حُسین شناسی کا سفر۔26۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
729

قسط چھبیس

امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد
حضرت حسن علیہ السلام
امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے
تقریبا 40 ہزار سے زائد افراد بیعت سے مشرف ہوئے
جب معاویہ تک یہ خبر پہنچی
کہ
امام حسن مسند خلافت پر بیٹھ گئے ہیں
تو اس نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں
تاریخ گواہ ہے
کہ
معاویہ نے
ایک لاکھ پچاس ہزار کے لشکر کو
امام حسن علیہ السلام کے خلاف جنگ کے لئے روانہ کیا
امام حسن ع نے
سپاہ معاویہ کی پیش قدمی روکنے کے لئے
لشکر اسلام کو
عبید اللہ ابن عباس کی قیادت میں شام روانہ کیا
دونوں فوجوں کا آمنا سامنا “مسکن” کے مقام پر ہوا
ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے
کہ
امام حسن علیہ السلام تک خبر پہنچی
کہ
عبید اللہ دس لاکھ درہم کے عوض
اپنے آٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ سپاہ معاویہ میں شامل ہو گیا ہے
اس واقعہ کے بعد لشکر امام کے حوصلے پست ہو گئے
عبید اللہ کے بعد لشکر کی سپہ سالاری قیس بن سعد کو سونپی گئی
معاویہ نے
قیس کو بھی دھوکے اور لالچ کے ذریعے سے
اپنی طرف بلانے کی کوشش کی
لیکن قیس بن سعد
نیک اور با بصیرت انسان تھے معاویہ کے چنگل میں نہ آئے
معاویہ نے
فقط اس پر اکتفا نہ کیا
بلکہ
امام ع اور اس کے ساتھیوں کے درمیان
رنجشیں دڑاڑیں ڈالنے کے لئے سر توڑ کوششیں کیں
معاویہ اپنے جاسوسوں کے زریعے مختلف افواہیں پھیلاتا
کبھی کہا جاتا
کہ
قیس بن سعد
امام حسن علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ کر معاویہ کے ساتھ مل گیا ہے
کبھی افواہ پھیلائی جاتی
کہ
امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کر لی ہے
اسی دوران
ایک بار
معاویہ نے کچھ افراد کو امام حسن ع سے ملاقات کے لئے بھیجا
وہ لوگ امام حسن ع سے ملاقات کے بعد
جب خیمہ سے باہر آئے تو
اعلان کر دیا
کہ
امام حسن نے صلح کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے
اس افواہ کو سنتے ہی
لوگ سخت غصہ میں آ گئے
انہوں نے امام ع پر حملہ کر دیا
یوں
امام حسن علیہ السلام کی
قلیل فوج بھی آپس میں تقسیم ہو گئی
امام حسن علیہ السلام کے دور حکومت کی سب سے بڑی مشکل
خود معاویہ تھا
جو شام کی حکومت پر زبردستی مسلط تھا
وہ امیرالمومنین بننے کے خواب دیکھ رہا تھا
اور اپنی بادشاہت ہر جگہ قائم کرنا چاہتا تھا
تاریخ میں معاویہ کے بہت سے سیاہ کارناموں کا ذکر ہے
لیکن جو دو اہم ترین ہیں
ان سے ملت اسلامیہ بٹوارے کا گھر بن گیا
ایک جو سیاہ کاری کی
وہ ہے
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام پر لعن طعن کرنے کا سرکاری حکم دینا
بحکم معاویہ
شام میں خطباء اور مولوی کھلے عام امیرالمومنین پر لعن کرتے تھے
یہ لوگ اس عمل کو ثواب سمجھ کر انجام دیتے
اس لعن طعن کا نتیجہ
آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں
جو داعش اور تکفیریت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے
اس کا دوسرا سیاہ کارنامہ یہ تھا
کہ
اس نے جعلی حدیثوں کی فیکٹری لگائی ہوئی تھی
معاویہ احادیث لجھنے والوں کو
بہت بڑی رقم دیتا تھا
جو معاویہ کے حق میں جعلی احادیث گھڑتے تھے
ایسی حدیثیں
جو اہل بیت کی شان میں ہوتی تھیں
ان کو بنی امیہ کی طرف نسبت دی جاتی
اوائل اسلام میں یہ ایک بہت بڑا ظلم تھا
جو معاویہ نے تاریخ میں انجام دیا
صد افسوس
کہ
لوگوں نے بھی ایسی بدعتوں کو قبول کر لیا
حال یہ تھا
کہ
معاویہ نے
جمعہ کی نماز بدھ کو پڑھا دی اور لوگوں نے کوئی اعتراض نہ کیا
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے
کہ
حکومتی مشینری اور اس زمانے کے ذرائع ابلاغ
کس قدر لوگوں پر اثر انداز تھے
کہ
لوگ حکومت اور معاویہ کے ہر کام کو عین اسلام سمجھتے تھے
معاویہ نے
جس طرح سے مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کو ستایا تھا
اسی طرح مام حسن علیہ السلام کو بھی تنگ کیا
ان کی حکومت کو کمزور کیا
ان کے لشکر کے
سپہ سالاروں سالاروں کو فریب اور لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا
منافقین کے زریعہ سے فوج کو تقسیم در تقسیم کیا
آخر میں معاویہ نے
تیسرا کام جو کیا
وہ ۔۔۔
زبردستی صلح کے لئے امام حسن علیہ السلام کو مجبور کرنا تھا
معاویہ تو امام کے خلاف جنگ کے لئے ہر وقت تیار ترہتا تھا
لیکن امام حسن علیہ السلام کے ساتھی جنگ کو تیار نہ ہوتے تھے
معروف اہل سنت مورخ ابن اثیر
اپنی کتاب “اسد الغاب” میں نقل کرتے ہیں
کہ
امام حسن نے
ایک خطبہ میں
لوگوں کو معاویہ کے خلاف جنگ و جہاد کی دعوت دی
اور فرمایا
“اگر جنگ و جہاد کے لئے تیار ہو تو اپنی تلواروں کو نیام سے نکالو
اور ۔۔ اگر
دنیاوی زندگی پسند کرتے ہو
تو
واضح بتا دو کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہو؟ “
اکثریت نے بلند آواز سے کہا
” البقی البقی” یعنی ہم باقی رہنا چاہتے ہیں “
ایسی صورت حال میں امام مجبور تھے
کہ
معاویہ کے ساتھ صلح کر لیں
کیونکہ
امام حسن علیہ السلام کے
حقیقی چاہنے والوں اور پیروکاروں کی تعداد بہت محدود تھی
شیخ مفید اپنی کتاب ” الارشاد” میں لکھتے ہیں
“ امام کے پاس صلح کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا
کیونکہ
امام کے ساتھی با بصیرت اور وفادار نہیں تھے
جو لوگ تھے
وہ تیار بیٹھے تھے کہ امام ع کو معاویہ کے حوالے کر دیں
حتی امام کے قریبی رشتہ دار
اور فوج کے سپہ سالار عبید اللہ ابن عباس نے بھی
امام ع کو دھوکہ دیا اور معاویہ کے ساتھ مل گیا
امام کے پاس دو راستے تھے
یا
معاویہ کے خلاف جنگ کرتے
جس میں کامیابی کی کوئی امید نہ تھی
یا ۔۔۔۔۔ صلح کر لیتے
سو ۔۔۔
امام حسن علیہ السلام نے
مصلحت اسلام کے تحت معاویہ کے ساتھ مجبورا صلح کر لی
تاکہ
اس زریعہ سے معاویہ کے چہرے سے نقاب اتاریں
اور اس کی سازشوں کو بے نقاب کریں “
آخر کار
جب امام حسن علیہ السلام نے دیکھا
کہ
اس صورت حال میں صلح کے علاوہ چارہ نہیں
تو امام ع اس وقت کے حالات کے مطابق مجبورا صلح کے لئے تیار ہو گئے
لیکن صلح کے لئے چار شرائط رکھیں
اور فرمایا ۔۔
“حکومت معاویہ کے سپرد اس شرط پر کی جائے گی
کہ
پہلی شرط
معاویہ کتاب و سنت اور خلفائے راشدین کی سیرت پر عمل کرے گا
دوسری شرط
معاویہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا
تیسری شرط
معاویہ منبروں پر امام علی علیہ السلام پر لعن طعن کو بند کروائے گا
چوتھی شرط
عراق، شام، حجاز، یمن اور ایران سمیت تمام لوگوں کو
امن و امان سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا “
شیخ صدوق کہتے ہیں
کہ
امام حسن ع نے خلافت معاویہ کے حوالے کرتے وقت
اس شرط پر
صلح فرمائی
کہ
معاویہ کو امیر المؤمنین کہہ کر نہیں پکارا جائے گا
امام حسن علیہ السلام
جنہوں نے
جنگ جمل اور صفین جیسی
بہت خطرناک جنگیں لڑی تھیں
ان جنگوں میں سپہ سالار تھے
انہوں نے اپنی صلح کو
صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی
اور فرمایا
“ میری معاویہ سے صلح
اس طرح ہے
جس طرح
رسول اللہ نے مشرکین کے ساتھ صلح کی
تا کہ اسلام کی حفاظت کی جا سکے “
صلح کے بعد
امام حسن علیہ السلام
منصب خلافت پر 6 ماہ فائز رہنے کے بعد
سنہ 41 ہجری کو مدینہ واپس آ گئے
اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے
مدینہ میں
امام حسن علیہ السلام
علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ
سماجی اور اجتماعی طور پر بھی قدر و منزلت کے حامل تھے
مدینہ میں امام ع نے
لوگوں کی ہدایت اور تربیت کے لئے چند بنیادی اقدامات انجام دئے
آپ ع نے
حقیقی اسلام نام محمدی کی ترویج اور اشاعت فرمائی
لوگوں کو حقیقی اسلام کی تصویر دکھائی
امام حسن علیہ السلام نے
معاویہ کی بدعتوں کو
لوگوں کے سامنے آشکار کیا
اس کی سیاسی پالیسیز پر تنقید کا نشانہ بنایا
امام حسن عیلیہ السلام
نیازمندوں اور محتاجوں کی مدد فرمایا کرتے
جو کچھ بھی ہوتا ان میں تقسیم فرما دیا کرتے
مدینہ میں
امام حسن علیہ السلام کے شاگردوں میں
کئی عظیم صحابی بھی شامل تھے
جن میں
جابر بن عبداللہ انصاری ،عبداللہ ابن جعفر طیار،عبداللہ ابن عباس
حبیب ابن مظاہر،عبد الرحمن ابن عوف ، محمد بن اسحاق
حجر بن عدی، زید بن ارقم ، سلیمان بن صرد خزاعی
کمیل بن زیاد، میثم تمار اور ابوالاسود دوئلی کے نام قابل ذکر ہیں
امامت کے دس سال بعد
جُعدہ بنت اشعث بن قیس کندی
جو حضرت امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھی
اس نے معاویہ کی طرف سے
ملنے والے مالی ہدیہ و یزید سے شادی کے وعدہ کے لالچ میں
امام حسن کو شربت میں زہر دے کر شہید کر دیا
امام حسن علیہ السلام نے
اپنے نانا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوار میں
دفنائے جانے کی وصیت کی تھی
لیکن
بحکم
مروان بن حکم
بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگ
اور ۔۔۔دیگر عوامل کی وجہ سے
آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا
کتنی حیرت کی بات تھی
اشعث بن قیس
امام امیر المومنین علی علیہ السلام (ع) کے قتل میں شریک تھا
اس کی بیٹی جعدہ نے امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا
اور اب اس کا بیٹا محمد بن اشعث
امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں شریک تھا
امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY