امریکی ریاست وسکانسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوگی جس میں امریکی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والی ہیلری کلنٹن کی ٹیم حصہ لے گی۔

وسکانسن کے الیکشن بورڈ نے گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اجازت دی ہے۔

گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کا کہنا تھا کہ وہ امریکی انتخاباتی نظام کی سالمیت کا یقین کرنا چاہتی ہیں، کیوں کہ 8 نومبر کے صدارتی انتخابات کے دوران ہیکنگ کی افواہیں زیرگردش تھیں۔

دوسری جانب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے جب کہ ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے مشیر مارک ایلیس کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی مہم میں شرکت کرے گی۔

مارک ایلیس کے مطابق پنسلوانیا اور مشی گن ریاستوں میں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں حصہ لیا جائے گا۔

ایلیس کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کا دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیوں کہ ان کی ذاتی تحقیق کے مطابق انہیں انتخابات کے دوران ہیکنگ کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

ہیلری کلنٹن کی انتخابی ٹیم کے مشیر کے مطابق اب جب ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اجازت دی گئی ہے تو وہ بھی اس مہم میں حصہ لیں گے، کیوں کہ وہ اس عمل میں شریک ہونے کی قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکا کی 3 ریاستوں میں واضح برتری حاصل کی،جب کہ انہیں ریاست پنسلوانیا میں 70 ہزار ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے اور گرین پارٹی پہلے ہی ان کی جیت تسلیم کرچکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کوریاست پنسلوانیا میں 70 ہزار سے زائد، ریاست مشی گن میں10 ہزار 704 جب کہ ریاست وسکونسن میں 27 ہزار 257 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکٹورل ووٹوں سے جیتے تھے جب کہ عام ووٹوں میں ہیلری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر 20 لاکھ ووٹوں کی سبقت حاصل تھی۔

وسکانسن کے الیکشن بورڈ نے گزشتہ روز گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بعد آج اس کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY