تییئسویں قسط
امام عالی مقام علیہ السلام نے
علم والوں کو آیئنہ دکھاتے ہوئے فرمایا
کیا تم نہیں جانتے
ہر شہر میں
ان کا ایک ماہر خطیب منبر پر بیٹھا ہے
زمین میں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے
اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں
یعنی جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں
عوام ان کے غلام بن گئے ہیں اور اپنے دفاع سے عاجز ہیں
حکام میں سے کوئی حاکم تو ظالم، جابر اور دشمنی اور عناد رکھنے والا ہے
اور کوئی کمزوروں کو سختی سے کچل دینے والا ہے
ان ہی کا حکم چلتا ہے
جبکہ
یہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز جزا کو
تعجب ہے اور کیوں تعجب نہ ہو!
ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے
اس کے مالیاتی عہدیدار ظالم ہیں
اور صوبوں میں اسکے مقرر کردہ گورنر
مومنوں کے لئے سنگ دل اور بے رحم ہیں
آخر کار
الله ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا
جن کے بارے میں
ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے
اور ۔۔ وہی ہمارے اور ان کے درمیان
پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا
امام نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا
بارالہا!
تو جانتا ہے
کہ
جوکچھ ہماری جانب سے ہوا
بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں
وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے
اورنہ ہی
یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے
بلکہ
صرف اس لئے ہے
کہ
ہم چاہتے ہیں
کہ
تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کر دیں
اور تیری مملکت میں اصلاح کریں
تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو
اور جو فرائض ، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو
اب اگر
آپ حاضرین سے خطاب نے
ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو
ظالم آپ پر اور زیادہ چھا جائیں گے
اور نور نبوت کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے
ہمارے لئے تو
بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے
اور اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے
دو سال قبل کے تمام تر خدشات سچ ہو رہے تھے
یوں لگ رہا تھا
جیسے امام پاک حسین علیہ السلام نے
مقام منا پر خطبے کی صورت
کرب و بلا کی پیشن گوئی کی تھی
اور آج تین محرم تھی
جاری ہے













