درد نے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔۔فائزہ عباس

0
1138

اس نے کہا کے اپنے درد کو چپ کرواو کے اگر اسکی گونج کم نہ ہوئ تو بہت ممکن ہے کے زمین… سہ نہ پائے… آسمان پھٹ نہ جائے…

جبھی درد نے وعدہ کیا تھا کہ جتنا بھی وہ بڑھے گا کبھی سنائی نہ دے گا…. کہ اگر سننے والے سماعتیں رکھتے تو اس شور کی ازیت نہیں سہ پاتے….

اس نے کہا کے وعدہ کرو جتنی بھی شدت ہو گی تم کبھی بہنے کی کوشش یر گز نہیں کرو گے…. تو درد نے وعدہ کیا کے اب کبھی نہ برسوں گا پر بس قلب و روح پہ اگر بہا تو سب کچھ بہا لے جاونگا…..

اس نے دامن پکڑتے ہوئے درد سے ملتجی نگاہوں سے کہا کے خدا کے لیے تم کبھی کسی لباس کو مت اوڑھنا کے اگر تمہاری شدت کے رنگ اس میں سما گئے تو لگنے لگے گا کے کسی لہو کی ندی مین مسافر ہے کوئ کے اس ندی سے پاس سے جو بھی گزرتا ہے یہ اسکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نگل لیتی ہے… اور گزرنے والے کو مغلوم بھی نہیں چلتا… تو درد نے قسم کھائی کے میں سدا بے رنگ ہی رہوں گا کے شدت اور ازیت کی تپتی آگ کے رنگ نہ لونگا نہ ہی لہو کے لباس میں ہی کسی کو دکھائ دونگا ہر موجود رہوں گا کے سہنے والے کے ضبط اگر جواب نہ دے گئے تو کبھی، نہ دکھائ دونگا….

پھر وہ تھوڑا آگے بڑھا تو نہ جانے کس احساس نے اسے گھیر لیا تو درد کے قدموں میں آکر بیتھ گیا کہنے لگا کے تو جکھو جو بھی سب سے عزیز ہو اسکا واسطہ دیتا ہوں تجھے کے کبھی ایکدم سے نہ نمودار ہونا تم کے بہت ممکن ہے میرے اندر ہمت نہ ہو سہ پانے کی تو جیسے دیمک کھا جاتی ہے لکڑی کو بظاہر سلامت وجود پہ کوئ اثر دکھائ نہیں دیتا کے کون اس کو مکمل ہی کھا چکا یے….

تو تم مجھ پہ رحم کرنا جب بھی کوئی چوٹ لگے… تم میرے دل کو چیر نہ جانا… میری روح کو پھاڑ نہ دینا… کسی طوفان کیطرح مجھ سے سلوک نہ کرنا بلکہ اس ان دیکھے سوراخ کیطرح میرے وجود میں داخل ہونا کے جسکی موجودگی کی خبر تب ہوتی ہے کے جب ناخدا کے ہاتھ میں سب سبیلیں بچنے کی ختم ہو جاتی ہیں اور دھیرے دھیرے بھر جانے والا پانی…. ہمیشہ کے لیے ڈبو دیتا ہے اپنےسوار کو…

اور پھر کہا جب تحریر لکھنا تم تو بس خاموشی لکھ دینا…
کے جسکے چار سو کوئی اک پل نہ ٹھر پائے…

کے جسکے رو برو آکے… اسے نہ پڑھ کوئی پائے…

کے وہ درد بننا تم کے روح کے ساتھ ہو کر بھی…
نگاہ کے پار نہ جائے…
یوں اپنے وعدے پہ قایم رہنا تم…
کے کہیں سے چھلکنا جو چاہے…
کہیں سے چھلکنا بھول ہی جائے…

سنو تم درد ہو نا…
بہت ہمدرد ہونا…
میرے وجود کی مٹی…
بھلے کتنے گلے لگائے…
سدا انکار کرنا تم…
یہی اقرار کرنا تم..
کہ وہ تم نہیں میں ہو..
یہی تکرار کرنا تم…
یہی تکرار کرنا تم…

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY