میں نے جسقدر سمجھا ہے میری جھالت اور کم علمی کے باوجود میری نگاہ میں آج سب سے بڑا جھاد جو ہماری ضرورت ہے وہ
جھاد بالعلم
جھاد بل قلم
جھاد شعور کا
جھاد حلم کا
جھاد برداشت کا
جھاد قناعت کا
جھاد پاکیزگی کا
نفس کی آسودگی کا
درست روش کا
اخلاقی عروج کا
علم فیضان بصیرت اور ہوشمندی کا۔۔۔۔
جس جس کو جھاد کا شوق ہے میدان میں آئے۔۔۔۔
پہلے علم حاصل کرے۔۔۔۔
علم اور کردار سے جنگ لڑے۔۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے خوش اخلاقی۔۔۔پاکدامنی۔۔۔ہوشمندی اور دانش مندی پھیلائے۔۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے وہ ظلم کیخلاف کھڑا ہو۔۔۔
جھالت کے سامنے سیسہ پیلائی ہوئیدیوار بنے۔۔
جسے جھاد کرنا ہے علم اخلاق محبت درد مندی انسانییت اور عدل اور انصاف کی ایک اوج ایک کمال بنے۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہو فردہ رسموں رواجوں افکار اور عملوں کیخلاف کرے جو انسانوں سے زندہ رہنے ۔۔۔جینے۔۔۔سوچنے۔۔۔کرنے کا حق چھین کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔اور انسانوں کا استحصال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے وہ گندگی ختم کرے پھر چاہے وہ نفس ۔۔۔قلب روح اور جسم کی ہو یا حرصو ہوس اور معاشرتی بہماریوں کیخلاف ایک جنگ ہو۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے وہ صفائی طہارت اور پاکیزگی پھیلائے چاہے وہ اپنا وجود ہو ۔۔۔گھر ہو محلہ یا گلی۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے پہلے انسان تو بن کر دکھائے۔۔۔۔
جسے جگاد کرنا ہے پہلے ہر گلی محلے جھونپڑی کو علم ہنر شعور سے آراستہ کرے۔۔۔۔
جسے جگاد کرنا ہے پہلے غربت ختم کرے۔۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہے وہ غلامانہ فکر کیخلاف جھاد کرے۔۔۔
جسے جھاد کرنا ہو اپنے افکار اپنی اقدار اپنے دین کی وہ روح وہ شکل وہ عکس پیش کرے جو نبی کریم حضرت محمد ص کی زات نے ہمیں دیا۔۔۔۔۔
پہلے کامل اخلا ق سے
پھر عظیم اوصاف سے
پھر حق گوئی سے
پھر محبت نری اخلاقیات سے۔۔۔
پھر صداقت اور امانت سے۔۔۔
شجاعت اور زہانت دئ۔۔۔
صبر اور برداشت سے۔۔۔۔
دعا اور احساس سے۔۔۔۔
علم کے ہتھیار سے۔۔۔
تربیت کے راستوں سے۔۔۔
ہم کیسا جھاد کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
جھالت کو فروغ دیکر۔۔۔؟؟؟
انتشار کو پناہ دیکر۔۔۔۔؟؟؟
انسانوں کے قتل کو کھیل بنا کر۔۔۔کبھی کسی جاھل کو اسکی ججالت سے بصیرت سے آزادی دلائی نہیں ہاں مگر واجب القتل قرار دیکر اسکو آگ میں جھونک کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا یہ جھاد؟؟؟؟
معزرت کیساتھ ایسا جھاد میری سمجھ سے بالاتر ہے جو انسانوں کو شعور کی منزل تک نا پہنچائے ان سے عزر نہ پوچھے۔۔۔
بس اپنا فیصلہ سنائے۔۔۔۔۔
میں بیزار ہوں ایسے جھاد سے اب آو مجھے بھی قتل کر دو لگا دو فتوی مجھ پر بھی کہ دو کہ خلاف عقل شریعت بات ہے کہ علم کی بات کی
شعور اور آگہی کی بات کی۔۔۔
اصلاح اوت تربییت کی بات کی۔۔۔
انصاف حق گوئی اور تحمل کی بات کی۔۔۔
آو قتل کردو مجھے۔۔
یہی تمہارا جھاد ہے۔۔۔۔۔
میرا جھاد مجھ سے کہتا ہے۔۔۔۔دوسرے کو اصلاح کا پورا موقع دو۔۔۔۔
