انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرنے کے لیے آن لائن پٹیشن کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کردی تھی جس کے بعد سے تاحال وادی میں مواصلات کا نظام مکمل طور پر غیرفعال ہے اور کرفیو کے باعث معمولات زندگی تباہ ہوچکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے 80 لاکھ افراد 5 اگست سے مواصلات کے بغیرزندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دیا کہ ’دنیا جاننا چاہتی ہے کہ وادی میں کیا ہورہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ بھارتی حکومت پر زور دیں کہ وہ کشمیر کو بولنے کا موقع دیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں، گرفتاریوں، جھڑپوں اور حراست سے متعلق متعدد رپورٹس ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا صرف قیاس ہی کرسکتی ہے کہ وادی میں کس نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف سنگین ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنے اور انہیں نظر بند رکھنے کی رپورٹس موجود ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ ’تدریس اور طبی مراکز کی سہولیات بھی سمیت ایمرجنسی سروسز تک رسائی متاثر ہورہی ہے‘۔

عالمی ادارے برائے انسانی حقوق نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانیت کو پہلے مد نظر رکھے اور کشمیریوں کو بولنے کی آزادی دے۔

انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’وادی میں غیرمشروط اور رکاوٹ سے محفوظ معلومات اور خبروں تک رسائی کو یقینی بنائے۔

23 اگست کو بھارت کی 9 اپوزیشن جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہاں کچھ بہت سنگین ہورہا ہے اور ساتھ ہی کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا

واضح رہے کہ رواں برس اگست میں ہی وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کے فیصلے کی اصولی منظوری دی گئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY