Published on: 5 Dec 2021
میں اپنے ہم وطنوں سے مخاطب ہوں کہ میں جانتی ہوں کہ ہماری حکومت کرپٹ ہے ، بے ایمان ہے ، ملک کو لوٹ کر کھا گئی ۔۔ کوئی قانون نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن صرف ایک بات کا جواب دیجئے کہ کیا اس بات سے کسی فرد کو ” بے ایمانی اور بدمعاشی کا لائیسنس ” مل جاتا ہے ۔ کیا آپ احساس زمہ داری سے مبرا ہو جاتے ہیں ۔ کیا اللہ پاک نے آپ کا حساب کتاب الگ فرد کے طور پر نہیں لینا ہے ۔
کیا آپ کو یہ باتیں حکومت سکھاتی ہے ۔۔ یا عدلیہ بتاتی ہے ۔۔ یا اساتذہ لیکچرز دیتے ہیں ۔۔ یا جو قران حدیث آپ پڑھتے ہیں اس میں لکھا ہے ۔۔
کم تولو ۔۔ جھوٹ بولو
منافقت کرو ۔۔ ملاوٹ کرو
تشدد کرو
کوڑا کچرا گھر کے سامنے پھینکو
قانون توڑو
دوکانیں دن کے 12 بجے کے بعد کھولو
گالیاں دو ۔۔ گھر اور باہر جہاں تک ممکن ہو بدتمیزیاں کرو
اپنے سے کمزوروں کو مارو ۔۔ لوٹو ۔۔ ان کا سب کچھ چھین لو
اقلیتوں کو اچھوت سمجھو ۔۔۔ انہیں اپنی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں دو ۔۔اتنا تشدد کرو کہ زندہ جلا دو کہ وہ تمہارے ہم مذہب اور ہم مسلک نہیں ۔
اپنی زبان دانی پر ناز کرو خود کو لسانیات کی بنیاد پر بانٹ کر خود کو سب سے افضل سمجھو ۔
مریضوں کے ساتھ بدتمیزی کرو اور ان کے لواحقین کے ساتھ سختی سے پیش آؤ
خود پر کسی کی مدد اور داد رسی کو حرام کر لو
تعلیم کی بجائے سکول کالجوں کو دہشت گردی کا اڈہ بنا لو
قناعت بھول کر مقابلہ بازی کو شعار کر لو
خواتین گھر کو اپنی نا اہلی سے جہنم بنا لیں ۔۔ بچوں سے توجہ ہٹا لیں اور پیربابوں کے چکر میں گھر مزید جہنم بنالیں
بڑوں کا احترام ختم کر دیں ۔۔۔۔۔۔ بچوں پر شفقت نہ کریں
معاف کر دینا خود پر حرام کر لیں
اسی طرح کی ہزاروں اخلاقی باتیں جو انفرادی رویہ ہیں اسے حکومت ، عدلیہ ، فوج ، اساتذہ ، دوسروں کے سر ڈال کر کون کس کا نقصان کر رہا ہے آپ سب خوب جانتے ہیں ۔
یقین کیجئے !
