ایسے ،عورت کو گھر میں بند کردو، اب یہ کرو
کہ معصوم چوں کو بھی بند کردو ۔ ۔ ۔انکو بھی سکول کالج یونیورسٹی ٹیوشن سنٹر مدرسوں میں مت بھیجو۔ ۔
گلیوں تک میں نہ نکالو۔ ۔ ۔ !!!
خالووں چچاوں انکلوں ٹھرکی بوڑھوں سے اور ہوس پرست عورتوں اور مردوں سے بچا کہ رکھو ۔ ۔ ۔
کیا آج کا مرد ہو عورت یا کہ بیشتر بزرگ کیا ہم نہیں پڑھ سکتے انکی حیوانییت۔ ۔ ۔
کیا ہم نہیں جانتے کہ پولٹیکل پارٹیز میں ایک خاص طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین نوجوانوں کو بلا کر کیا کرتی ہیں ؟
یا مردحضرات کس طرح خواتین کا بے دریغ جرات مندانہ استعمال کرتےہیں ؟
کیا ہم نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے کتنی ساری بنت حوا کتنے بستروں کی کس کس طرح سے زینت بنائی جاتی ہیں اور کسی کہ جرات نہیں کہ کچھ بول ہی سکے کیون کہ خریدار صاحب اختیار ہیں اور بیٹیاں مجبور ۔ ۔ ۔اور جب مجبوریوں کی عادت لگا دی جائے تو انسان کے پاس باہر آنے کا اختیاری راستہ ہوکر بھی وہ جرات نہیں رہتی کہ وہ اس سے ابھر پائے ۔ ۔
لڑ پائے۔ ۔ ۔
کیوں کہ ہم ایک دودرے کی اچھائی میں طاقت نہیں بنتے اور برائی میں دھکیل دیتے ہیں اور کوئی نکلنے کی کوشش بھی کرے تو اس کو منفی رویون جملون باتون کے باعث مزید کمزور کر دیتے ہیں تو پھر ہم خود کو اچھا کیسے سمجھ لیتے ہیں ؟
کہ جب ہم اچھائی میں مدد گار نہی برائی میں بڑھاووں کا باعث ہیں گناہوں اور بد خرداریوں کے سد باب کے لیے اپنے کردار کو پاکیزہ نہیں کرتےاور دوسروں کو بھی گندہ کرکے اطمیننان محسوس کرتے ہیں ؟
معاشرے زوال پزیر تب ہوتے ہیں۔ ۔ ۔
جب انسانوں کا اچھائی پر سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ ۔ ۔
جب انہیں لگتا ہے کہ ہماری کسی کوشش سے کچھ نہیں بدلنے والا۔ ۔ ۔
جب ان میں برائی صاف کرنے کی جرات نہیں ہوتی اور جو کچھ اچھا کرنے کی کوشس کر رہا ہو اسکو بھی شک و شبہ کی نزر کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔
جب ماووں کا کردار محدود کر دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔اور ان سے سوچنے سمجھنے سیکھنے اور بہتر کرنے کی سب عملی کوششوں کو انجام دینے کی ہر کوشش کو کم عقل۔ ۔ ۔جاہل ۔ ۔ بد عمل کہ کر روک دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔
اور جو آزادی کے نام پر ازادی اور فیصلوں کا اختیا ر انکے پاس ہوتا بھی ہے تو وہ غیر تعمیری ، دکھاووں، فلموں ، ڈراموں اور خاندانی سیاستوں پر مبنی ایک زہریلا کردار رہ جاتا ہے جو اشتعال پسندی، حقارت، تزلیل، محرومیوں اور احساس کمتری پر مبنی ہوتا ہے۔ ۔ ۔
جب انسان اپنی شعوری سطح کو بلند کرنے سے خوفزدہ دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔اور غلط منفی رویوں اور روایت کو سینے سے چپکائے دین سے منافقت کرتے دین دین کرتا دکھئی دیتا ہے۔ ۔ ۔
اگر بدلنا ہے ۔ ۔ ۔تو اندر جھانکو۔ ۔ ۔
اتنا گہرائی سے دیکھو کہ اپنی صفائی سے فرصت ہی نہ مل پائے ۔ ۔ ۔
اپنا دل، زبان، آنکھ، روح و قلب پاک کیے بنا ہم کسی طور بھی دیندار نہیں ہو سکتے بلکہ اس کی توہین ہم کرتے ہیں جب خود اخلاقیات کی سمجھ سے عری اور غیرت کو بے۔ ۔ ۔
غیرتی اور بے غیرتی کو عزت
جہالت کو علم اور علم کو جہالت
جاھل کو عالم اور عالم کو کافر اور جاہل
جب ایکدوسرے کا بازو اور ہاتھ بننے کی بجائے ہم ایکدوسرے کو کاٹنے پر یقین رکھتے ہوں۔ ۔ ۔
جب سامنے والے کی جیت اور خوشی ہمارے لیے باعث حسد ہو اور جب کہ ہم دوسرے کے لیے دشمن ۔ ۔
جیسے کوئی دکھاووں اور سٹیٹس کی ریس لگی ہو اور ہم سب دوسروں کو گرا کر خود جیت جانا چاہتے ہوں ۔ ۔ کبھی سوچا ہے کہ ۔ ۔
دوسروں کو گرا کر کبھی جیت ہو سکتی ہے کیا؟
دوسروں کی عزتیں ، سکون ، زندگیاں برباد کر کے کیا حاصل کیا گیا اطمیننان اور خوشی کیا واقعی ہی اطمیننان اور خوشی ہوتا ہے؟
جو دوسروں کی زندگیون میں اگ اور زہر انڈیلتے ہیں انجام انکا بھی زہریلا اور آگ سے جلنا ہی ہوتا ہے بس ظایری حصول کا فرق ہے۔ ۔
نیک کو بد کردار اور با کردار پر بد کاری ی کاری ضربیں لگاتے ہیں ۔ ۔ ۔جب میعار اور سمجھ ہی غلط ہو۔ ۔ ۔
بنیاد ہی غلط ہو تو کیسے بدل سکتا ہے نظام؟
فائزہ عباس













