بےنظیر بھٹو واقعی اپنے نام کی طرح بے نظیر تھیں۔
پاکستان اور پاکستان کے عوام سے محبت کرنے میں وہ یکتا تھیں ۔ جمہوریت ، جرآت و بے باکی اور آئین پاکستان سے وفاداری میں بھی انکا کوئی ثانی نہیں تھا ، ہے اور نہ ہوگا۔ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا انکا خواب تھا یہ وہی خواب تھا جو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور انکے والد ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا تھا۔
انکی ساری جدوجہد ایک ایسے نظام کی لیے تھی جس میں سب پاکستا نی بلا رنگ و نسل اور مذہب و ملت ایک درجہ کے شہری ہوں کوئی دوسرے اور تیسرے درجہ کے شہری نہ ہوں۔ ہر پاکستانی شہری کو یکساں بنیادی انسانی ، جمہوری اور سیاسی حقوق حاصل ہوں۔ وطن عزیز کے تمام ادارے آئین پاکستان کی متعین کردہ حدود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت نہ کرے۔
بے نظیر بھٹو نے آمروں ضیاء اور مشرف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرکے مادر ملت فاطمہ جناح کی تقلید کی۔ فاطمہ جناح نے آمر ایوب خاں کو للکار کر پاکستانی خواتین کو جدوجہد کی راہ دکھائی۔محترمہ شہید نے زمانہ طالب علمی سے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے تک جس میدان میں بھی قدم رکھا وہ سرخرو ہوئیں۔ انکی کی سیاسی ، جمہوری اور سماجی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔
پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ہارورڈ کمنسمنٹ33 سال بعد اسی سٹیج پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو بطور سپیکر مدعو کیا گیا۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے بے نظیر بھٹو سے متعلق بات کرتے ہوئے انھیں ایک بہترین لیڈر اور ایک مضبوط عورت کے طور پر یاد کیا۔
بے نظیر بھٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیسنڈا آرڈرن نے ماضی کی یادیں تازہ کیں۔ 1989 میں بے نظیر بھٹو کی ہارورڈ میں کی گئی تقریر کا عنوان ’ڈیموکریٹک نیشنز مسٹ یونائٹ‘ تھا۔ جیسنڈا آرڈرن نے تقریب کے شرکا کو بے نظیر بھٹو کی اس تقریر کے بارے میں بتاتے ہوئے تقریر کی اہم باتوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے 2007 میں جنیوا کی ایک کانفرنس میں بے نظیر بھٹو سے اپنی ملاقات کو جہاں پرجوش انداز میں یاد کیا، ساتھ ہی 7 ماہ بعد بے نظیر بھٹو کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لہجے میں افسوس نمایا ں تھا۔
جیسنڈا آرڈرن نے کہا ’ایک عورت کے طور پر انھوں (بے نظیر بھٹو) نے آنے والوں کے لیے جو راستہ بنایا وہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دہائیوں پہلے تھا۔‘ جیسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے لیے جمہوریت بہت اہم تھی اور ان کے ان الفاظ کو یاد کیا ’ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت نازک ہو سکتی ہے۔‘
پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور بے نظیر بھٹو شہید کے والد ذوالفقار علی بھٹو اپنی بیٹی کی صلاحیتو کا ادراک تھا اسی لیے انہوں نے انکی خصوصی تربیت کی اور انہیں خارجہ امور کے اسرار و رموز سکھانے کے لیے اپنےبیرونی دوروں میں اپنے ساتھ رکھا یہی وجہ تھی کہ بھٹو صاحب شملہ گئے تو انہیں بھی اپنے وفد میں شامل کیا ۔
برسراقتدار آئیں تو انہوں نے پاکستان کی خارجہ کو نئی جہت عطا کی ۔وہ جہاں بھی گئیں انکا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ میزائل ٹیکنالوجی پاکستان لاکر پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا۔
جمہوریت کے لیے انکی جدوجہد، آئین کی بالادستی اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے کیے گئے انکے اقدامات دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
آمر ضیاء کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت ( ایم آر ڈی) بے مثال تحریک چلائی جس پر آمر نے انہیں اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے جلاوطن کیا لیکن جب وہ پاکستان آئیں تو لاہور ایئرپورٹ سے مینار پاکستان تک عوام ہی عوام تھے اس استقبال جیسا اس سے پہلے اور نہ بعد میں کسی سیاسی راہنما کا استقبال ہوا۔
آمر ضیاء کی اس دنیا سے رخصتی کے بعد سازشی عناصر کی سازشوں کے باوجود وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو انہیں عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم سب سے کم عمر وزیر اعظم کا اعزاز حاصل ہوا۔
پھر آمر جنرل پروہز مشرف نے انہیں جکاونی پر مجبور کیا تو بی بی دبئی میں مقیم تھیں کہ آمر پرویز مشرف کو دبئی جا کر انکے قدموں بیٹھ کر تعاون کی بھیک مانگنا پڑی۔ جب انہوں نے وطن عزیز کو خطرہ میں محسوس کیا تو فورا پاکستان پہنچ گئیں اور آمر کو للکارا جس پر آمر اور انکے رفقائے کار نے انہیں راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور انتخابی مہم کے سلسلے مہں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ میں خطاب کرنے کے بعد انہیں شہید کر دیا گیا۔
آج آمر پرویز مشرف خود وطن سے باہر ہے اور واپس آنے کی ہمت نہیں کر پا رہا عوام راہنما اور آمر میں یہی فرق ہوتا ہے۔ اکیس جون بی بی کی ساکگرہ ہے ہیپی برتھ ڈے ٹو یو بے نظیر بھٹو