ہم فردافردا اپنے اپنے حصے کی سوچ اور عمل کا انجام اسی دنیا میں دیکھ رہے ہیں ۔
جو قومیں علم و شعور آگہی رکھتی ہیں وہ اپنے راہنما چنتی ہیں سیاستدان نہیں ۔۔ راہنما اپنی افواج سے کندھے سے کندھا ملا کر اپنے وطن کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں نا کہ سیاستدانوں کے پسندیدہ فوجی مراعات کی بلندیوں پر پہنچ کر خادم سے زیادہ بادشاہ بن جاتے ہیں ۔۔۔ راہنما عدلیہ کی پہنچ سے دور نہیں ہوتے ۔۔لیکن سیاستدان عدلیہ کو اپنی انگلی پر نچاتے ہیں ۔۔۔۔ پاکستانیوں نے کبھی راہنما نہیں چنے ۔۔۔ ہمیشہ سیاستدانوں کو سر پر بٹھایا ہے اور انہوں نے آمریت کے جوتے چاٹے ہیں۔جب عوام باشعور اور ایک دوسرے کی خیرا خواہ نہیں رہتی تو“ بدمعاشی ازم “ جنم لیتا ہے ۔۔ ان پر سیاستدان حکمرانی کرتے ہیں ۔۔ ان کی ادارے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ۔ اس ہے حسی کی تازہ ترین مثال “ راج کو “ فیکٹری میں سری لنکن منیجر کو تشدد کر کے زندہ جلا دینا ہے ۔۔۔ اور بے حس عوام کی سیلفیاں بنانا ہے ۔۔۔ پولیس کا تماش بین ہونا ہے ۔۔۔
دینی و مذہبی علماء اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی شرمناک خاموشی ہے ۔ ان سب نے بتا دیا ہے کہ ان کی نسل اور فصل بھی سیاستدانوں سے جا ملی ہے ۔
آپ میں سے بہت سارے لوگ جو مجھ سے پوچھتے تھے “ کیا مسلمانوں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تھا ؟
کیا کوئی مسلمان اتنا شقی القلب ہوسکتا ہے ؟ ۔۔۔
تو آج میں انہیں سے پوچھتی ہوں کیا سری لنکن منیجر کو کسی ہندو سکھ عیسائی یا یہودی نے زندہ جلایا ہے ۔۔۔؟
جسطرح میرے امام پاک کی نسلیں آباد ہیں اسی طرح یزید کی بھی باقیات ہیں اور یاد رکھئے یزید ابن معاویہ ابن ابو سفیان مسلمان تھا اور خلیفۃ المسلمین تھا ۔۔ سو جو مسلمان کربلا میں بھوکے پیاسے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو تپتی ریت پر شہید کر سکتے ہیں ان کی باقیات کے لئے کافر سری لنکن منیجر“ پریانتھا کمارا “ کو زندہ جلانا کسی حیرت کا باعث نہیں ہونا چاہیئے ۔
ہائے ۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا ۔۔۔ !
اس دن بھی اہل مدینہ اور کوفی خاموش تھے ۔۔۔۔ سیدہ زینب سلام اللہ علہا کہہ رہی تھیں انہیں سب سے زیادہ تکلیف مسلمانوں کے رویوں سے پہنچی تھئ ۔۔ امام سید سجاد کہہ رہے تھے انہیں سب سے زیادہ تکلیف کوفیوں کی خاموشی سے پہنچی تھی ۔۔
آج بھی علمائے دین خاموش ہیں
انسانی ہمدردی کے ادارے خاموش ہیں
حکمرانوں کے چند ایک مذمتی بیان دربار یزید میں کچھ آوازوں جیسے ہیں ۔
مدینہ کی ریاست بنانے والے اکسٹھ ہجری کے اہل مدینہ ہی کی طرح امام حسین علیہ السلام کے ساتھ چلنے والے نہیں ہیں ۔۔ انہیں حق سچ اور انصاف سے زیادہ اپنی جان اور عہدے پیارے ہیں ۔ اور عوام سیلفیاں بنا رہی ہے ۔
ظلم پر خاموشی سب سے بڑا جرم ہے ۔۔ اور اس جرم میں ہر وہ شخص شامل ہے جو چپ ہے ۔۔۔۔۔ قانون فطرت اس بھیانک خاموشی کی سزا دیتے وقت کبھی نہیں سوچتی کہ کس کوسزا مل رہی ہے اور کس طرح سے دی جا رہی ہے ۔
ہر انسان اپنا مقدر خود لکھتا ہے۔۔۔ پاکستانی عوام اپنا مقدر خود لکھ رہی ہے اور انہیں اس کی زمہ داری لینی ہی ہوگی ۔۔۔ نفرتوں اور تشدد کے بیج آپنے بوئے ہیں اور فصل آپ کی نسل کاٹ رہی ہیں ۔۔ جہاں جہاں وہ جاتی ہے اسے خوف اور نفرت سے دیکھا جاتا ہے ۔
اے میرے پاک وطن پرسہ قبول کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم











