رمضان المبارک کےآخری عشرے میں بھی ہم داخل ہی نہیں بلکہ اس کے خاتمے تک پہونچ گئے اور آج بہت سے مومن رمضان المبارک کو الوداع کہنے مسجد جارہے ہیں؟ ابتو اتنا رواج نہیں رہا لیکن ہمارے بچپن میں ہمارے اجداد پر اس روز رقت طاری ہو جاتی تھی اور آنسوؤ ں کی جھڑیاں لگ جاتی تھیں جب امام صاحب خطبہ دیتے تھے اور دعامانگا کرتے تھے۔اب وہ بھی یوں کم ہوگیا ہے کہ میڈیا ہر وقت اتنے کریہہ مناظر دکھاتا ہے کہ مسلمانوں کے انہیں دیکھ دیکھ کر دل پتھر ہوچکے ہیں؟اب ان کے آنسو بھی کسی بات پر نہیں بہتے وہ قابل عزت ہیں جن کے آنسو کسی کو درد میں دیکھ کر بہنے لگتے ہیں؟ور نہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں لوگ آنسو بہانے کے بجائے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے جو پودا لگایا تھا اب وہ پھل دینے والا ہے؟ جیسے کہ کبھی دہقان اپنی آنے والی فصل دیکھ خوش ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ بھی اس لیے خوش نہیں ہوتا کہ اس کا فصل اور زمین سے وہ رشتہ ہی نہیں رہا کیونکہ پاکستان میں زمینداری ابھی تک باقی ہے۔ اور انہوں نے زمینوں پر مشینیں خرید کر میکنائزڈ اگریکلچرل فارم بنا لیے ہیں اور کاشتکاروں کو زمین سے بیدخل کر دیا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب شہروں کا رخ کرلیا ہے؟ کیونکہ اب ان کی دیہاتوں میں ضرورت ہی نہیں رہی تھوڑے دنوں کے بعد اور بھی نہیں رہے گی کہ انسان کے بجا ئے روبوٹ ڈرائیور ہونگے اور مشینوں کو چلانے کے لیے بھی روبوٹ اور وہ بھی ریموٹ سے چل رہے ہونگے جیسے کہ پاکستاں کے حکمراں باہر سے کنٹرول ہوتے ہیں اور یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کون کنٹرول کر رہا ہے؟دیکھئے میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا؟ بات آنسوؤں سے شروع ہو ئی تھی اور پہنچ گئی آج کی دنیاوی زندگی تک ورنہ اسلام نے تو اصول یہ دیا تھا کہ زمین اس کی جو اسے کاشت کرے اور جو غیر آباد رکھے اس کی نہیں؟ کیونکہ اس سے ریاست واپس لے لیتی تھی؟ یہ بات حضرت عمر ؓ کے زمانے میں آپ کو عام ملے گی؟ جبکہ حضور (ص)کے زمانے میں تھوڑا نظام مختلف یوں تھا کہ مدینہ منورہ میں مہاجروں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جن کی مواخاۃ کرادی گئی تھی لہذا ن کو وہ زمینیں وااپس کرنا تھیں جو مواخاۃ کی وجہ سے انصارسے لی گئی تھیں؟ یہ وضاحت میں نے ضروری سمجھی جو میں نے کردی ہے، ورنہ لوگ مجھے جھٹلادیتے؟
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف؟ کہ میں نے رونے پر اتنا زور کیوں دیا؟ اس لیے کہ حضور (ص) مسلمانوں کواللہ کے خوف سےرونے کا باقاعدہ حکم دیتے تھے۔ جب کوئی یہ کہتا تھا کہ مجھے تو رونا آتا ہی نہیں تو فرماتے تھے کہ اگر رونا نہ بھی آئے تو کم از کم روتوں جیسی شکل ہی بنا لو؟ اس فعل کے بارے میں ایک حدیث بھی موجود ہے کہ“ جو خدا کے سامنے جاکر پیش ہونے سے ڈر گیا وہ فلاح پاگیا“ لیکن ہماری اب حالت یہ ہے کہ جب رمضان آتے ہیں تو ذخیرہ اندوز خوش ہوتے ہیں کہ اب کمانے کا موسم آگیا اور وہی اس کے ختم ہونے پر زیادہ رنجیدہ بھی ہوتے ہیں کہ الوداع جلد کیوں آگئی کہ کمانے کا مو سم نکلا جارہا ہے؟ ذخیرہ شدہ چیزیں بچ گئی ہیں ان کے دام گرجائیں گے؟یہ اسلام کے بجا ئے سرمایہ درانہ نظام پر عامل ہونے کی برکت ہے کہ آپ کو بوڑھے اور بوڑھیاں کہتے ہوئے سنائی دیں کہ نہ جانے کیوں ہر چیز میں سے برکت اٹھ گئی ہے؟ اور یہ ہی وجہ ہے کہ رمضان کی برکت بھی اٹھ گئی کیونکہ وہ دولت جو لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر جمع کی جا ئے وہ حرام کمائی میں آتی ہے۔ اور مسلمان یہ بھولے ہوئے ہیں کہ حرام مال میں نہ برکت ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے فائدہ ؟اگر کیا جا ئے تو وہ کرنے والے کےمنہ پر مار دیتا ہے۔اور اس سے جو اولاد پرورش پاتی ہے اس میں نہ لحاظ ہوتا ہے نہ وہ لگاؤہو تا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے سورہ مسطور کی کی آیت نمبر 21 اور اس سے آگے کی آیتوں میں فرمایا ہے۔ بہر حال جنہوں نے ان تمام باتوں کا خیال رکھا جو کہ قرآن اور حدیث میں ان کو ملیں انہیں بہت بہت عدمبارک کہ وہ آخر عشرہ سے جہنم سے نجات لیکر سرخرو گزرے؟ عیدکو عید گاہ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات سے سرفراز ہوں؟ جبکہ ان کے لیے ہدایت کی دعابھی، افسوس کے ساتھ کہ جنہوں یہ موقعہ بھی گنوادیا؟ بلکہ گناہ کچھ اور بڑھا کے نکلے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے (آمین)













