اکادمی ادبیات کو ایک زمانے میں اتنا اہم سمجھا گیا کہ اس کے صدر دفتر کی عمارت کےلیے سی ڈی اے نے شارع دستور پر زمین مختص کی ۔ اس وقت کے صدر نشین اور اردو کے مقبول ترین ادیبوں میں شامل شفیق الرحمٰن اتنے سرد و گرم چشیدہ تھے کہ انھوں نے دفتر کے لیے اقتدار کے ایوانوں کے سایوں سے قدرے محفوظ فاصلے پر ایک 2.2 ایکڑ کا پلاٹ منتخب کیا۔ دفتر کی تعمیر انھی کے دور میں شروع ہو کر تکمیل کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ان کے ساتھ غلام ربانی آ گرو ناظم اعلیٰ تھے۔ پریشان خٹک اور احمدفراز بھی بیچ میں صدر نشین رہے اور ان کے بعد آ گرو مرحوم غلام مصطفے’شاہ کی وزارت کے دور میں اکادمی کے صدر نشین کے عہدے پر فائز ہوئے جن کے ساتھ وہ سندھ یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کے وقت پرو وائس چانسلر رہ چکے تھے۔ عمارت مکمل تھی اور ملازمین دفتر کی اس میں منتقلی کےلیے فطری طور پر بےچین تھے کیونکہ دفتر کی اپنی عمارت ملازمین میں ملازمت کے تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اکادمی کی انتظامیہ دفتر کی منتقلی میں تب نامعلوم وجوہات کی بنا پر لیت و لعل سے کام لے رہی تھی۔ منتقلی کے اہتمام کےلیے روز کوئی مجلس بنتی۔ ان دنوں ایچ ایٹ کا سیکٹر اتنا آباد نہیں تھا اس لیے دو تین جانب مصروف شاہراہوں سے اس عمارت کا فیصلہ بار بار ناپا جاتا۔ پریشان خٹک دفتر جلد منتقلی کے حق میں تھے اگرچہ اکادمی سے جا چکے تھے۔ انھوں نے وزیر تعلیم فخرامام سے اس بارے میں رابطہ بھی کیا مگر دفتر وہیں کا وہیں کرائے کی عمارت ہی میں رہا۔ احمد فراز اس لیے منتقلی کے خلاف تھے کہ اس کے راستے میں اسلام آباد کا قبرستان پڑتا تھا اور آتے جاتے قبروں پر لامحالہ نظر پڑتی تھی۔ احمد فراز اب اسی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ مایوسی کے عالم میں ایک دن میرے ایک عزیز دوست طاہر پرواز میری طرف آ نکلے۔ ان سے منتقلی میں حائل رکاوٹوں کے متعلق گفت و شنید کرتے کرتے طے ہوا کہ اگلے روز اس عہد کے موثر روزنامہ جنگ میں یہ خبر لگوائی جائے کہ وزیر اعظم پاکستان محترمہ بےنظیر بھٹو 19 اپریل کو اکادمی ادبیات پاکستان کی نئی عمارت کا افتتاح کریں گی۔ تب ہمارے ہردلعزیز شاعر افتخار عارف ناظم اعلیٰ بن کر آ چکے تھے اور وہ بھی دفتر کی مستقل عمارت میں منتقل ہونے سے نہ جانے کیوں گریزاں تھے۔ جونہی افتتاح کی خبر چھپی، پورے دفتر میں ہلچل مچ گئی۔ دفتر کی افسر تعلقاتِ عامہ نکہت سلیم کے ذمے اس خبر کی تصدیق لگائی جا چکی تھی کہ میں بھی صورت حال کا جائزہ لینے افتخار عارف کے ہاں پہنچ گیا۔ میری موجودگی میں نکہت سلیم نے آ کر اس جھوٹی خبر پر یوں مہر تصدیق ثبت کر دی کہ یہ اطلاع وزیراعظم کے دفتر سے آئی ہے۔ تصدیق ہوتے ہی ہنگامی طور پر نقل و حمل کے اسباب مہیا ہوئے اور اگلی صبح پورا دفتر اپنی عمارت میں منتقل ہو چکا تھا جس کا باقاعدہ افتتاح آج تک نہیں ہوا اور اس کی چنداں ضرورت بھی نہ تھی البتہ اس کے سنگ بنیاد کے طور پر ایک مربع فٹ کا ماربل دفتر کے پورچ کے ایک ستون میں نصب کیا گیا جس پر ذوالفقار علی بھٹو کا نام سنگ بنیاد کی تاریخ کے ساتھ کندہ کیا گیا تھا۔ بہت عرصے بعد نذیر ناجی نے اپنی صدرنشینی کے زعم میں اسی ستون کے رنگ کی اینٹوں سے اس پتھر کو چھپا دیا۔ ایک دن میں نذیر ناجی کی مہربانی کے طفیل دفتر کے لان میں حسبِ معمول دھوپ سینک رہا تھا کہ نذیر ناجی صاحب پورچ کی سیڑھیاں محترم احمد ندیم قاسمی کی معیت میں اترے۔ میں سلام دعا کےلیے بڑھا تو قاسمی صاحب نے پوچھا کہ یہاں ایک پتھر نصب تھا وہ کہاں گیا۔ میں نے ستون میں ایک مربع فٹ کی جگہ ابھری ہوئی محسوس کی تو انھیں بتایا کہ وہ پتھر ان اینٹوں کے نیچے ہو گا۔ ادھر منصورہ احمد اپنی کار سے میرے لیے اپنا تازہ مجموعہ لینے چلی گئی۔ نذیر ناجی میری اس بے ساختہ جسارت پر بہت جزبز ہوئے۔
درمیان میں کہیں اس عمارت کی تعمیر کا سہرا اپنے سر سجانے کےلیے دفتر کے استقبالیے میں ایک اور پتھر نصب کیا گیا تھا جس میں افتخار عارف نے اپنا نام خلاف واقعہ شامل کر لیا۔ بعد ازاں جب وہ مقتدرہ قومی زبان کا صدر نشین بنا تو اس کا سنگ بنیاد اکھاڑ پھینکا جو ڈاکٹر جمیل جالبی نے رکھا تھا۔۔۔ بری تربیت اور نیم خواندگی سے ایسی ہی کردار سازی ہوا کرتی ہے جو ایسے کرداروں سے تاریخ مسخ کرواتی ہے۔
یہ عقدہ کہ اس دفتری عمارت میں منتقلی کس لیے ملتوی ہوتی رہی، مجھ پر اس وقت کھلا جب نومبر 1999 میں اکادمی کی باگ ڈور میں نے خود سنبھالی۔