پہلے اپنے اخلاق کردار اور اچھے اوصاف سے دوسرے کو سمجھ کی راہ پر چلنے کی دعوت دو اسکو وقت دو موقع اور سمجھ دو۔۔۔۔
پھر بھی تمہیں یہ اختییار نہ دین نہ قانوں نا ہی انسانی اوصاف دیتے ہیں کہ تم آستعال میں آو اور کسی بیگناہ انسان کو سفاکیت سے قتل کردو۔۔۔۔
میرے نبی کریم ص نے تو ان پر ظلم کرنے والے کو بھی کبھی بد دعا مہیں دی۔۔۔۔
ان پر کوڑا پھنکنے والی عورت جس نے اسقدر غلط کیا اسکو بھی بیماری میں جا کر اسکا حال پوچھا اسکو دوا دی اسکو اپنے حسن سلوک سے جیتا تو آج ہم۔۔۔۔
یا نام نہاد جھادی۔۔۔ہر دوسرے کو کافر ثابت کر کے اسکا قتل کرنے کو عین عبادت جھنے والے جاھل اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جھاد ہے تو میں ایسے جھاد سے بہزار ہوں۔۔۔۔۔
تم میں کوئی بھی جھاد کر رہا ہوتا نا۔۔۔۔
تو میرے ملک میرے گھر میری امت میں اتفاق ہوتا۔۔۔۔۔
محبت ہوتی۔۔۔۔
احساس ہوتا۔۔۔۔
کوئی مسلمان عیاش نہیں ہوتا۔۔۔عورت بازی اور شراب کباب کے نشوں میں دھت سرمست گھوڑوں کی طرح بے راہ رو نہیں ہوتا۔۔۔۔
عورتوں پر ظلم بربریت اور ادتحصال نہیں ہوتا۔۔۔۔
عورتیں بچے اور انسان عیاشیوں اور ہوس پرستی کی بھینٹ نہ چڑھائے جا رہے ہوتے۔۔۔۔
اتنے جو تم جھاد والے ہوتے تو دنیا کی ہر بہترین یونیورسٹی کالج طلبا ہمارے ہوتے۔۔۔۔۔
سائنس اخلاقیات علم اور علمی مباحث کا عروج ہوتا جسمیں علمی نقطوں پر بث ہوتی وہ بھی بنا کینہ رکھے۔۔۔۔انا کو کچل کر علم کو اور بصیرت کو بنیاد بنا کر۔۔۔۔۔ہر مباحثہ اچھی مثبت اور فعال سوچ فکر عمل اور تخیل کو عروج دینے والا ہوتا۔۔۔۔۔
اگر تمہیں جھاد آتا ہوتا تو دنیا میں بہترین بزنس تم چلا رہے ہوتے ہر پراڈکٹ تم بنا رہے ہوتے اور اس جیسی بہترین اور نبر ون پراڈکٹ کہیں اور نہ بن رہی ہوتی۔۔۔۔۔
اگر تم جھاد کر رہے ہوتے تو لوگ تیل چوری نہ کرہے ہوتے بلکہ ان میں اخلاقی اوصاف کا عروج اسقدر ہوتا کہ وہ شعور اور ایمانداری سے مزین ہوتے۔۔۔۔۔
اگر تم جھاد کر رہے ہوتے تو کوئی بچہ چھوٹا نا ہوتا کوئی ہاتھ فقیر نہ ہوتے۔۔۔
کوئی غریب نسل در نسل اسی غربت جھالت ظلم اور غلابتوں کی چکی میں پس نہ رہا ہوتا۔۔۔۔۔
تہم جھاد کر رہے ہوتے تو کسی عورت کا برہنہ لباس بھی تمہارے کردار کو کبھی ہچکولے نہیں دیتا۔۔۔تمہاری نگاہیں شرم اور حیا اور خوف خدا سے ہر حال میں جھکی ہوتی ۔۔۔کعئی بیٹی قندیل نہ بنتی کوئی 6 ماہ کی بچی کا ریپ نہیں ہوتا۔۔۔۔کوئی 12 اور 13 سال کے بچے عشق میں خود کشیاں نہیں کر رہے ہوتے۔۔۔۔۔
تم جھاد کرتے تو کھیلوں اور آرٹ اور سائنس میں کوئی ہمارا ثانی نہیں ہوتا۔۔۔۔
تم جھاد کرتے تو رشوت سفارش اور ہر قدم پر زلت عام انسانوں کا مقدر نہیں بنتا۔۔۔
تمہارا جھاد تو عورت کو بند کر کے رکھنے اور اسکے ہر طرح کے بے دریغ استعمال کو جائز سمجھنے اور ہر چیز خود کے لیے جائز پونے پر ختم ہو جاتا ہے۔۔۔
تمہارا جھاد خواہشات نفس ہیں۔۔۔انا اور تمہارے مفاد کی جسطرح بھی تقویت ہو سکے۔۔۔
جس سے شعور اور سمجھ نہ پھیل سکے۔۔۔
تمہارا جھاد تلوار ہے میرا جھاد قلم ہے۔۔۔
تمہارا جھاد جھالت ہے میرا جھاد علم ہے۔۔۔
تمہارا جھاد ظلم ہے نا انصافی اور محرومیاں ہیں میرا جھاد ظلم کیخلاف کھڑے ہونا ۔۔انصاف کی آواز بننا اور درست قدم ہے۔۔۔۔
تمہارا جھادپابندیاں ہیں میرا جھاد انسانی صلاحیتوں کا درست نہج پر فروغ ہے۔۔۔۔
تمہارا جھاد انسان کو بے مول سمجھنا ہے میرا جھاد انسانوں کی قدر انکی ضروریات اور مسائل کو سمجھکر انکا حل ہے ۔۔
تمہارا جھاد سوچنے کی صلاحییت سلب کرنا ہے اور میرا ہر نہج سے سوچنے سمجھنے اور درست فیصلہ کرنے کی قوت دینا ہے۔۔۔
تمہسرا جھاد نفس اور ہوس پرستی ہے۔۔۔میرا جھاد ہوشمندی اور عقل پرستی ہے۔۔۔بصیرت ہے۔۔۔۔سمجھ ہے علم ہے۔۔۔انصاف پسندی ہے۔۔۔
تمہارا جھاد تو شعور۔۔۔علم۔۔۔سمجھ سے زیادہ۔۔۔۔
جزباتیت۔۔۔آشتعال۔۔۔جھالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔۔۔
تم منافق۔۔۔جاھل۔۔۔جلد باز اور بےصبرے پن کو جھاد سمجھتے ہو تو میں ایسے جھاد سے بیزار ہوں۔۔۔۔
میرا جھاد علم ہے
قلم ہےاخلاقیات اور پاکیزگی کا عروج ہے۔۔۔
میرا جھاد غربت گندگی۔۔۔آلودہ فکر اور بے راہ روی کیخلاف ہے۔۔۔۔
میرا جھاد مجھے دوسروں کو ہر حال میں انسان سمجھنا سکھاتا ہے۔۔۔۔اور انکو تربییت اور اخلاق سے درست روش پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔۔۔۔۔۔
میرا جھاد تقوی۔۔۔الہی۔۔۔علم۔۔۔۔۔عمل اخلاص نفسانی زہنی جسمانی معاشرتی معاشی بیناریوں کیخلاف کھڑے ہونا ہے۔۔۔۔
میرا جھاد میری موجودہ اور آئندہ نسلوں کع بے راہ روی کی دلدل سے باہر نکالنا ہے۔۔۔۔
میرا جھاد علم اخلاص سادگی محبت پاکیزگی اور بھلائیوں کا عروج ہے۔۔۔۔
میرا جھاد انسانوں کو جینے کی تربییت دینا سکھاتا ہے۔۔۔۔۔
میرا جھاد باادب۔۔۔با بصیرت۔۔۔باعمل۔۔۔بے خوف۔۔۔نڈر اور بہترین انسانوں کو با حیثیت انسان بہترین اور اچھے مواقع زندگی خے ساتھ جینتمے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتتا ہے۔۔۔۔
میرا جھاد ۔۔
علم ہے۔۔۔
محبت ہے۔۔۔
اخلاص ہے۔۔۔
سادگی ہے۔۔۔
بے راہ روی کے خلاف جنگ ہے۔۔۔۔۔
کم فہمی جھالت کیخلاف ہے۔۔۔
رشتوں کا اخلاص کیساتھ قائم رکھنے کی ترغیب ہے۔۔۔
میرا جھاد علم اخلاص انکساری ادب محبت امن اور سکون کا عروج ہے۔۔۔۔
میں آج سب سے بڑا جھاد علم
قلم۔۔۔
عمل
فکر
تربییت
زہن سازی
کردار سازی درست روش کے انتخاب کو سمجھتی ہوں۔۔۔۔
میرے نبی ص مجھے اخلاق کا کمال دینے آئے تھے۔۔۔
علم کا اوج۔۔۔اخلاص اور بصیرت پر فائز دیکھنا چاہتے تھ۔۔۔
صداقت اور شجاعت اور امانت میں بہترین دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔
علم ۔۔معرفت اخلاق اور کردار کا عروج میرا جھاد ہے۔۔۔۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
کردار میں گفتار میں اللہ کی برھان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
میرا جھاد انسانوں کی بھلائی
انسانییت
اور اخلاقی۔۔۔علمی اور اجمالی کمالات کا عروج ہے۔۔۔مومن کی اصل شکل سامنے لانا۔۔۔۔
دین کی اصل شکل سامنے لانے کی کوشش انسانوں میں بسے انسانوں کو باہر لانے کی کوشش۔۔۔
میرا جھاد ہے۔۔۔!!!
زندگی دینا ہے۔۔۔۔
سوچ اور فکر کو غفلتوں جھالتوں غلاظتوں سے پاک کرنا ہے۔۔۔۔
میرا جھاد انسانییت۔۔۔امن۔۔۔سکون۔۔۔محبت کا خروج ہے۔۔۔۔
تمہارا جھاد کیا ہے؟؟
فائزہ عباس













