خالی کتاب حیات …. ۔ فائزہ عباس

0
1002

اکثریت انسانوں کی گرفتار عمل کا شکار ہے گرفتار عمل یعنی ایسے نیک اور اچھے اعمال جو دیکھنے میں حسین، نیک و قابل تحسین ہیں مگر محض لزت کشی کا زریعہ ہیں ۔ ۔ ۔ایسے تمام عمل بھلے کتنے ہی نیک ہوں چاہے نماز ہی کیوں نہ ہو، عبادت ہی کیوں نہ ہو جو محض لزت کے واسطے انجام دی جارہی ہے مگر اسکا ھدف، خلقت ھدف تک پہنچانے والا نہیں ہے تو یہ عمل لعب کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔

جب تلک کسی بھی عمل کا مقصود رب تعالی کی بندگی نہ ہو، یعنی عبادت، نماز، روزہ، کھیل کود، تعلیم، یا کوئی بھی عمل جو بظاہر بہت اچھا ہے، لزت بخش ہے مگر اس عمل کا اس فعالیت کا مقصود رب تعالی کی بندگی نہیں تو اعمال انسان کو بہترین فعالیت میں ضرور مشغول رکھتے ہیں پر مقصود تک نہیں پہنچاتے سو ایسے اعمال جو فعالیت رکھتے ہیں، لزت رکھتے ہیں پر مقصد خلقت تک پہنچانے سے محروم ہیں یا انسان ھدف خلقت ان سے کسب کرنے کی شعوری کوشش نہیں کرتا تو یہ اعمال لعب کہلاتے ہیں اور یہ انسان گرفتار اعمال انجام دے رہا ہے یعنی عادت کے تحت، لزت کے واسطے اور یہ سوچتا ہے کہ نیکی انجام دے رہا ہے سو ایسے اعمال سے رب نے منع فرمایا ہے کہ جو ھدف خلقت تک نہ پہنچا سکیں ۔ ۔ ۔

اسی طرح بہت سی فعالیتیں ہیں جو فعالیتیں ہیں، شغل ہیں، عمل ہیں جیسے بالوں سے کھیلتے رہنا، مونچھوں کو تاو دیتے رہنا، ڈرامے، فلمیں دیکھتے رہنا، بے مقصد گفتگو کرتے رہنا بالکل ایسے جیسے موبائل میں بیلنس ڈلوایا تاکہ ماں سے بات کر سکیں اور فون ملایا اور بچوں سے باتوں میں لگا دیا اور ماں سے گفتگو کے بنا ہی بیلینس ختم ہو گیا بالکل اسی طرح انسان کی زندگی کا بیلینس 60،70 سال ہے اوسطا وہ بھی اگر کوئی جی جائے تب تک ورنہ آخری لمحے کب اپہنچیں نہیں معلوم ۔ ۔ ۔اور اس پر جب آنکھ کھلے تو معلوم چلے کہ جو کما کر آیا ہوں وہ لعب ہے، لہو ہے یعنی بظاہر اچھے کام کیے، محنت کی، کوشش کی پر مقصود تک پہنچنا اس سب کے بیچ رکھا ہی نہ تھا تو سرمایہ حیات برباد ہو گئ مٹھی کھولی تو سب خالی تو اسوقت کیا حالت ہو گی اس انسان کی جو اس گمان میں مبتلا تھا کہ نہ جانے کیا کیا ساتھ لایا ہے اور ہاتھ کھلے تو معصیت، گناہ اور جو بچا ملا تو لہو اور لعب کے شغل تب بندگی رب تک پہنچنے والے اعمال انجام دیکر اس تک پہنچ پانا ممکن نہ ہو گا کیونکہ دی گئ مہلت تو استعمال کر لی اور لعب کو کسب کیا تو اس کا نتیجہ بھی پھر وہی ملیگا ۔ ۔ ۔

تمہاری زندگی بے مقصد، بے ھدف، عبث و ہدر کی جب تک بندگی خدا کی منزل تک تمہارے اعمال تمہیں نہ لے جائیں کہ ہر سانس سے کسب کیے گئے عمل کا ھدف مقصد خلقت ہونا چاہییے اور ھدف خلقت لقائے اللہ ہے،کمال انسانیت ہے، نائب خدا ہونا ہے ۔ ۔ ۔سو ہر فعل کا ھدف بھی یہی ہونا چاہییے وہی عمل نافع، عمل مفید، و باعمل مقصد ہو گا اور انسان اس بات کو احساس کرے کہ بظاہر اچھا عمل جیسے تعلیم حاصل کرنا، نماز، عبادت وغیرہ بھی لعب ہو سکتے ہیں کیونکہ انسان صرف ان سے لزت کشید کر رہا ہے عمل کی انجام دہی سے نہ کہ لقائے رب اسکی منزل ہے ۔ ۔ ۔

جیسا کہ اقبال رح فرما گئے ہیں کہ” خودی ” کی تولید مقصد سے زندہ ہوتی ہے، کہ اگر ھدف نہ ہو تو تڑپ نہیں ملتی، تڑپ نہ ہو تو آرزو کا سفر ممکن نہیں اور آرزو و تڑپ کے سفر کے بنا عمل محض لعب رہ جاتا ہے کہ جیسے تعلیم حاصل کرے، لزت کے، ڈگری ہنر لے پر ھدف رب کی بندگی اسکی قربت اسکی بندگی نہ ہو تو ہر بہترین عمل، محنت، کوشش، کام سب عبث کی حیثیت پا لیتا ہے اس لیے بہت اہم ہے کہ انسان اپنے وجود کی ہر فعالیت کو مقصود تک ہر اعتبار سے پہنچ آئے کہ یہی عمل نافع ہے ورنہ بوجھ اور تھکان کے انبار کے سوا اور خالی کتاب حیات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY