یہ ابر اور گھٹائیں مری پناہ میں تھیں,رخشندہ بتول

0
1273

جمال دوست فضائیں مری پناہ میں تھیں
حیات بخش ادائیں مری پناہ میں تھیں

نمو ملی نہ گلابوں کو میری مٹی میں
خزاں رسیدہ ہوائیں مری پناہ میں تھیں

جلوس ِ غم حد ِ امکان سے گزر گیا تھا
پیادہ پا وہ نوائیں مری پناہ میں تھیں

خرد کا نام مصیبت ، جنوں کا نام بلا
عجب طرح کی سزائیں مری پناہ میں تھیں

سماعتوں کا بدن جل چکا تھا لہجے سے
خموشیوں کی صدائیں مری پناہ میں تھیں

یزید ِ وقت کے ہاتھوں میں تازیانہ تھا
رچی رچائی دعائیں مری پناہ میں تھیں

زمیں کی پیاس بجھے کیسے تیرے اشکوں سے
یہ ابر اور گھٹائیں مری پناہ میں تھیں

رخشندہ بتول

SHARE

LEAVE A REPLY