اس نسل کو تو شاید بہت زیادہ معلوم نہ ہو کہ پاکستان میں رمضان کے دوران سحری میں جگانے والے کیسے آیا کرتے تھے اور کس کس طریقے سے لوگوں کو سحری کے لیئے اٹھایا جاتا تھا
ہمیں اپنا بچپن یاد یے کہ اول تو محلے کی مساجد سے اعلانات شروع ہو جاتے تھے کہ سحری کا وقت ہو گیا ہے اور یہ اعلانات سحری ختم ہونے تک وقفے وقفے سے جاری رہتے تھے جسکے بعد فجر کی اذان ہو جاتی
پھر جگانے والوں میں پیشہ ور لوگ بھی شامل تھے جو ڈھول بجاتے، ہارمونیم پہ نعتیں پڑھتے اور حمدیہ کلام گاتے
محلوں میں نوجوانوں نے ٹولیاں بنا رکھی ہوتی تھیں جو اپنے اپنے اور ملحقہ محلوں میں روزہ داروں کو جگانے کے لیئے نعتیں اور منقبتیں پڑھتے تھے
اب یہ رواج لگ بھگ ختم ہو گیا ہے کہ ٹی وی چینل سحری افطاری نشریات کرتے ہیں
خلجی ممالک میں افطار کے لیئے گولے داغے جاتے ہیں
تاہم اب انڈونیشیا میں سحری کے لیئے لوگوں کو جگانے کے لیئے جیٹ طایروں کا استعمال کیا جا رہا ہے
مکمل خبر اس طرح ہے
مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا میں جیٹ فائٹرز طیارے استعمال کر کے شہریوں کو سحری کے لیے جگایا جاتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کی فضائیہ نے سحری کے دوران شہریوں کو جگانے کے لیے ایئر فورس کی خدمات حاصل کی ہیں جو سحری کے وقت گرجدار آوازیں پیدا کرنے والے جیٹ فائٹرز طیارے اُڑائے گا ان آوازوں کو سن کر شہری فوراً اٹھ جاتے ہیں۔
ٹویٹر پر پیغام میں انڈونیشیائی فضائیہ نے اعلان کیا کہ رمضان میں پائلٹس کے تربیتی سیشن بھی سحری کے اوقات میں ہوں گے اور تربیتی پروازیں تمام بڑے شہروں کے گرد چکر لگائیں گی جس سے شہریوں کو سحری کے لیے اُٹھانے کی روایت بھی برقرار رہے گی۔
صفدر ھمدانی













