حُسین شناسی کا سفر۔23۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
717

تییئسویں قسط

امام عالی مقام علیہ السلام نے
علم والوں کو آیئنہ دکھاتے ہوئے فرمایا
کیا تم نہیں جانتے
ہر شہر میں
ان کا ایک ماہر خطیب منبر پر بیٹھا ہے
زمین میں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے
اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں
یعنی جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں
عوام ان کے غلام بن گئے ہیں اور اپنے دفاع سے عاجز ہیں
حکام میں سے کوئی حاکم تو ظالم، جابر اور دشمنی اور عناد رکھنے والا ہے
اور کوئی کمزوروں کو سختی سے کچل دینے والا ہے
ان ہی کا حکم چلتا ہے
جبکہ
یہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز جزا کو
تعجب ہے اور کیوں تعجب نہ ہو!
ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے
اس کے مالیاتی عہدیدار ظالم ہیں
اور صوبوں میں اسکے مقرر کردہ گورنر
مومنوں کے لئے سنگ دل اور بے رحم ہیں‌
آخر کار
الله ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا
جن کے بارے میں
ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے
اور ۔۔ وہی ہمارے اور ان کے درمیان
پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا
امام نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا
بارالہا!
تو جانتا ہے
کہ
جوکچھ ہماری جانب سے ہوا
بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں
وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے
اورنہ ہی
یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے
بلکہ
صرف اس لئے ہے
کہ
ہم چاہتے ہیں
کہ
تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کر دیں
اور تیری مملکت میں اصلاح کریں
تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو
اور جو فرائض ، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو
اب اگر
آپ حاضرین سے خطاب نے
ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو
ظالم آپ پر اور زیادہ چھا جائیں گے
اور نور نبوت کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے
ہمارے لئے تو
بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے
اور اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے
دو سال قبل کے تمام تر خدشات سچ ہو رہے تھے
یوں لگ رہا تھا
جیسے امام پاک حسین علیہ السلام نے
مقام منا پر خطبے کی صورت
کرب و بلا کی پیشن گوئی کی تھی
اور آج تین محرم تھی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY