ساز بے آواز ہے مضراب چوری ہوگیا۔خالد اقبال یاسر

0
231

ساز بے آواز ہے مضراب چوری ہوگیا
میرے سینے سے دل بیتاب چوری ہوگیا

کوئ آہٹ میری کچی نیند اڑا کرلے گئی
درمیاں ہی سے سہانا خواب چوری ہو گیا

چودھویں کی رات سارے میں اماوس پھرگئی
چاندنی واپس ہوئ میتاب چوری ہو گیا

جزوی یا پورے گین کی پیش بینی کے بغیر
دن دیہاڑے مہر عالم تاب چوری ہو گیا

آسماں کی وسعتوں میں تارے لو دیتے رہے
ساحلوں سے دور اصطرلاب چوری ہو گیا

گھونٹ جس کے پانیوں کے دیسی گھی کے گھونٹ تھے
پٹ چکا ہے وہ کنواں دولاب چوری ہو گیا

ہنس اترنے کے لیے پر پھڑپھڑاتے رہ گے
ہو گیا لبریز جب تالاب چوری ہو گیا

کم طلب آزادیوں کی راہ پھر کھوٹی ہوئی
آتے آتے یاسر استصواب چوری ہو گیا

خالد اقبال یاسر

SHARE

LEAVE A REPLY