بات کرنے سے پہلے تولنے کی عادت عرصہ ہوا ہم ترک کر چکے یہ نہیں کہ ترازو کا رواج ختم ہو گیا ترازو تو آج بھی موجود ہے مگر اس کے ایک پلڑے کے نیچے ہم نے کوئی چھٹانک بھر کا مقناطیس چپکا کر اسے اپنے حق میں کر رکھا ہے جب تک یہ مقناطیس کا ٹکڑا نہیں اترے گا ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہو سکتے اور جب تک یہ برابر نہیں ہوتے انصاف کا حصول یا فراہمی صرف باتوں تک محدود رہے گی –
پیارے پاکستان کے چاروں صوبوں میں اس وقت ایک خوبصورت سے مچھر نے بدصورتی پھیلا رکھی ہے دیکھنے میں یہ انتہائی جاذب نظر مچھر جب کسی متاثرہ فرد کا جراثیم زدہ خون لے کر کسی صحت مند بندے کے جسم میں اتارتا ہے تو یوں جانیں جیسے زہر کا انجیکشن لگاتا ہے ایک سے دوسرا دوسرے سے تیسرا یہ سلسلہ اتنا دراز ہوتا چلا جا رہا ہے کہ متاثرہ رجسٹرڈ افراد کی تعداد بھی پندرہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو قیمتی جانیں گئیں وہ الگ ، مزید دور دراز بسنے والے وہ افراد جو نہ تو اس بیماری کو سمجھ پائے اور نہ ہی کسی شفا خانے تک ان کی رسائی ممکن ہو پائی وہ کتنے ہیں اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے کہ سرکاری اعدادوشمار دستیاب نہیں-
مچھر بھی وہی ہے موسم بھی وہی اور پیارا پاکستان بھی وہی اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ اقتدار کے ایوانوں میں کہ تب مرکز اور پنجاب کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی مسلم لیگ ن کی حکمرانی تھی سندھ میں پیپلز پارٹی براجمان تھی جب کہ خیبر پختون خوا میں انصاف کا بول بالا تھا اور انصاف کے سب سے بڑے علمبردار محترم عمران خان مرکز پر نظریں گاڑے آئے روز جلسے پہ جلسہ کر رہے تھے حاضرین کی مسلسل بڑھتی تعداد عمران خان کے جوش خطابت میں بھی روزانہ اضافے کا سبب بنتی اور اسی جوش خطابت میں وہ ایسے ایسے ارشادات فرمایا کرتے جن سے صاف ظاہر ہوتا کہ اب انہوں نے تولنا چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ صرف اور صرف بولنے پر مرکوز کر رکھی ہے اس دوران وہ کبھی کسی کو کسی کا باپ بنا دیتے اور کبھی کسی کو مونچھوں سے پکڑ کر گھسیٹنے کے دعوے کرتے اور کبھی کسی کا نام لے کر اسے اپنے ہاتھوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے اعلانات فرماتے یہ وہ دور تھا جب ان کی زبان سے نکلنے والے نشتر کبھی عدلیہ کا سینہ چھلنی کر رہے ہوتے اور کبھی افواج پاکستان جیسا محترم ادارہ ان کے نشانے پر ہوتا رہی بیوروکریسی تو اسے تو محترم جوتے کی نوک پر رکھتے تھے –
مذکورہ دور میں جہاں اوروں پر توپیں داغی گئیں وہیں محترم عمران خان کے اپنے خیش قبیلے یعنی سیاست سے تعلق رکھنے والے اصحاب بھی ان کے نشانے پر بار بار آتے رہے خصوصا آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کا ذکر خیر کیئے بغیر عمران خان کی تقریر مکمل ہو جائے اس کا تو اب بھی تصور محال ہے ذکر خیر لکھنے کے بعد خود درویش کو ہنسی آ گئی کہ جس انداز میں محترم ذکر فرماتے ہیں اس میں شر کا پہلو تو نمایاں ہوتا ہے البتہ خیر کا وجود خورد بین سے بھی تلاش کی کوشش کی جائے تو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑےگا-
شیخ رشید اور بابر اعوان کی شاگردی اختیار کرنے سے پہلے محترم عمران خان کے لہجے میں نہ تو اتنی تلخی تھی اور نہ ہی الفاظ میں اتنی گراوٹ مگر ان دونوں صاحبان نے جانے کون سے انتقام کی خاطر عمران خان کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو ذاتی مخالف بلکہ دشمن سمجھنے لگے شدید بارشوں کے دوران شہباز شریف جب لانگ شوز پہن کر لاہور کی سڑکوں پر نکلے تو بجائے اس کے کہ اس عمل کی تعریف کی جاتی اسے بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا گیا نہ صرف یہ بلکہ جب پنجاب کے عوام ڈینگی کا نشانہ بننے لگے تو شہباز شریف نے اپنا دن کا چین اور رات کی نیند اپنے اوپر حرام کر لی تھی سری لنکا جو کسی دور میں ڈینگی کا شکار رہ چکا تھا وہاں سے ٹیمیں بلوائی گئیں اپنے لوگوں کو تربیت دلائی اور بالآخر دنیا نے دیکھا کہ اس موذی وبا پر قابو پا لیا گیا خود سری لنکن ماہرین نے تسلیم کیا کہ شہباز شریف کے اٹھائے جانے والے اقدامات ان سے بھی بہتر ثابت ہوئے مگر آل شریف اور تخت لاہور کے طنزیہ فقرے کسنے والے بابر اعوان نے عمران خان کو ایسی پٹی پڑھائی کہ انہوں نے تواتر کے ساتھ شہباز شریف کو ڈینگی شریف کے لقب سے مخاطب کرنا شروع کر دیا-
وقت نے کروٹ لی اور اللہ کی کرنی یہ ہوئی کہ پیارا صوبہ خیبر پختون خوا ڈینگی کی لپیٹ میں آ گیا تحریک انصاف کی اناڑی حکومت وختے میں پڑ گئی ہاتھ پاوں پھولی حکومت کو ٹامک ٹوئیاں مارتے دیکھ کر شہباز شریف نے پیشکش کی کہ ان کا تربیت یافتہ عملہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کو تیار ہے مگر انا پرست عمران خان نے پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا اس کے باوجود پنجاب حکومت نے اپنے موبائل یونٹ خیبر پختون خوا بھیجے جنہوں نے اسپتالوں کے باہر خدمات سر انجام دیتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کو اس وبا سے نجات دلانے میں بھرپور کردار ادا کیا اس کے باوجود محترم عمران خان اور ان کے پیروکار شہباز شریف کو ڈینگی شریف کے لقب سے ہی پکارتے رہے –
اب جب کہ سوائے صوبہ سندھ کے پورے پاکستان میں محترم عمران خان کی حکمرانی ہے ایک بار پھر ظالم ڈینگی نے سر اٹھایا ہے اور اب کی بار چونکہ اس کا سامنا بڑھک باز لوگوں سے ہوا ہے اس لئے اسے کھل کھیلنے کا موقع مل گیا ہے میڈیا پر حکمرانوں کی گردان سنیئے یہ کریں گے وہ کریں گے یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگر عملی طور پر کارکردگی صفر بٹہ صفر ڈینگی ہے کہ خوب پھل پھول رہا ہے سندھ کی حکومت تو ٹھہری ہی نا اہل باقی پورا پاکستان تو صادق اور امین کے ساتھ ساتھ انتہائی اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے پھر بھی عوام کیوں ہاتھ اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں ؟ آئے روز اسپتالوں کے کمرے ، برآمدے حتی کہ لان تک کیوں متاثرہ مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں ؟ طوفان کی آمد سے پہلے کے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے ؟اور اب بھی آنکھیں کیوں نہیں کھل رہیں ؟ اس کے علاوہ بھی بہت سارے سوالات اٹھائےجا سکتے ہیں اور اٹھائے جا رہے ہیں آج نہیں تو کل ان سوالات کا جواب دینا ہی پڑے گا موجودہ صورتحال سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کو ان کے سوالات کا جواب ملے نہ ملے عمران خان صاحب کو یہ جواب ضرور مل گیا ہو گا کہ ڈینگی ہر گز شریف نہیں ہوتا…!













