مغربی انقلاب بنیاد میں سائنسی نہیں تھا ، سوشل تھا۔جسٹن سنو

0
1500

اک ممبر کے سوال کے جواب میں ۔
۔
سوال : تعلیم کے ہوتے ہوئے شعور کی شدید کمی کیوں ہے.؟
۔
جو تعلیم حاصل کی جاتی ہے اس کا مقصد یہ ہُنر دینا ہے کہ کم سے کم وقت میں جسمانی ، نفسیاتی اور جذباتی آسائش و آرام کے زیادہ سے زیادہ زرائع کیسے اور کہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس تعلیم کا شعور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک اور نکتہ یہ کہ شعور کا ڈائیریکٹ تعلق سوشل سائنسس ( سوشیالوجی ، فلسفہ ، سائیکالوجی ، تاریخ ، ادب وغیرہ ) سے ہے ، نیچرل سائنسِس natural sciences ( فیزیکس ، کیمیسٹری ، بائیولاجی ، وغیرہ ) سے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں شعور مختلف چیزوں کا ہوتا ہے , یعنی شعور لیکن کس چیز کا شعور ؟ جیسے کہ سیاست کا شعور ، معاشرے کا شعور ، ذات کا شعور ، کسی نظریے کا شعور ، کسی کونیاتی حقیقت کا شعور ، وغیرہ۔ اگر ہم ایکڈیمیکلی academically بات کرتے ہیں تو یہ سب دینا مختلف فیلڈ آف سٹڈیز کا کام ہے.

جیسے کہ شعورِ ذات ، کونیاتی حقائق ، اخلاقیات وغیرہ کا شعور فلسفے اور سائیکالوجی سے ملتا ہے۔

معاشرے ، زمانے اور تاریخ کے مختلف پہلووں ، سماجی رویوں کا شعور وغیرہ سوشیالوجی سے ملتا ہے۔

سوچنے ، فکر کرنے ، حقائق کو واضح انداز میں دیکھنے ، سچ اور جھوٹ کو علیحدہ کرنے اور ان میں تمیز کرتے ہوئے فکری غلطیوں سے بچنے ، اور کہاں کون سی دلیل دینا درست اور کہاں کون سی دلیل دینا غلط ہے ، کون سی چیز بطورِ دلیل قبول ہے کون سی سرے سے دلیل ہے ہی نہیں وغیرہ کا شعور علمِ منطق سے ملتا ہے۔

فیزیکس یا کیمیسٹری یا میتھمیٹکس آپ کو یہ نہیں سکھاتے کہ معاشرے میں عدالت کی کیا اہمیت ہے یا لوگوں کے ساتھ رویہ کیسا ہونا چاہیے یا انسان کا کوئی مقصد ہے یا ظالم حکمران کے خلاف علمِ مزاحمت انسانیت کی بقا کا مسئلہ ہے ، یا دنیا میں کہیں بھی کسی بھی انسان پر ظلم دراصل دنیا میں موجود ہر انسان پر ظلم ہے۔
۔

ایک اور خاص نکتہ یہ کہ خصوصاََ اس ملک میں سوشل سائنسِس کو تقریباََ مکمل نظرانداز کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ سوشل سائنسِس کیلئے تفکر کی آزاد فضا چاہیے جبکہ یہاں ہر موڑ پر جہالت سے لیس مورچے بنے ہوئے ہیں جو اس معاشرے کے عقل و شعور کی کمر مسلسل توڑ رہے ہیں۔

.

چونکہ ہمارا خیال ہے کہ مغرب جو اب اس ترقی یافتہ تخت پر بیٹھا ہے ، وہ اس مقام تک نیچرل سائنسِس یعنی فیزکس کیمسٹری وغیرہ کی وجہ سے پہنچا ہے ، جبکہ دراصل یہ سوشل سائنسِس تھے جس نے مغرب کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ باقی اقوام کو زیر کر چکا ہے. سوشل سائنسِس نے ہی فکری تحریکوں کو جنم دیا ، اور سائنسِس کا گھٹتا ہوا گلا چرچ کے پنجوں سے چھڑایا . سوشل سائنسِس نیچرل سائنسِس کی ماں کی حیثیت رکھتے ہیں ، سوشل سائنسِس ہی مغرب کو انڈسٹریل انقلاب سے مستفید کرا سکے ، سوشل سائنسِس نے ہی چرچ کی فتویٰ بازی اور تقلید پرستی کی کمر توڑ کر عقل کو تخت عطا کر کے سائنس کو پنپنے کا موقع دیا ، یہ سوشل سائنسِس کے عالم اور اسکالر و دانشور اور ماہرین و مفکرین و فلاسفرز تھے جنہوں نے مغرب میں انڈسٹریل اور انٹلیکچوول انقلاب کی جڑیں گاڑیں تھیں ، اور مغرب کو وہاں پہنچا دیا جہاں آج وہ موجود ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مغربی انقلاب اپنی بنیاد میں سائنسی نہیں تھا ، سوشل تھا۔

جسٹن سنو
انتخاب ،فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY