فروری4. 2010
” زمانہ قبل از مسیح اور وبایئں “

جمعہ کی رات دھیرے دھیرے بیت رہی ہے
میرے میز پر کتابیں ۔۔اخباریں اور بکھری پڑی ہیں
اسی میز پر ڈیسک ٹاپ بھی ہے
گوگل میں سرچ کئے ہوئے کئی مضامین بھی الگ الگ کھلے پڑے ہیں
میں وبائی امراض کے بارے میں پڑھنا چاہتی تھی
اس لیئے بہت ہی چنیدہ چنیدہ پڑھ رہی ہوں
اور ۔۔۔۔۔ حیران ہو رہی ہوں
انسانی تاریخ تو
بیماریوں اور وباؤں کے پھوٹنے سے بھری پڑی ہے
تاریخ کی کتابیں تو یہ بھی بتاتی ہیں
انسانوں پر ایسا وقت بھی آیا تھا
یوں لگتا تھا ۔۔۔ جیسے
کاروبار حیات کا ہر سلسلہ اب ختم ہو جائے گا
زمانہ قبل از مسیح
یہی کوئی پانچ ہزار سال پہلے کی بات ہے
ہیمن منغا ‘ اور ’ میاؤزیگوا ‘ میں ایسی وبا پھوٹی تھی
بوڑھے ، بچے ، جوان مرد و زن کو یکجا کرکے زندہ جلا دیا گیا تھا
قبل از مسیح 430
ایتھنز اور سپارٹا کی جنگ کے بعد
پانچ سال تک ایسی وبا پھیلی رہی کہ ایک لاکھ انسان مر گیا
یونانی مورخ تھوسیڈائڈس نے اپنے مضمون میں لکھا
“اچھے بھلے صحت مند لوگوں کو
اچانک سرمیں شدید گرمی کا احساس ہوتا
ان کے چہروں پر لالی چھاتی
آنکھیں سوج جاتیں اور وہ منہ اور ناک سے خون اگلنے لگتے ۔ ۔ ۔“
کوئی ماہر کہتا یہ ٹائفائیڈ ہے اور کوئی کہتا ’ ایبولا وائرس ‘ کا پھیلاؤ ہے
محققین نے یہ بھی لکھا
ایتھنز کے لوگ شہر کے گرد
لمبی دیواروں والے چھوٹے چھوٹے قلعوں میں محصور ہو گئے تھے
اس کے بعد مجھ سے کچھ پڑھا نہ گیا
یوں لگ رہا تھا جیسے زندہ جلنے کی بو آرہی ہو
لمبی طویل دیواروں میں قید لوگ چیخ رہے ہو
لاکھوں لاکھ لوگ مر رہے ہوں
میز پر ۔۔۔۔۔۔سب کچھ بکھرا پڑا ہے
شاید ۔۔۔۔ میں تھک گئی ہوںاشکبار آنکھوں سے بس اتنا ہی پڑھ پائی
زمانہ قبل مسیح ہی میں
حضرت عیسی علیہ السلام کا زمانہ جذام کی وبا سے جڑا تھا
—————————-
” زمانہ بعد از مسیح اور وبایئں “
آج کا دن گھر کے کاموں میں گزر گیا
رات ہوتے ہی اپنی میز پر آبیٹھی ہوں
کتابیں ۔۔ مضامین ۔۔ گوگل
وہیں سب کچھ پڑا تھا جہاں کل رات چھوڑکر اٹھی تھی
مجھ پر منکشف ہو رہا ہے
انتونیئین وبا 165 سے 180 ء تک انسانی جانوں کو ہڑپ کرتی رہی
جب رومن فوجیں مہمات سے واپس لوٹیں
تو اپنے ساتھ ’ وائرولا ‘ بھی لے آیئں
چیچک سے 50 لاکھ سے زیادہ لوگ مر گئے
رومن سلطنت کے زوال کے اسباب بن گئے
سِپرین وبا روم میں ایسی پھیلی کہ ہر روز پانچ ہزار لوگ مر جاتے
مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں چونے کی موٹی تہہ تلے دفنا دیا جاتا
ایک مقام ایسا بھی آیا جب وبا کے شکار لوگوں کو اجتماعی زندہ جلا دیاگیا
تیونس کے شہر کارتھیج کے بشپ سینٹ سِپرین نے اپنی یاداشتوں میں لکھا
” بیمار کے پیٹ سے مسلسل مواد خارج ہوتا رہتا
اور ان کے منہ اور دہنوں کے زخموں سے آگ سی نکلتی محسوس ہوتی ۔ ۔ ۔ “
’ جسٹینین ‘وبا اگلی بڑی وبا تھی
اس سے اُس وقت کی دنیا کی دس فیصد آبادی متاثر ہوئی
لوگوں کی بغلوں اور جسم کے دوسرے حصوں گلٹیاں نکل آتی اور مر جاتے
جو 541 ء میں پھیلی اور سال بھر بازنطینی سلطنت کوخراج دینا پڑا
اس وقت کا شہنشاہ جسٹینین
خود وبا سے بچ نکلا پر سلطنت کو زوال سے نہ بچا سکا
چودویں صدی کی سب سے بڑی وبا
کالی موت ( بلیک ڈیتھ ) کو کون بھول سکتا ہے
جو پسوﺅں سے پھیلی اور ایشیا سے یورپ میں پہنچی تھی
جس نے 1346 سے 1353 تک آدھا یورپ ویران کر دیا
مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا تھا
مورخ لکھتے ہیں ۔۔
بلیک ڈیتھ یورپ میں بہت بڑی تبدیلی لے کر آئی
جب کام کرنے والے نایاب ہو گئے تو غلامی ختم ہو گئی
بلیک ڈیتھ کے دو سو سال بعد
’ کوکولیزٹل وبا نے قحط کے زمانے میں میکسیکو اور وسطی امریکہ کو آلیا
1545 سے 1548 تک 15 ملین لوگ ایسے مر گئے جیسے تھے ہی نہیں
کہتے ہیں یہ وبا “ سالمونیلا ‘ سے پھیلی تھی جس کی علامات ٹائفائیڈ جیسی تھیں
اف ۔۔ یہ وبا تو اب بھی پھیل سکتی ہے
خدا نہ کرے ۔۔۔۔۔۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں
سوچ رہی ہوں
شاید کہ ۔۔
کچھ عالمی وبایئں بھی ہوں
جنہیں جاننا کورونا کو سمجھنے کے لئے ضروری ہو
کل ضرور دیکھونگی
یوں جیسے ایک اور باب نیا کھلنے کو ہے !
ڈاکٹر نگہت نسیم
—













