ذیلی عنوان پاکستان تحریک انصاف کا وہ سلوگن ہے جو کافی عرصہ تک انتخابی نعرہ بنا رہا پورا سلوگن کچھ یوں ہے کہ ” ہم نہیں تو کون ، اب نہیں تو کب ” تحریک انصاف کا یہ سلوگن بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جماعت نے یہ سلوگن 2013 کے انتخابات میں استعمال کیا تھا مگر تب اس سلوگن کو کچھ خاص پزیرائی حاصل نہ ہو سکی اسی لئے 2018 کے عام انتخابات کے لئے نیا سلوگن ” دو نہیں ایک پاکستان ” سامنے لایا گیا- ہم نہیں تو کون اور دو نہیں ایک پاکستان میں خاص پیغام ہے ایک سلوگن میں زور” ہم ” پر ہے اور دوسرے میں” ایک” پر –
کوششیں رنگ لے آئیں اور “ہم ” نے” ایک” کو موقع دے دیا موقع کیا ملا کہ” ایک” نے بھرپور کوشش شروع کر دی کہ اب صرف وہ ہی وہ ہو – آصف علی زرداری کو جتنا استعمال کرنا تھا کر لیا گیا اس لئے ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا کیسوں میں اتنا الجھا دیا گیا کہ ان کے لئے سیاست اس پرائی کی مثل ہو گئی جس کے بارے میں کسی نے کہا تھا ” تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ” اب وہ پرائی کے لئے وقت نکال نہیں پا رہے اور اپنی نبیڑنے کے لئے عدالتوں کے پھیرے لگا رہے ہیں وہ تو بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا وہ” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ بلند کیئے ہوئے ہے ورنہ زرداری صاحب تو تمام تر توقعات کا محور و مرکز مولانا فضل الرحمن کو بنائے بیٹھے ہیں کہ وہ بڑے بڑے جلسے کر کے اپنے کارکنان کو متحرک کر چکے ہیں اور رمضان شریف کے بعد ان کا ارادہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں چوکڑی لگانے کا ہے ایسے میں اگر مسلم لیگ ن بھی خواب خرگوش سے انگڑائی لے کر اٹھ جاتی ہے اور مولانا فضل الرحمن کی امامت کو قبول کر لیتی ہے تو پھر ہم نہیں تو کون والا فلسفہ پروان چڑھتا دکھائی نہیں دیتا کہ عمران خان صاحب کا دھرنا تو تب تک دھرنا تھا جب تک ان کے کزن طاہر القادری کا ساتھ انہیں میسر رہا منہاج کے کارکنان کی گھروں کو رخصتی کے بعد ایک کنٹینر اور چند سو خالی کرسیاں دھرنا دیئے بیٹھی رہیں مگر مولانا فضل الرحمن کے تربیت یافتہ کارکنان 126 دن نہیں 365 دن بھی بیٹھنے کی اہلیت اور حوصلہ رکھتے ہیں دال کے تڑکے کے لئے بھٹو کے جیالے اور نواز شریف کے متوالے بھی ساتھ ہوں گے تو سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا-
مذکورہ صورت حال تو تب پیش آ سکتی ہے جب اس کا وقت آئے گا کہ مولانا فضل الرحمن کی تو انتخابات کے فورا بعد سے خواہش یہی تھی کہ نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نئے انتخابات کی جانب بڑھا جائے مگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں لولی لنگڑی جمہوریت کی بساط بھی لپیٹی جا سکتی ہے اس لئے انہوں نے عمران خان کو موقع دینے کا فیصلہ کیا موقع تو مل گیا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نہیں تو کون کے دعوے داروں نے ایک بہترین حکمت عملی کے تحت اپنی مخالفت تین بڑی جماعتوں کی قیادت کو اپنے نشانے پر رکھ لیا منصوبہ بندی کے تحت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام ف کی اعلی قیادت کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کا بیانیہ تشکیل دیا گیا تاکہ ہم نہیں تو کون کو مخالفت کھلاڑیوں سے خالی میدان میسر آ سکے اور وہ کھل کر کھیل سکے گذشتہ تقریبا نو ماہ کے کھیل کا جائزہ لیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ ان نو ماہ میں عمران خان خود ہی بولنگ کر رہے ہیں خود ہی بیٹنگ اور اپنے لگائے ہوئے چوکے چھکے پر خود ہی فیلڈنگ بھی کیئے چلے جاتے ہیں صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ تو چوکا روکنا ہے اور نہ ہی ہوا میں اٹھی ہوئی بال کو کیچ کرنا ہے کہ اس طرح خود کو خود ہی آوٹ تسلیم کرنا پڑ جائے گا-
کھل کھیلنے کا موقع ملنے کے باوجود نہ تو کھلاڑی اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں نہ ہی شائید سلیکٹرز کہ کھیل میں دلچسپی کا عنصر دن بہ دن کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اسکور بورڈ پر رنز کے ہندسے بجائے آگے بڑھنے کے مسلسل پیچھے کی جانب سرک رہے ہیں جہاں تک تعلق ہے تماشائیوں کا تو وہ بھی اب بے زاری کی انتہاوں کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ ہر آنے والے نئے دن ان پر مہنگائی اور بے روزگاری کے چوکے چھکے آسمان سے برستے اولوں کی مانند پڑ رہے ہیں جو تماشائیوں کے دماغ کی چولیں ہلائے چلے جاتے ہیں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے لاوا کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو اس لئے کہ پہلے ہی سے معاشی دلدل میں دھنستے ملک کے لئے یہ اچھا شگون نہیں ہو گا –
معیشت کی تباہی کے ساتھ ساتھ سیاست کی تباہی اور بربادی میں بھی اس دوران میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی کہ نیب کی جانب سے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کا کریڈٹ خود لینے کے چکر میں ہم نہیں تو کون نے احتساب کے عمل کو اس حد تک مشکوک بنا دیا ہے کہ عوام نے زرداری اور شریف خاندان کو مظلوم سمجھنا شروع کر دیا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے قصور وار ہوں مگر جب تک عدالتوں میں ثابت نہیں ہو جاتا چوبیس گھنٹے ان کی پگڑیاں اچھالنے کا عمل اب عوام الناس میں پذیرائی حاصل نہیں کر پا رہا مزید ہم نہیں تو کون کے دعوے داروں کی جانب سے” اپنوں” کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے بیوروکریسی میں کی جانے والی تبدیلیاں اور خزانے کی تمام چابیاں IMF کے حوالے کرنے سے بھی معاملات گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے جا رہے ہیں جس سے کھیل کھلاڑیوں کے ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے-
نو ماہ سے جاری اس کھیل سے اب تماشائی اکتاہٹ اور بوریت محسوس کرنے لگے ہیں توقع تو یہ تھی کہ ہم نہیں تو کون کے دعوے داروں نے گزشتہ 23 سال میں بڑی زبردست تیاری کر رکھی ہو گی جس سے وہ ملک کی کشتی کو پار لگا دیں گے مگر موجودہ ملاح تو ایسے اناڑی ثابت ہوئے کہ چپو چلانا تو ایک طرف ان سے تو سہی طرح چپو پکڑا بھی نہیں جا رہا یوں اپنی نااہلی کے سبب یہ ملکی معیشت کی کشتی کو اس منجدھار میں لے آئے ہیں جہاں سے اسے نکالنے کے لئے ایک ماہر ملاح کی ضرورت ہے اب یہ ملاح اسمبلی کے اندر سے تبدیلی کے ذریعے آتا ہے یا ؟ – یہ یا بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اس لئے کہ کچھ اور بھی تو عمران خان والی سوچ رکھتے ہیں کہ ہم نہیں تو کون؟…!













