اکثر پل زندگی میں انسان کو مکمل توڑ دیتے ہیں…
یہ لمحے بہت اہمییت کے حامل ہوتے ہیں کے جن میں سہ پانا اور کہ پانا نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے… جہاں ازیت، کرب، درد انتہا پہ ہوتے ہیں… جہاں تکلیف کی چوکھٹ پہ کھڑا انسان بے بس سا ہوتا یے… نہ جی پاتا ہے نہ مر پاتا ہے… اور ازیت اور جلن وجود کو جھلسائے چلی جاتی ہے یہاں تک کے انسان کے ہوش تک سلامت نہیں رہ پاتے….
ٹوٹتے لچک رکھنے والے لوگ ہیں….
اور ٹوٹنا… بننے کے عمل کا آغاز ہے… منحصر انسان پہ ہے.. کے ٹوٹنے کے بعد بننے والا انسان… ہہلے سے زیادہ حسین… خوبصورت… وسیع… اعلی ظرف انسان بنتا ہے… یا کے…
کمزور.. بزدل… بد دماغ… انتقامی بن کر ابھرتا ہے…
بننے، سنورنے اور ابھرنے کے اس پل کو… درست طرز انتخاب دینا انسان کی عقل و جزبات کے تحت ہے اگر جزبات کا غلام ہو گا… تو بہک جائے گا…
کمزور راہ اختیار کرے گا…
عقل کا غلام ہو گا… تو محبت، درد مندی احساس کی سیاست کو وجود کے کمال کی واسطے چنے گا…
اکثر ہم ٹوٹ جاتے ہیں…
اپنے ہی ہاتھوں سے پھسل کے چھوٹ جاتے ہیں…
اور اپنی کرچیوں سے اپنے ہاتھ زخمی کر لیتے. ہیں…. درد کی شدت قوت… صبر کو ماند کرنے لگتی ہے… مگر وہی پل ہوتے ہیں… کے زخمی وجود کو خون رستے ہاتھوں سے… صبر کی پیوند کاری سے… ہمیشگی کا آب حیات پلایا جائے…
جینے کی درست فراست اور درد سہنے کی ہمت اور مثبت انداز فکر دیا جائے…
یا پھر ان توڑنے والے ہاتھوں سے دشمنی، بغض، نفرت، بدلے، منفی احساسات کی راہ اپناتے ہویے…. جوہر و گوہر بننے سے پہلے ہی ریت، مٹی، دھول بن کر ہو جایا جائے….
یہ پل قیمتی، توجہ طلب اور اہم ہوتے ہیں…. انہیں حوصلے، توکل و فراست درکار ہوتی ہے…
لاپرواہی کا مطلب…. آگ میں جلنا ہے….
جو کے جلنا تو ہے ہی…
اب چاہییں… تو کندن بن جاییں…
چاہییں تو کوئلہ… یا خاکستر..
قوت انتخاب سے ہر پست کو بالا کردے….
اپنے ہونے سے ہر سمت اک نور اور اجالا کردے…
منحصر انسان کی قوت ارادہ،
اخلاص اور عمل پہ ہے کے وہ اپنے کو لگی آگ سے…
ہھول تخلیق کرتا ہے…
خاک تخلیق کرتا ہے…
کندن ہو جاتا ہے… کہ بھسم ہو جاتا ہے…
فائزہ عباس













