یہ رات ، صبح میں تبدیل کب تلک ہو گی؟جمیل الرحمن

0
800

ایک نظم کشمیر کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)
تمہارے شہر ہیں محبوس شاہراہیں غلام
بدن غلام تمہارے تمہاری سانسیں غلام
تمہارے دیس کا سورج تمہاری راتیں غلام
تمہارے خواب شکستہ تمہاری آنکھیں غلام
یہ داغ آنسو تمہارے مٹا نہیں سکتے
یہ آگ خوں کے بجز تم بجھا نہیں سکتے
(۲)
فریب ہے کہ کوئی طشت بھر کے لائے گا
تمہارے واسطے آزادی آسمانوں سے
سبھی نے لکھی ہے تاریخ خود یہاں اپنی
لہو میں لتھڑے ہوئے بازؤں، کمانوں سے
جو اپنے خواب کی حرمت پہ مٹ نہیں سکتا
وہ کچھ بھی ہو مجھے غیّور تو نہیں لگتا
(۳)
کسی کی جنبشِ ابرو پہ جو گزرتی ہو
وہ زندگی نہیں چابی بھرا کھلونا ہے
کبھی تم اِ س کے نمک خوار ہو کبھی اُس کے
یہی تو دکھ ہے اِسی بات کا تو رونا ہے
قسم خدا کی یہ اک فیصلہ جہاں ہو گا
تمہاری جیت کا پہلا قدم وہاں ہوگا
(۴)
وطن غلام ہو جس کا ،حضور کیا اُس کا؟
بلند سر ہی نہ ہو تو غرور کیا اُس کا؟
خود اپنے آپ کا مالک نہ بن سکے جو کبھی
کٹی پتنگ ہے وہ، نزد و دُور کیا اُس کا؟
نجانے کب سے خجل ،روز و شب گزارتے ہیں
خطا کسی کی ہے اور قرض ہم اتارتے ہیں
(۵)
تماشہ گیر سیاست کے دام سے نکلو
جنہیں مسیحا سمجھتے ہو تم وہ قا تل ہیں
خدا را ہوش میں آؤ کوئی تمہارا نہیں
تمہاری بوٹیاں سب کی غذا میں شامل ہیں
یہ رہبری ہے ، تو اس رہبری کا کیا کرنا؟
جو آنکھ چاٹ لے اُس روشنی کا کیا کرنا؟
(۶)
کفن سروں سے لپیٹو کہ آئے صبحِ نجات
بس ایک با ر تو اٹھو کہ جانگسل ہے رات
نظامِ زر پہ چلاؤ کوئی تبر ایسا
رہا وطن ہو لٹیروں سے مفلسی کو ہو مات
ہمارے خوابوں کی تذلیل کب تلک ہوگی؟
یہ رات ، صبح میں تبدیل کب تلک ہو گی؟
!!!!!!!!!
جمیل الرحمن

SHARE

LEAVE A REPLY