جمال دوست فضائیں مری پناہ میں تھیں
حیات بخش ادائیں مری پناہ میں تھیں
نمو ملی نہ گلابوں کو میری مٹی میں
خزاں رسیدہ ہوائیں مری پناہ میں تھیں
جلوس ِ غم حد ِ امکان سے گزر گیا تھا
پیادہ پا وہ نوائیں مری پناہ میں تھیں
خرد کا نام مصیبت ، جنوں کا نام بلا
عجب طرح کی سزائیں مری پناہ میں تھیں
سماعتوں کا بدن جل چکا تھا لہجے سے
خموشیوں کی صدائیں مری پناہ میں تھیں
یزید ِ وقت کے ہاتھوں میں تازیانہ تھا
رچی رچائی دعائیں مری پناہ میں تھیں
زمیں کی پیاس بجھے کیسے تیرے اشکوں سے
یہ ابر اور گھٹائیں مری پناہ میں تھیں
رخشندہ بتول













