ایک گھڑونجی پر ہی کیا موقوف بہت سے ظروف ۔کھانے کردار بھولی بسری داستان بن کر رہ گئے مٹی کے اورجستی چولہے،پھونکنی،مشک اورماشکی کہ بڑی بڑی مشکیں بھر کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے اورصبح سویرے بازار میں چھڑکاو کرتے جاتے اور مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو اٹھا کرتی ۔دکانداروں کے ہاتھ میں ترازو اورسیر پاو چھٹانک کے باٹ ہواکرتے اور پیسے کبھی کبھی کھوٹے نکل آتے تو دکاندار چیز دینے سےانکارکردیتا کہ یہ تو کھوٹا سکہ ہے۔دکانوں پر دیسی گھی پنجابی گھی کے نام سے بکتا اور بڑے بڑے کنستر دیسی گھی پنجابی گھی کے پڑے ہوتے۔اس کے مقابلے میں ڈالڈا کوبہت کمتر سمجھا جاتا تھا گھروں میں مردوں کی حاکمیت اور رعب داب ایسا تھا کہ انکے گھر آتے ہی مودبانہ سی خاموشی چھا جاتی ۔کھانا پہلے مرد کھا لیتے تو تب خواتین کھاتیں لہذا ڈیڈی کے آنے پربھی سب بہت خاموشی سے بیٹھ جاتے ۔گفتگو آہستہ آواز میں کی جاتی ۔کھانا لگانے سےپہلے پوچھا جاتا اگر جواب اثبات میں ہوتا توخالہ ایک ہاتھ میں صراحی نما بڑا سا منقش آفتابہ اور دوسرے ہاتھ میں چلمچی لے کر آتیں اورجھک کر نیم گرم پانی سے ہاتھ دھلواتیں۔کندھے پر رکھاتولیہ پیش کرتیں اور پھر کھانے کی سینی لا کر میز پر رکھتیں اور کمرے کے باہربرآمدے میں موجود رہتیں کہ اگر کسی چیز کی ضرورت پڑے تو۔۔۔
کھانا کھانے کے بعدایک بار پھر چلمچی لا کر ہاتھ دھلاے جاتے ۔اور اگر کسی کے گھر مہمان بن کر جاتے تومیزبان اسی انداز سے عزت وتکریم کے ساتھ ہاتھ دھلواتے ۔یہ تہذیبی روایت تھی ۔بھلاٹشو پیپر کب ہوتے تھے ۔جیب میں رومال لازمی ہوتے اکثر خواتین کڑھے ہوے رومال رکھتیں ۔بازار میں بھی انواع و اقسام کے خوبصورت رومال دستیاب تھے تحفتا”بھی دیے لیے جاتے۔اکثر لڑکیاں اپنے منگیتر یامحبوب کےنام کےنام کاپہلاحرف کاڑھ کر پیش کرتیں ۔

بچوں کی قمیضوں پربھی مائیں سیفٹی پن کے ساتھ رومال ٹانک کر رکھتیں ۔اب نہ رومال ہیں نہ رال ٹپکاتے بھولے بھالے سے بچے ۔کہ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ۔
میں اور جگنو جس ماحول میں پل رہے تھے ۔وہاں ہمارے لئے ناز و نعم بھی تھے آسائشیں بھی تھیں ۔مگر پابندیاں بہت تھیں آزادی کافقدان تھا ۔گلی میں کھیلنے والے بچوں کے ساتھ کھیلنے کی قطعی اجازت نہیں تھی ۔بچے گلی ڈنڈا کھیلتے پتنگیں اڑاتے بلورے بنٹے کھیلتے مگر ہمارے گھر والوں کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ گندے نہ پڑھنے والے بچوں کے مشاغل ہیں ۔گلی میں کھیلنے والے بچے گالی گلوچ اور فضول باتیں کرتے ہیں ۔لہذا ان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔میں تو پہلے ہی آنہ لائبریری سے لائی گئی کتابوں کوہ قاف کی پریوں کے دیس کی تخیلاتی دنیا میں یوں مگن تھی کہ پھر نہ کبھی گلی میں کھیلنے کا خیال آیا نہ ہی سکول میں کسی کھیل میں دل لگا ایک آدھ دفعہ گڑیا کی شادی میں شرکت کی ۔ہنڈیا بنائی ۔مگر دل نہ لگا ہمارے زمانے سکولوں میں گرل گائیڈ کا پروگرام ہوتا تھا اس میں کچھ عرصہ بلیو برڈ رہی اب یاد نہیں کہ کیوں اس کو بھی خیر باد کہا ۔کھیلوں سے کبھی کوئی لگاو نہیں رہا ۔کہ لفظ ومعنی کے اسیر جو ہو گئے تھے ۔جب کہ جگنو لڑکاتھا اسے یہ پابندیاں کھلتی تھیں تو اس کے لئے
گھر میں کیرم بورڈ وغیرہ کا انتظام کیا ۔سو جب ہم چھٹیوں میں ٹل اپنی امی ابو کے پاس جاتے ۔تو جگنو کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کس طرح وہ اپنی آزادی کاجشن مناے ۔۔

دوچھوٹے بھائیوں کے ساتھ سارادن باہر کھیلتا رہتا اور جی بھر کر آزادی کی اس فضا سے لطف اندوز ہوتا ۔امی بھی کچھ نہ کہتیں کہ چند دنوں کا مہمان ہے ۔یہاں ہم دونوں مہمان خصوصی کی طرح ہوتے ۔ٹل ہنگو سے 35 یا 40میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔انگریزوں نے اپنی فوجی ضرورت کے تحت ایک اونچے ٹیلے پر قلعہ تعمیر کیا ۔اب یہ قلعہ پاک فوج کے پاس ہے ۔اباجی کے پاس پاک فوج کو خوراک سپلائی کے ٹھیکے اور کینٹین تھی ۔یہ مضبوط قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتاہے ہم لوگ دن میں کئی بار قلعہ کے اندر کینٹین میں سودا سلف کے بہانے جاتے اور واپسی پر بہت ساری ٹافیاں بسکٹ وغیرہ لے کر آتے ۔1971 کی جنگ اوربنگلہ دیش بننے کے بعد بنگالی قیدی اسی قلعہ میں نظربند تھے ۔انگریزوں نے دفاعی نقطہ ءنظر سے ٹل کو چھاونی کا درجہ دیا ۔یہاں افغان فوج کے ساتھ کئ جنگیں بھی ہوئیں ۔قلعہ سے باہر انگریزوں کے ہی بناے ہوے چندگھر تھے ۔1965 کی جنگ میں زیر زمین بڑے کمرے جتنی بڑی بڑی خندقیں دریافت ہوئیں جسے فوج نے صاف کروا کر لوگوں کے لیے کھول دیا ۔ہمارے گھر کے سامنے ہی چھوٹا سا پرسکون ریلوے اسٹیشن تھا کہا جاتا ہے 1902 میں کوہاٹ سے ٹل چھاونی تک سرکار نے یہ ریلوے لائن بچھائی تھی۔ریل پر پشاور سے کراچی تک سفر کیا ہے مگر کوہاٹ سے ٹل تک ریل کاسفر حسین وجمیل نظاروں سے پر تھا ۔چشموں اور باغوں میں سے گزرتی ہوئی ریل گاڑی کا سفر جیسے سپنوں کاسفر کہیں کہیں تو گاڑی ایسے گھنے باغات وجنگلات سے گزرتی کہ شاخیں ڈبےکو چھوتیں افسوس اب اس ترقی یافتہ دور میں یہ ریلوے لائن بند کر دی گئ یہ بھی ہماری حکومتوں کے کارنامے ہیں کہ نئے راستے بنانے کی بجائے موجود لائنوں کو بھی بند کر دیا ۔
اوہ بات کہاں سے کہاں نکل گئی تو اکثر بذریعہ ریل ہم ٹل پہنچتے تو وہاں موجود دس پندرہ گھروں کے بچے استقبال کو موجود ہوتے۔انہی میں سے ایک دو بچے امی کو ذرہ (خوشی کی خبر )دینےبھاگ پڑتے ۔گھر کے قریب ہوتے تو محسوس ہوتا کہ دیوار کے ساتھ لگی کئ نگاہیں ہمارے اوپر مرکوز ہیں تو قدم اٹھانے دوبھر ہو جاتے ۔گھر تک پہنچتے پہنچتے بچوں کا ایک ہجوم ہمارے ساتھ ساتھ ہوتا ۔امی اور بہن بھائی پھولے نہ سماتے ہفتہ دس دن مہمان نوازی اورخاطر داری میں ہی گزرتے کمرے کے اندر اندر ہی آتشدان اور چمنی بنی ہوئی تھی امی دن کو باہر اور رات کا کھانا اورناشتہ کمرے کے اندر لکڑیاں جلا کر پکاتیں ہم چارپائیوں اور چوکیوں پر اردگرد بیٹھے ہوتے۔اورادھر بیٹھ کر ہی گرما گرم کھانوں سےلطف اندوزہوتے ۔گھر میں بنا خالص دیسی گھی اور چیڑ کی پنیاں، دھنیا، حلوے پتیسے پارا چنار کے خاص چاولوں کا شولہ ڈھیر سارے گوشت میں بناہوا ۔اتنا لذیذ کہ بس انگلیاں چاٹتے رہ جائیں ۔منگل بدھ کو مچھلی و مرغی پکتی امی فرائی مچھلی کے ساتھ ساتھ سالن والی مچھلی بھی بناتیں ۔اورڈھیر سارے انڈوں کا خاگینہ گھر کے پچھواڑے ایک کمرے میں بکریاں اورمرغیاں دیکھ بھال کے لئے ایک ملازم ہوتا ۔ شام کو بکریاں چر کر آتیں تو مجھ سے چھوٹی بہن برتن لے کر دودھ دوہتی وہ اتنی تیزی اور مہارت سے ہاتھ چلاتی کہ مجھے رشک آنے لگتا ۔پھر اکثر وہ تندور پر روٹیاں بھی لگالیتی مجھے ندامت ہونے لگتی کہ مجھے ایسے کوئی کام نہیں آتے تھے مگر ہم کیاکرتے کہ خالہ ہمیں کوئی ایسا کام نہ کرنے دیتی۔سو آج بھی ہمیں تنور پر روٹی پکانی نہیں آتی ۔ہفتہ گزرتا کہ ڈیڈی کے خط اور جواب آجاتا کہ ہمارے بغیر گھر سونا سونا ہے سوہم لوٹ آتے ۔اداس اداس سے پھر ایک دو دن میں اپنی پرانی ڈگر پر زندگی چل پڑتی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY