منی پور میں خواتین کو برہنہ سڑکوں پر گھمائے جانے اور ان سے بدسلوکی کیے جانے کے کیس میں بینچ کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے تحقیقات کو ’سست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے اور بیانات ریکارڈ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔
عدالت نے پیر کو اگلی سماعت پر منی پور کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی کہہ دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز کی سماعت میں بھی چیف جسٹس نے پولیس اور انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی منی پور تشدد پر مسلسل خاموشی کے بعد سو موٹو نوٹس لیا تھا۔












