پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی نے کسی بھی قسم کی ہڑتال کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں شریک وکلاء نے کہا کہ عدلیہ اپنی فہم و فراست کے مطابق ریفرنس کا فیصلہ کرے، ہمارا مقصد بے لاگ احتساب ہے، شخصیت نہیں اداروں کو مضبوط دیکھنا ہے۔

وکلاء کی جانب سے تقریب میں قرار داد بھی پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

سیکریٹری پنجاب بار کونسل شاہد گوندل کی زیرصدارت اسلام آباد میں وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پنجاب بار کونسل سمیت کئی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں شخصیت کی نہیں رول آف لا ء کی پیروی کرنی ہے، ہمارا مقصد بےلاگ احتساب ہے، ہمیں شخصیت کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط دیکھنا ہے، آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے۔

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہو سکتا ہے، قانون سے کوئی بالاتر نہیں چاہے جج ہی کیوں نہ ہو۔

شرکاء نے صدر سپریم کورٹ بار کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کیا جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی رکنیت معطل کرنے کی مذمت بھی کی گئی۔

یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی وکلاء کا اوپن ہاؤس اجلاس بلائیں اور ان سے فیصلہ لیں۔

ممبر پاکستان بار کونسل شفیق بھنڈارہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکیل دلیل سے بات کرتا ہے، صدر پاکستان نے جو ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے وہ عین قانون کے مطابق ہے، سپریم جوڈیشل کونسل ان ریفرنسز پر میرٹ پر فیصلے کرے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انصاف کی فراہمی کے لیے وکلاء اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے، سپریم جوڈیشل کونسل کو اس کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

تقریب کے اختتام پر شفیق بھنڈارہ نے قرارداد پیش کردی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY