سعودی حکومت کا مستحسن اقدام

0
649

کورونا وائرس کی شکل میں آج ساری دنیا پر جو آفت نازل ہے، انسانی زندگیوں کو جس سنگین صورتحال کا سامنا ہے اور پوری عالمی معیشت جس بری طرح ڈوب رہی ہے، چند ماہ پہلے تک اس کا تصور بھی محال تھا۔ بیشتر کاروباری سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے بےروزگاری کا سیلاب امنڈ آیا ہے۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں برسرروزگار لاکھوں پاکستانی محنت کشوں اور ماہرین کی ملازمتیں بھی ختم ہورہی ہیں اور ان کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان پریشان کن حالات میں سعودی حکومت نے مملکت کی تمام کمپنیوں کو مزید تین ماہ تک پاکستانی کارکنوں کی برطرفی روکنے کی ہدایت کرکے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاک سعودی تعلقات اندیشۂ سودو زیاں کے عام دنیاوی پیمانوں سے بالاتر ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اخوت اور اخلاص کے لازوال رشتے استوار ہیں۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سیّد ذوالفقار بخاری اور سعودی وزیر برائے افرادی قوت عبداللہ بن نصیر کے درمیان گزشتہ روز وڈیو لنک پر ہونے والے رابطے میں سعودی وزیر نے تین ماہ تک پاکستانی محنت کشوں کی ملازمت برقرار رہنے کی یقین دہانی کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ دسمبر تک پاکستانی مزدوروں کے ویزوں میں توسیع بالکل مفت ہوگی۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ پٹرول پرانحصار کی حامل معیشتوں کیلئے حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، تیل کی قیمتیں تیاری کی لاگت سے بھی بہت نیچے آتی جارہی ہیں اور اس طرح تیل کی تجارت تیزی سے گھاٹے کا سودا بنتی جارہی ہے۔ لہٰذا کورونا کی تباہ کاریاں جلد نہ رکنے کی صورت میں بہت بڑی تعداد میں بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کی واپسی کا خدشہ حقیقت بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں لوگوں کو اپنی روزی آپ کمانے کے قابل بنانے کی اسکیموں کا متعارف کرایا جانا ضروری ہوگا اور اس کیلئے بلاتاخیر سوچ بچار اور اقدامات وقت کا ناگزیر تقاضا ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY